خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا اجلاس، اپوزیشن کا واک آؤٹ

11:24 AM, 13 Oct, 2025

پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے اجلاس شروع ہو گیا، لیکن اپوزیشن اراکین نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ اجلاس سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت جاری ہے، جہاں وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار سہیل آفریدی سمیت 4 امیدوار میدان میں ہیں۔

کامیاب امیدوار کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں، جن میں جے یو آئی کے مولانا لطف الرحمان، پیپلز پارٹی کے ارباب زرک اور ن لیگ کے سردار شاہ جہان شامل ہیں۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ وزیراعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں کسی ایک امیدوار پر متفق نہ ہو سکیں۔ پی ٹی آئی اپنی کوششوں میں ہے کہ اپنے امیدوار کو بلا مقابلہ منتخب کروا سکے، اور اس مقصد کے لیے ن لیگ اور اے این پی سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل 145 ارکان ہیں، اور وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے لیے 73 ووٹ درکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی تعداد 92 ہے جبکہ اپوزیشن کے اراکین کی تعداد 53 ہے، جس سے پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے۔

علی امین گنڈا پور نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سہیل آفریدی کو پیشگی مبارکباد دیتے ہیں اور پاکستان میں قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت مضبوط ہو، تو کامیاب ہوتی ہے۔ گورنمنٹ نے اپوزیشن کے حلقوں کو فنڈز فراہم کیے ہیں اور یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ ملک کے مفاد میں کام کر رہی ہے۔

دوسری جانب، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوا، اور ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرے وزیراعلیٰ کا انتخاب غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر نے علی امین گنڈا پور کو بلا کر ابہام دور کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اپوزیشن اس عمل کا حصہ نہیں بنے گی۔

مزیدخبریں