ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب، غزہ امن معاہدے کو ’’تاریخی کامیابی‘‘ قرار ے دیا

05:12 PM, 13 Oct, 2025

یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امن معاہدے کو "غیر معمولی تاریخی کامیابی" قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ "یہ صرف جنگ کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی امید کا آغاز ہے، آج مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔"

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل نے طاقت کے بل پر وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے جو ممکن تھا، اب وقت ہے کہ غزہ کے عوام استحکام، سلامتی اور ترقی پر توجہ دیں۔انہوں نے بتایا کہ "عرب اور مسلم ممالک حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے اکٹھے ہوئے، قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی، یہ لمحہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔"

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "امریکا نے اسرائیل کی بھرپور مدد کی، ہم نے جدید ہتھیار فراہم کیے اور ایران کی تنصیبات کو ختم کیا۔"
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی "اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو آج ہم یہاں نہ ہوتے۔

انہوں نے واضح کیا کہ "حزب اللہ، ایران اور حماس جیسی قوتوں کا خاتمہ ہو چکا ہے، اب بندوقیں خاموش ہیں، یہ امن پائیدار ہونا چاہئے۔صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "نیتن یاہو تم اب حالتِ جنگ میں نہیں، تمہیں ایک اچھا انسان بننا ہوگا۔"

انہوں نے کہا کہ "میری بیٹی ایوانکا نے یہودی مذہب قبول کیا ہے، یہ امن صرف اسرائیل کا نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کا مشترکہ خواب ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کی کامیابی پر عرب ممالک، اسرائیلی آرمی اور "بورڈ آف پیس" میں شامل تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ "ہر کوئی چاہتا ہے کہ میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بننے والے ’بورڈ آف پیس‘ کا سربراہ بنوں۔"

مزیدخبریں