مریم نواز کا ستھرا پنجاب اعلیٰ، مگر۔۔۔

09:21 AM, 13 Oct, 2025

چند سال پہلے لاہور میں کسی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مل کر حکومت نے صفائی کا ایک معاہدہ کیا تھا، جو لاہور اور پنجاب کے شہریوں کے لئے ایک نئی بات تھی، اس معاہدے کے متعلق اس وقت کی حکومت نے بڑے بلند بانگ دعوے کیے تھے کہ نہ صرف لاہور صفائی کے معاملے میں جاپان اور ترکی بن جائے گا بلکہ لاہوریوں کے گھروں کے کوڑے کرکٹ سے بجلی اور نہ جانے کیا کیا بنا کرے گا، ایک غیر منظم اور شتر بے مہار جیسے صفائی پروگرام کے بعد لاہور جاپان بن سکا نہ لاہوریوں کا کوڑا بجلی پیدا کر سکا اور انہیں وہی پرانی مہنگی بجلی اور جا بجا گندگی کے ڈھیر دیکھنے پر ہی گزارا کرنا پڑا، بعد ازاں بزدار حکومت نے اس کو اپنے خیالات اور تصورات کے مطابق ڈھال دیا، غیر ملکی کمپنی کی چھٹی ہو گئی، سسٹم اور اس کی خرابیاں تو سامنے آئیں مگر صفائی نظر نہ آ سکی، اڑھائی سال پہلے بننے والی نگران پنجاب حکومت میں اس صفائی پروگرام کے خدو خال واضع ہونے شروع ہوئے اور آج لاہور اور پنجاب کے صاف ستھرا ہونے پر پنجاب کے باسی نہال ہیں اور موجودہ حکومت اس کا کریڈٹ لینے میں حق بجانب ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار صفائی ستھرائی کے نام پر ایک ایسا جامع اور منظم پروگرام سامنے آیا جس نے نہ صرف صوبے کے چپے چپے کو چمکا دیا، کونوں کھدروں سے گندگی دور کر دی بلکہ انتظامی کارکردگی کے نئے معیار بھی قائم کیے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی سیاست اور سیاسی دعووں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ستھرا پنجاب پر وہ واقعی مبارکباد کی مستحق ہیں، انہوں نے جب ستھرا پنجاب پروگرام کا اعلان کیا تو بہت سے سیاسی مبصرین نے اسے ایک روایتی حکومتی نعرہ سمجھا، لیکن چند ہی ہفتوں میں اس مہم نے عملی شکل اختیار کر کے ناقدین کو حیران کر دیا، لاہور کی صفائی کمپنی کے چیف، بابر صاحب دین ایک نوجوان افسر ہیں، گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب بھرے مجمعے میں جب ان کی تعریف کر رہی تھیں تو مجھے اس لئے بھی اچھا لگا کہ میں اس نوجوان افسر اور اس کے کام کو جانتا ہوں، ایک بڑی عید کے موقع پر میں نے انہیں فون کیا کہ جوہر ٹاؤن کے فلاں علاقے میں جاتے ہوئے مجھے قربانی کے جانوروں کی کچھ آلائشیں نظر آئی ہیں، میں واپس وہاں سے گزرا تو صفائی کے بعد وہاں پر ڈی ڈی ٹی کا سپرے تک ہو چکا تھا، بلدیات کے وزیر ذیشان رفیق بھی بابر کی محنت کو سراہتے نظر آئے حالانکہ پنجاب کے اکثر وزیر اور افسران ایک دوسرے سے نالاں نظر آتے ہیں، محکمہ بلدیات خوش قسمت ہے کہ اس کو ایک درویش منش، شریف النفس محنتی افسر، میاں شکیل جیسا سیکرٹری ملا ہوا ہے، لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور جدید مشینری کی آمد نے عوامی اعتماد بحال کر دیا ہے۔ مریم نواز نے اس مہم کا آغاز لاہور سے کیا، جو پنجاب کا دل اور سیاسی مرکز سمجھا جاتا ہے، ماضی میں لاہور کی گلیاں اور سڑکیں کوڑا کرکٹ اور ناقص انتظامات کی مثال بن چکی تھیں، مگر ستھرا لاہور منصوبے کے تحت جدید ویسٹ کلیکشن ٹرک، مکینیکل سویپرز، سمارٹ کنٹینر سسٹم اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرائی گئی، آج لاہور کے مختلف علاقے چاہے وہ گلبرگ ہو، جوہر ٹاؤن یا اندرون شہر سب جگہ واضح فرق دکھائی دیتا ہے، یہ صرف صفائی کا پروگرام ایک انقلاب، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے نظام میں شفافیت، نیا ورک پلان اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ایپ کا آغاز وہ اقدامات ہیں جنہوں نے پنجاب کے دوسرے شہروں کے لیے ایک مثالی ماڈل بنا دیا۔ اس کے بعد حکومت نے صرف لاہور تک محدود رہنے کے بجائے پورے پنجاب میں صفائی کو ایک تحریک بنا دیا ستھرا پنجاب کے بینر تلے ضلع در ضلع مہم شروع کی گئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مہم میں صرف مشینری یا آرڈر نہیں بلکہ حوصلہ افزائی اور ٹیم ورک کا نیا کلچر بھی متعارف کرایا گیا، مریم نواز خود فیلڈ میں نکلیں، صفائی کے عمل کا معائنہ کیا، ورکرز سے ملاقاتیں کیں، اور عوام کو بھی صفائی کے شعور میں شامل کیا، جب پنجاب صاف ہو رہا تھا، تب مریم نواز نے ایک جملہ کہا جو سیاسی میدان میں گونج بن گیا، ہم نے پنجاب کی ترقی سے جلنے والوں کے دماغ بھی صاف کر دئیے ہیں یہ جملہ بظاہر طنز تھا مگر دراصل سندھ حکومت کے لیے ایک چیلنج بھی۔ یہ پروگرام صرف صفائی تک محدود نہیں بلکہ گڈ گورننس، نظم و ضبط اور شہری خدمات کے نئے دور کی بنیاد ہے، سیاست صرف بیانات سے نہیں بلکہ نتائج سے زندہ رہتی ہے، پنجاب کے شہریوں نے برسوں بعد اپنی گلیوں اور سڑکوں کو صاف ستھرا دیکھا، سوشل میڈیا پر ستھرا پنجاب ٹرینڈ بننے لگا، عام شہریوں، طلبہ، تاجروں اور خواتین نے تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے حکومت کے اقدام کو سراہا، یہ عوامی تائید اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر حکومت نیک نیتی، منصوبہ بندی اور تسلسل سے کام کرے تو عوام ہمیشہ ساتھ دیتے ہیں۔ ستھرا پنجاب کی کامیابی کا اگلا مرحلہ اب تسلسل اور استحکام ہے، صفائی مہم ایک وقتی عمل نہیں بلکہ مستقل ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لیے حکومت نے کلین سٹیز اتھارٹی کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صفائی کا نظام حکومتوں کی تبدیلی سے متاثر نہ ہو۔ ستھرا پنجاب جیسے پروگرام پر تو کوئی انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی، مگر مریم نواز کے اسی پنجاب میں محکمہ تعلیم کے ایک ذیلی ونگ پیکٹا میں ایم ڈی کی کئی پوسٹوں پر وفاق اور مختلف یونیورسٹیز سے لوگوں کو لا کر نو، نو دس دس لاکھ کے پے پیکیج دئیے جا رہے ہیں، جن لوگوں کو ملین ملین روپے کے قریب تنخواہوں پر رکھا گیا ہے، وہ اپنے محکمے اور یونیورسٹیز میں دو سوا دو لاکھ کی تنخواہیں لے رہے تھے، ان لوگوں کو ملنے والے پے پیکیج مقابلے کا امتحان دے کر آنے والے وفاقی اور پنجاب سروس کے افسر سوچ بھی نہیں سکتے، پنجاب کے محکمہ تعلیم کے جس سیکرٹری نے تنخواہوں کے اس بڑے پیکیج پر دستخط کیے ہیں، وہ عملی طور پر ان کا باس ہے مگر وہ یہ تنخواہ گریڈ بائیس میں جا کر بھی نہیں سوچ سکتا، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے یہ لوگ کیا ایسا کام کریں گے جو پہلے نہیں ہو رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صفائی اور ستھرائی کا جو چیلنج سندھ حکومت کو دیا ہے اس پر وہ ضرور فتح یاب ہوں گی مگر انہیں اپنے پنجاب کی پنجابی زبان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے، باقی تمام صوبوں میں ان کے صوبوں کی زبانیں ان کی بنیادی تعلیم کا حصہ ہیں، پنجاب میں پنجابی زبان سے دوری کیوں ہے؟ پچھلے دنوں پنجاب کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر تبدیل کر دئیے گئے، ملتان میں جو ڈی سی اچھا کام نہ کر سکا، اسے دوسرے ضلع میں لگا دیا گیا، وہ دوسرے ضلع میں جا کر کیا نتائج دے گا؟ اسی طرح ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک محنتی اور نیک نام ڈپٹی کمشنر نے دو سال سے زیادہ عرصہ اپنے ضلع میں بہت اچھا کام کیا مگر اتوار کے روز صفائی ستھرائی بہتر نہ ہونے پر وہ تبدیل کر دئیے گئے، جو حیرت کا باعث ہے۔

مزیدخبریں