وہ بڑے آرام سے اپنی بڑی گاڑی میں وارد ہوا (وہ دن یکسر بھول گیا جب اس کے پاس ٹوٹی ہوئی سائیکل بھی نہیں ہوتی تھی اور پیدل سکول جایا کرتا تھا)۔ ڈرائیور نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔ وہ بڑی تمکنت کے ساتھ نیچے اترا اور لان میں نیم دراز کرسیوں پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور نے گاڑی گیراج میں کھڑی کی اور اجازت لیکر اپنے گھر کی راہ لی۔ ٹاؤن پلانر صاحب نے چوکیدار کو آواز دی کہ فریج میں پڑا ابلا ہوا گوشت لاؤ۔ چوکیدار فوراً فریج کی طرف بھاگا اور ابلے گوشت والا شاپر اٹھا لایا۔ صاحب نے اپنے پالتو کتے کو آواز دی۔ کتا ایک ہی جست میں اپنے مالک کے قدموں میں آ پہنچا۔ مالک نے چوکیدار کے سامنے کتے کو ابلا ہوا گوشت کھلایا اور گوشت بھی ایسا کہ شاید چوکیدار نے ایسا گوشت عیدِ قربان پر بھی نہ دیکھا ہو گا۔۔۔ کھانا تو بہت دور کی بات۔۔۔ جب کتا گوشت کھا چکا اور اپنے مخصوص انداز میں اپنے مالک سے کھیلنے لگا تو چوکیدار جو (صبح سے بھوکا بھی تھا اور گرمی سے بے حال بھی تھا) اپنے مالک سے گویا ہوا کہ مالک ایک درخواست تھی۔ مالک (ٹاؤن پلانر) نے بہت بیزاری اور بے اعتنائی سے جواب دیا کہ کہیے کیا مسئلہ ہے؟ چوکیدار نے کہا صاحب! گرمی بہت ہے۔ سارا دن حبس سے بُرا حال ہو جاتا ہے اور میری ڈیوٹی والی جگہ پر پنکھا نہیں ہے۔ براہ مہربانی ایک پنکھے کا انتظام کرا دیں۔ یہ سنتے ہی مالک لال پیلا ہو گیا جیسے اس کی دم پر کوئی پاؤں آ گیا ہو۔ مالک کہنے لگا اگر نوکری کرنی ہے تو اسی گرمی میں کرو۔۔ نہیں تو کل سے چھٹی۔۔۔ چوکیدار جس کی کل دنیا یہی تنخواہ تھی۔ لہو کے گھونٹ پی کر اپنی ڈیوٹی پر چل دیا اور ٹاؤن پلانر اپنے کتے کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگا۔ یہ ایک معمولی واقعہ تھا جس نے میرے اعصاب شل کر دئیے اور مجھے گھنٹوں ذہنی طور پر معذور کر دیا۔ اس معاشرے میں بے شمار اندوہناک اور روح سوز واقعات رونما ہوتے ہیں، مگر ایسے تمام لوگ موت اور اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ جب موت آئے گی تو یقین جانیں کہ کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ آپ کے دنیا سے جانے پر کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اس دنیا کے سب کام کاج جاری وساری رہیں گے۔ دھوپ چھاؤں تمام موسم معمول پر رہیں گے۔ آپ کی ذمہ داریاں کوئی اور لے لے گا اور تمام معاملات چلتے رہیں گے۔ آپ کا مال وارثوں کی طرف چلا جائیگا اور ان کی موجیں لگ جائیں گی مگر آپ کو اس مال کا حساب دینا ہو گا۔ موت کے وقت سب سے پہلی چیز جو آپ سے چلی جائے گی وہ نام ہو گا لوگ کہیں گے کہ میت کہاں ہے؟ ۔ یہ دنیا کس قدر زیادہ حقیر ہے اور جس کی طرف ہم جا رہے ہیں وہ کس قدر عظیم ہے۔ آپ پر غم کرنے والوں کی تین اقسام ہوں گی،پہلے جو لوگ آپ کو سرسری طور پر جانتے ہیں وہ کہیں گے ہائے مسکین! اللہ اس پر رحم کرے۔ دوسرے آپ کے دوست چند گھڑیاں یا چند دن غم کریں گے پھر وہ اپنی باتوں اور ہنسی مذاق کی طرف لوٹ جائیں گے اور اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جائیں گے۔ آپ کی اولاد میں سے جو کبھی کبھار ملے گا اس سے آپ کی دو باتیں کر لیں گے۔ تیسرے آپ کے گھر کے افراد، ان کا غم گہرا ہو گا، وہ کچھ ہفتے، کچھ مہینے یا ایک سال تک غم کریں گے اور اس کے بعد وہ آپ کو یادداشتوں کی ٹوکری میں ڈال دیں گے۔ جب کبھی آپ کی کوئی تصویر سامنے آئے گی بس چند لمحوں کے ملول ہو جائیں گے۔ بہت تابع فرمان ہوئے تو چند آنسو بہا لیں گے اور قبر پر پھول ڈال کر قرض ادا کر دینگے۔ لوگوں کے درمیان آپ کی کہانی کا اختتام ہو جائیگا اور آپ کی حقیقی کہانی شروع ہو جائے گی اور وہ آخرت ہے۔ آپ سے آپکا حسن، مال، صحت، اولاد اور دوست احباب زائل جائیں گے۔ آپ اپنے مکانوں اور محلات سے دور ہو جائیں گے، شوہر بیوی سے اور بیوی شوہر سے جدا ہو جائیگی، آپ کیساتھ صرف آپ کا عمل باقی رہ جائیگا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی قبر اور آخرت کیلئے ابھی سے کیا تیاری کی ہے؟ کیا آپ نے کتوں کو گوشت ڈالنے کے ساتھ ساتھ انسانوں کا بھی خیال کیا ہے؟ حقوق اللہ کیساتھ ساتھ حقوق العباد بھی کا خیال رکھا ہے؟ تکبر، غرور، لالچ اور حرص کو شکست دی ہے یا نہیں؟ یہ وہ حقیقت ہے جو غور و فکر کی محتاج ہے اس لیے آپ اس کی طرف توجہ کریں۔ فرائض، نوافل، پوشیدہ صدقہ، نیک اعمال، تہجد کی نماز اور اچھے اخلاق کی طرف، توجہ دیں شاید کہ نجات ہو جائے۔ آج جسم میں روح ہے موقع ہے اچھائی والے کام کرو اور آگے بھیجو کل جسم ہو گا لیکن روح پرواز کر چکی ہو گی پھر افسوس اور پچھتاوے کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اب بھی وقت ہے توبہ کر لیں اور باقی زندگی رب کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے والے کام میں گزار دیں۔ عوام الناس سے اخلاق سے پیش آئیں اور اسکی مخلوق کا خیال رکھیں، یہ ثابت کر دیں کہ واقعی انسان فرشتوں سے بہتر مخلوق ہے۔
ایک لمحے کی سوچ
09:20 AM, 13 Oct, 2025