ایک وہ دور تھا جب سب ہاتھ میں تھے، آج وہ دور ہے جب سب نے ہاتھ چھوڑ دیا۔ یہ کہانی لاہور کی ہے مگر سبق شہر شہر کے لیے ہے۔طاقت انسان کو اندھاکر دیتی ہے اور قانون کے رکھوالے خاموشی سے تمہارے ساتھ رہ کر فیصلہ خلاف کرنے میں جلدی نہیں تو دیر سے کرہی لیتی ہے ۔انجام کا سبق وقت نے ثابت کر دیا طاقت کا کھیل کبھی مستقل نہیں ہوتا ۔کل جو بادشاہ تھا آج وہ تاریخ کا ایک باب ہے ۔طاقت انسان کو بادشاہ تو بنا سکتی ہے مگر انجام ہمیشہ قانون لکھتا ہے ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے عوام کے لئے جو حلف لیا تھا وہ اب حقیقت میں بدل رہا ہے ،امن اور ترقی پسند سی ایم نے صوبے میں جرم کی دنیا میں قدم جمائے ڈان ،مافیا،گینگسٹراور جرائم میں ملوث شوٹرز، کارندے اورسہولت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے لئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا قیام عمل لانے کا فیصلہ کیا اور پھر شہر شہر گاؤں،قصبے اور پنجاب کے نوگو ایریا میں گھس کر سی سی ڈ ی نے جرائم پیشہ افراد کوگرفت میں لانے کے لئے چھاپوں کا سلسلہ تیزی سے شروع کیا ، تقریباً روزانہ ایک ،دو یا پھر تین ،چار کے مارے جانے کی اطلاعات موصول ہونے لگی ۔کریمینلز کو گرفت میں لانے کا سفر چھاپوں اور پھر چھپ چھپا کر پولیس مقابلوں میں بدل گیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا سی سی ڈی عوام کے جان و مال اور امن دشمن جرائم پیشہ عناصر کے خاتمہ کے لیے ابھی تک نہ رکنے والی مسلسل کارروائیوں کی وجہ سے عوامی پذیرائی حاصل کر چکی ہے ۔حالیہ دنوں میں بچوں اور خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے نیفے میں گولی چلنے کی رسم جو چل نکلی ہے اس سے مخصوص طبقے کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے۔معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کو سدھارنے کے لئے سی سی ڈی نے آہنی اوزار سے نمٹنے کا جو سلسلہ جاری کر رکھا ہے اس سے عبرت پکڑنا ہو گی نہیں تو معاشرے میں کوئی بہن ،بیٹی اور ماں محفوظ نہیں ہو سکتی ۔لاہور میں ایک ضعیف العمر عورت رکشے میں جا رہی تھی اور منزل قریب آنے پر پیدل سفر کرتے ہوئے ایک درندے نے اس ضعیف العمر عورت کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا پھر وہ پکڑا گیا اور انجام کو بھی پہنچ گیا ۔ اب سی سی ڈی کے اب تک سیکڑوں پولیس مقابلوں میں سب سے بڑے پولیس مقابلہ کی بات کر تے ہیں۔ خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ بالاج قتل کے مقدمہ میں لاہور پولیس کو مطلوب تھا،جسے سی سی ڈی نے سولہ مہینوں بعد دبئی سے پکڑا ۔سی سی ڈی کے سپیشل آپریشنز سیل کے انچارج خالد وریا نے انفارمیشن ملنے پر طیفی بٹ کو پکڑ کو پنجاب پولیس اور خاص طور پر ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کو اطلاع دی کہ اشتہاری خواجہ تعریف المعروف طیفی بٹ کو پکڑنے کا مشن پورا ہو گیا ہے ۔دبئی میں گرفتاری او پھر پاکستان منتقلی مشکل مرحلہ میںاچانک بدل گیا اور پھر ایک بڑے وزیر کی مداخلت پر لاہور پولیس نے دبئی سفارتخانے سے رابطہ کیا،پھر جا کر خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کو سی سی ڈی کے حوالے کر دیا، جس کو دبئی سے لاہور لانے کی بجائے کراچی ائیر پورٹ پہنچنے پر شکوک و شبہات بڑھ گئے کہ ہن گیا۔ کراچی سے بائے روڈ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں داخل ہونے کے بعد تھانہ سبزل کوٹ کے حدود میں پولیس مقابلہ میں طیفی بٹ پولیس حراست میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ کہانی سنتے ہوئے بوڑھے چچا حوالدار اچانک بول ہی اٹھے کہتے یہ ناقابل یقین کارروائی حقیقت میں ایسی بدلی کہ سب حیران رہ گئے، یہ وہی پولیس ہے جو ایک وقت میں طیفی بٹ کے لئے نہ صرف کام کرتی رہی بلکہ ساتھ ساتھ رہتی تھی اور آج یہ پولیس سی سی ڈی کے روپ میں ایک رعب دار اور بااثر آفیسر ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کے زیر سایہ کام تمام کر رہی ہے، بوڑھے چچا حوالدار کا راقم الحروف کو مخاطب کرتے مزید کہنا تھا کہ سی سی ڈی پولیس نے میدان تو مار لیا لیکن یہاں کہانی ختم ہو گئی یہ نہ سمجھنا، معاملہ پُر خطر ہو گیا ہے۔ طیفی بٹ کی گرفتاری کے بعد پولیس مقابلے میں اچانک موت! کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ بالاج قتل میں نامزد طیفی بٹ پہلے سی سی ڈی اور پھر اوپر والے کے حوالے! اور اب طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ قتل کے قاتل کی گرفتاری نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ بوڑھے چچا حوالدار مزید کہتے کہانی بدل گئی، لیکن سی سی ڈی کو ایک نیا چیلنج مل گیا ہے کہ آئندہ ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ اپنی ٹیم پر نظریں جمائے رکھیں گے، کیا وہ یکے بعد دیگر کریمینلز کے ساتھ رابطے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے سی سی ڈی کا نام جو ہے اعتماد کا ٹھیس پہنچانے کا عمل مکمل روک پائیں گے۔ دوسری طرف ابھی تو اور بھی بہت سے کریمینلز سی سی ڈی سے چھپ کر روپوشی کاٹ رہے ہیں اور چیدہ چیدہ با اثر کریمینلز کے نام سی سی ڈی کی لسٹوں سے باہر نکالنے کا بھی انکشاف ہوا، جیسے کہ طیفی بٹ کو مقابلے میں پار کرنے کا!
نام،شہرت، طاقت،مقابلے میں موت،حیران کن
09:23 AM, 13 Oct, 2025