ٹرمپ، ٹیرف اور چین

09:24 AM, 14 Apr, 2025

پاپولزم کے گھوڑے پر سوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی جارحانہ انداز میں فیصلے کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی، اسرائیل مخالف قوتوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور دنیا کے تقریباً 180 ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر کے عالمی تجارتی جنگ کی طرف قدم اٹھا دیا ہے۔ آج کل ٹرمپ کا پسندیدہ لفظ ایک ہی ہے اور وہ ہے ٹیرف۔ ٹرمپ خود کہہ چکے ہیں کہ ٹیرف ایک خوبصورت لفظ ہے۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ اس خوبصورت لفظ کی تاریخ کیا ہے۔ ٹیرف ایک قسم کا ٹیکس ہے جو کسی بھی حکومت کی جانب سے دوسرے ممالک سے درآمد شدہ سامان پر لگایا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں محصولات کے ذریعے درآمدات پر ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ حکومتیں مختلف صورتوں میں درآمدات پر ٹیرف عائد کرتی ہیں۔ جس کی ایک بڑی وجہ تو ریونیو اکٹھا کرنا ہے جبکہ حکومتیں مقامی پیداوار، ملکی مصنوعات کو فروغ دینے اور اپنی انڈسٹری کے تحفظ کے لیے بھی دوسرے ممالک سے درآمدات پر ٹیرف عائد کرتی ہیں۔ مگر ٹرمپ نے ٹیرف کے نام پر جو گلوبل تجارتی جنگ کا آغاز کیا ہے اس نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ کو لانے والے بھی شدید صدمے میں ہونگے کہ ٹرمپ تو کسی اور پہ ڈگر پر چل نکلے ہیں، جہاں دوست دشمن کی کوئی تمیز نہیں رہی۔ ٹیرف عائد کرنے کے اعلان پر ٹرمپ کے دوست ممالک بھی خائف ہیں۔ ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد جہاں دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں وہیں امریکی سٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں کو دو دن میں 6.6 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس تجارتی جنگ سے کئی دہائیوں سے رائج عالمی اقتصادی آرڈر تبدیل ہونے کی باتیں بھی چل پڑی ہیں۔ کاروبار میں شدید مندی کے بعد ٹرمپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے 90 دن کے لیے ٹیرف کو معطل کر دیا ہے مگر چین پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔ چین کے ساتھ تجارتی دشمنی شروع ہو گئی ہے۔ چین چونکہ ایک مضبوط معیشت کا حامل ملک ہے لہٰذا اس نے بھی اپنی معاشی طاقت کا اظہار کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ دو بڑی معیشتوں کے درمیان جہاں تجارتی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے وہیں پر دونوں ممالک میں سیاسی تعلقات میں بھی کشیدگی آ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے مابین یہ کشیدگی دنیا بھر کے لیے موافق نہیں۔ عالمی ردعمل نے ٹرمپ کو پسپائی اختیار کرنے اور عارضی طور پر پالیسی شفٹ لینے پر مجبور کیا کر دیا ہے۔ اگر امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی لڑائی طول پکڑتی ہے تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس جنگ میں جیت کس کی ہو گی یہ ایک اہم سوال ہے۔ طاقت کے خمار نے ٹرمپ کی مت مار دی ہے۔ ٹرمپ کو لگا کہ وہ چین پر بھاری محصولات عائد کر کے صدر زی جن پنگ کو مذاکرات کی میز پر لے آئے گا مگر چینی صدر کے جوابی وار نے ٹرمپ کی اس امید پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی کیلکولیشن اب تک غلط ثابت ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ نے خفیہ طور پر چین کو پیغام بھی بھجوایا ہے کہ اگر چینی صدر، ٹرمپ کو فون کر کے امریکی ٹیرف میں نرمی کرنے کی درخواست کریں تو کمی ممکن ہے لیکن چین ایسا کرنے سے انکاری ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ سنگین نتائج کی دھمکی دے کر چین کو اب بھی مذاکرات کی ٹیبل پر لایا جا سکتا ہے جیسا کہ ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں ہوا تھا، تاہم اس وقت کووڈ 19 وبا کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدہ پر پوری طرح سے عمل درآمد نہ ہوا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح چین کے ساتھ ’’کیک ڈپلومیسی‘‘ بھی ٹرمپ کے کام نہیں آئے گی۔ دراصل ٹرمپ کے پہلے دور اقتدار میں چینی صدر نے امریکا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے Mar-a-Lago ریزارٹ میں ٹرمپ کے ساتھ انتہائی خوبصورت چاکلیٹ کیک کھایا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے ٹرمپ زی جن پنگ کو اپنا دوست مانتے ہیں لیکن ٹرمپ کی دوستی اور دشمنی میں فرق کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ زی جن پنگ، ٹرمپ کو درخواست نہیں کریں گے، تاہم چین کے اندر بڑھتی ہوئی ٹنشن کو کم کرنے کے فارمولے پر کام ہو رہا ہو گا۔ امریکا کی جانب سے دھمکی آمیز رویہ شی جن پنگ کو نہیں ہلا سکے گا۔ اگر یہ تجارتی تناؤ جاری رہتا ہے تو دونوں ممالک کو ہی سنگین نتائج بھگتنا پڑے گا کیونکہ دونوں معیشتیں آپس میں جڑی ہیں۔ چینی منڈیوں تک رسائی سے امریکی صارفین کو کپڑے، جوتے، الیکٹرانکس جیسے کہ آئی فونز اور دیگر اشیائے ضروریہ تک سستی رسائی ملی، جس سے متوسط طبقے کا معیار زندگی بلند ہوا۔ جہاں تک چین کی بات ہے تو چین نے بھی امریکی تجارت سے فائدہ اٹھایا اور اپنے مینوفیکچرنگ شعبہ کو وسعت دی، جس سے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالنے میں مدد ملی۔ منافع کو ہائی ٹیک انڈسٹری اور فوجی صلاحیتوں کو بڑھانے میں استعمال کیا گیا۔ چین سالانہ امریکا کو 500 ارب ڈالر کی اشیا فروخت کرتا ہے، جبکہ امریکہ سے 150 ارب ڈالر کی اشیا خریدتا ہے۔ ٹرمپ کی چین مخالف تجارتی پالیسی کے پیچھے ایک راز یہ ہے کہ چین سے سستے سامان نے امریکی صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس میں رسٹ بیلٹ میں فولاد سازی سے لے کر شمالی کیرولائنا میں فرنیچر کی تیاری تک شامل ہے، تاہم چینی ہاکس کا خیال ہے کہ امریکہ نے خود کو سستی اشیا کی لت لگا کر چائنہ کو اتنا پاورفل بنا دیا ہے کہ وہ امریکہ کے لیے خطرہ بن جائے۔ امریکا اور چین کے درمیان تجارتی فاصلے مزید بڑھ گئے اور آپسی تجارت ختم ہوئی، تو امریکا کو افراطِ زر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے معیار زندگی بھی گر جائے گا، جس سے لاکھوں امریکی صارفین کی زندگیاں متاثر ہونگی۔ ایسا ہونے کی صورت میں امریکا کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ چین میں بھی سمال سکیل بزنس پر بُرا اثر پڑے گا، جو کہ چینی اکانومی کا پہیہ چلانے میں انتہائی اہم ہے۔ چھوٹے کاروبار بند ہونے سے بے روزگاری بھی بڑھ سکتی ہے۔ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے فائدے نہیں تاہم دونوں طرف کی ضد اور انا سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرمپ کا پاگل پن امریکی کب تک جھیل سکتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن امریکیوں کا اپنی پسند کا بندہ لانے کا شوق ضرور پورا ہو گیا ہو گا۔

مزیدخبریں