جہاز کے اندر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اچانک ایک نقاب پوش خاتون نے جہاز کے کنٹرول روم پر قبضہ کر کے پائلٹ کو کہا ’’یہ جہاز اب فلسطین کی آزادی کے نام ہے! جہاز کا رخ دمشق کی طرف موڑ دو‘‘۔ پائلٹ نے حیرت اور خوف سے اسے دیکھا۔ اس کے سامنے کھڑی لڑکی کے ہاتھ میں بم تھا مگر آنکھوں میں وہ جذبہ تھا جو بارود سے زیادہ دھماکہ خیز تھا۔ ’’مجھے فلسطین کے شہر حیفہ کے اوپر سے گزارو میں اپنا گھر دیکھنا چاہتی ہوں‘‘ اس نے کہا۔ جہاز کے شیشوں سے جھانکتی اس کی آنکھوں میں بچپن کے کھوئے ہوئے دن تیر رہے تھے۔ یہ آزادی کی متوالی پچیس سالہ فلسطینی لڑکی لیلیٰ خالد تھی۔ اسے برسوں پرانی 1948ء کی وہ صبح ابھی تک نہیں بھولی تھی جب حیفہ کی گلیاں اسرائیلی فوج کے جوتوں کی آہٹ اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی تھیں۔ چار سال کی لیلیٰ خالد نے اپنی ماں کو بلکتے دیکھا ’’ہماری زمینیں چھن گئیں۔‘‘ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے ننھے ہاتھوں نے ایک غاصب ٹینک کے شیشے توڑنے کے لیے پہلی بار پتھر اُٹھایا تھا۔ ظلم اور جبر کا نہ رکنے والا یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے چلتا رہا۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر ظلم کی انتہا کر دی۔ خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم یہاں کے سیکڑوں نوجوان، معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے رہے۔ اس دوران اکیس برس کا طویل اور صبر آزما عرصہ گزر گیا اور 29 اگست 1969ء کا وہ دن آ گیا جب ایک بوئنگ 707 جہاز مسافروں کو لے کر اٹلی کے شہر روم سے تل ابیت جا رہا تھا۔ اطلاع یہ تھی کہ اسرائیل کے وزیر اعظم اضحاک رابن بھی اس فلائٹ کے مسافروں میں شامل ہیں۔ جہاز جیسے ہی ایشیا کی فضائی حدود میں داخل ہوا لیلیٰ خالد اور اس کے ساتھی مجاہدین نے جان پر کھیل کر جہاز اغوا کر لیا۔ پائلٹ نے لیلیٰ خالد کے حکم کی تعمیل کی اور جہاز دمشق میں اتار لیا گیا۔ فلسطینی مجاہدین نے مسافروں کو یرغمال بنا کر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ پوری دنیا کی توجہ فلسطینیوں پر صیہونی مظالم کی طرف مبذول ہوئی۔ مذاکرات کے بعد اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور ہائی جیکروں کی بحفاظت واپسی کی شرائط پر تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا۔ دنیا بھر کے ٹیلی وژن چینلوں اور اخبارات نے نڈر اور بہادر لیلیٰ خالد کے انٹرویو نشر اور شائع کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ عالم اسلام کی آنکھ کا تارا بن گئی۔ اُس کی تصویروں کو اتنی شہرت ملی جو اس سے پہلے کسی مسلمان خاتون کو نہیں ملی تھی۔ اس کی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ یورپ میں رہنے والی لڑکیوں نے اس کے سٹائل کو بالوں سے لے کر سکارف تک کو اپنایا۔ اس کامیاب مشن کے بعد اسرائیلی ایجنسیاں اسے ڈھونڈ رہی تھیں مگر وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل تھی۔ ہالی وڈ کی ایڈونچر اور ایکشن سے بھرپور فلموں کے کسی جنگجو کردار کی طرح اس نے پلاسٹک سرجری کرائی، بالوں کا رنگ بدلا اور 6 ستمبر 1970ء کو اپنے ایک ساتھی سے مل کر ایمسٹر ڈیم سے نیویارک جانے والی ایک اور پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے اس بار اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ یہاں اُس کے ساتھی کی غلطی سے ایک مسافر ہلاک ہوا اور جوابی کارروائی میں وہ خود بھی مارا گیا۔ اس طیارے کو برطانیہ کے ایک ائیر پورٹ پر اتار کر لیلیٰ خالد کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس خبر نے دنیائے اسلام میں ہلچل مچا دی مگر ایک مہینہ بھی نہیں گذرا تھا کہ فلسطینی جانبازوں نے ایک اور طیارہ اغوا کر کے یرغمالیوں کے بدلے لیلیٰ خالد کی رہائی کا مطالبہ کیا یوں لیلیٰ خالد کو قید سے رہائی ملی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ فلسطینی مجاہدہ لیلیٰ خالد ایک فلسطینی سکول میں ٹیچر تھی جس نے سکول میں اسرائیلی بم گرنے سے معصوم بچوں کو تڑپتے مرتے دیکھ کر مجاہدہ بننے کا عزم کیا اور پھر گوریلا جنگ کی ایک ایسی تاریخ لکھ دی جو صدیوں کوئی نہیں لکھ سکے گا۔ آج بھی لوگوں کو نقاب پوش گوریلا لڑکی لیلیٰ خالد کی وہ تصویر اچھی طرح یاد ہو گی جس میں اُس کے دائیں ہاتھ میں رائفل اور بائیں ہاتھ میں بم ہوتا تھا۔ 9 اپریل 1944ء کو فلسطین کے علاقے حیفہ میں پیدا ہونے والی لیلیٰ خالد کا بچپن بھی ہر فلسطینی بچے کی طرح غیر محفوظ اور خوف سے بھرپور تھا۔ جس کی وجہ سے چار برس کی عمر میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ اسے جنوبی لبنان منتقل ہونا پڑا۔ اس وقت ان کے والد آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے ساتھ
حیفہ میں ہی رہ گئے تھے۔ آزادی کے ان متوالوں میں نوجوان لیلیٰ خالد بھی شامل تھیں جو اپنے بڑے بھائی کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے 1959ء سے ہی عرب نیشنلسٹ یونین میں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد وہ 1967ء میں قائم ہونے والی پا پولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین سے وابستہ ہو گئیں اور آزادی کے مختلف منصوبوں کے لیے مسلسل کوشاں رہیں۔ جس کا ہدف آزادی کے لیے لڑنے والے فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرانا اور دنیا کو فلسطین کے مسئلہ کی طرف متوجہ کرانا تھا جس میں وہ پوری طرح کامیاب رہیں۔ تاریخ میں لیلیٰ خالد کے عزم، جذبے اور ولوے کیساتھ اُن کی ہمت اور جرأت کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔ اس وقت لیلیٰ خالد 81 برس کی ہیں اور فلسطین کی آزادی کے لیے اب پہلے کی طرح سرگرم نہیں ہیں لیکن ان کے خیال میں فلسطین کی آزادی مسلح جد و جہد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ آج غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر جا بجا بکھری ہوئی لاشوں کے ساتھ گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور پناہ گاہوں پر ہر طرف موت کے مہیب سائے منڈلا رہے ہیں۔ جدید ترین ہتھیاروں اور فوج سے لیس طاقت کے نشے میں چُور اسرائیلی افواج کی طرف سے کمزور اور نہتے فلسطینی عوام پر اس وقت تاریخ کا بدترین ستم ڈھایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی اس وحشت اور بربریت میں اب تک ہزاروں بے گناہ معصوم بچے، خواتین اور بوڑھے افراد شہید ہو چکے ہیں۔ فلسطین میں ہر وہ لڑکی جو صیہونی ٹینکوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتی ہے، ہر وہ باپ جو کلیجے پر پتھر رکھ کر اپنے معصوم بچے کو دفناتا ہے، ہر وہ بے بس، مظلوم اور درد سے بلکتی ماں جو اپنے جگر کے ٹکڑے کا کفن سیتی ہے اسرائیل کے ظلم و ستم سے نجات کے لیے اقوام عالم سے مایوس ہو کر پھر سے لیلیٰ خالد جیسے کسی غیرت مند، بہادر اور دلیر مجاہد کا رستہ دیکھ رہے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے اس وقت عالم اسلام میں زیادہ تر ایسے مصلحت پسند فیصلہ ساز ہیں جو خاموش کھڑے فلسطینی بہن بھائیوں کی تباہی اور بربادی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ کالم کے آخر میں ان سب مصلحت پسندوں کے لیے سورۃ النساء کی ایک آیت کا ترجمہ: ’’اور تم کو کیا ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما‘‘۔
لیلیٰ خالد! مزاحمت کا استعارہ
09:24 AM, 14 Apr, 2025