مستقبل کا حال اور ستاروں کی چال بتانے والوں نے پیش گوئی سے گریز کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل پرائز ملے گا یا نہیں۔ یہ خواب تو چکنا چور ہو گیا لیکن ابھی اس کے حصول کیلئے تین چانس باقی ہیں۔ اگر اس عرصہ میں ہر سال تین نئی جنگیں شروع ہوتی ہیں اور ہر جنگ کو ابتدائی چند دنوں میں بند کرانے کی ٹرمپ کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نوبیل پرائز سی وی مزید بہتر ہو سکتا ہے۔ عمومی طور پر تین برس میں نو جنگوں کا ٹارگٹ مقرر کیا جا سکتا۔ پاک بھارت جنگ، پاک افغانستان جنگ، اسرائیل فلسطین جنگ، فیز ٹو، اسرائیل خلیجی جنگ، امریکہ افغانستان جنگ بہ عنوان بگرام جنگ، فلپائن اٹیک، گرین لینڈ اٹیک، پانامہ اٹیک اور ہر ملک کے ساتھ لفظی و ٹیرف جنگ، تمام جنگوں کے نتیجے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے تمام جنگوں میں حملہ آوروں کو شکست ہو گی۔ دفاع کرنے والے اپنے اپنے ملک اپنی اپنی زمین کا کامیاب دفاع کریں گے جو جو جہاں جہاں قابض ہو گا اسے بہرحال اپنا غاصبانہ قبضہ چھوڑنا پڑے گا۔ مستقبل کی جنگوں کے نتائج ماضی کی جنگوں کے نتائج سے مختلف نہیں ہو سکتے، ان کی وجہ ہزاروں ارب ڈالر جنگوں میں جھونکنے والوں کو عالمی ہزیمت کے سوا کچھ نہیں ملا۔ بھارت جنگ چھیڑ کر ذلیل و رسوا ہوا۔ اسرائیل نے غزہ میں تباہی ضرور مچائی لیکن وہ حماس کو ختم کر سکا نہ ان سے غزہ کو خالی کرا سکا۔ معاشی میدان میں بھی چین کے ساتھ چھیڑی جانے والی جنگ کا نقصان حملہ آور کو ہی ہوا۔ چینی مصنوعات بن رہی ہیں، بک رہی ہیں جبکہ امریکی ٹیرف کے نتیجے میں امریکہ میں ہر امپورٹ کردہ چیز مہنگی ہو کر عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہے۔ عنقریب ہر امریکی ریاست میں مہنگائی کے خلاف اور ٹرمپ کی پالیسیوں کیخلاف عوامی مظاہرے شروع ہونگے جو سنبھالے نہ جائیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے چشم تصور سے عوامی بے چینی کو بھانپ لیا ہے۔ اس پش منظر میں امریکی کمانڈروں سے خطاب میں پہلے ان کی نالائقی نااہلی کا رونا رو کر تجویز پیش کی گئی کہ امریکی فوجیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اور انہیں ایک نیا ’’ریفریشر کورس‘‘ کرانے کے لئے ان کی تعیناتی شہروں میں کی جائے۔ ریکارڈ یہ ہے کہ امریکی فوجیوں کی تعیناتی اوہائیو ریاست کے پرامن ترین آکسفورڈ ٹائون میں یا انڈیانا کی کسی مضافاتی بستی میں نہیں بلکہ بڑے ترقی یافتہ شہروں میں ہوگی اور برصغیر کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے خاص طور پر ان ریاستوں ان شہروں میں ہوگی جو اپوزیشن جماعت کی ریاستیں یا اپوزیشن کے شہر کہلاتے ہیں۔ مہنگائی کیخلاف ردعمل یہیں سے آئے گا۔ ٹرمپ کے ٹیرف پالیسیوں اور اس کے سبب امریکہ کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ممبران کانگریس نے ایک رپورٹ پیش کر دی ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹیرف کی جنگ میں پہنچنے والے نقصانات کا بروقت ادراک کر لیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکیوں کے سامنے اپنا کارنامہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ تجارت کرنے والوں نے ہم سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ ملک امیر ہو گئے ہیں۔ اب نئے ٹیرف سے امریکہ میں خوشحالی آئے گی۔ تصویر کے ایک رخ کو سرکاری امریکی میڈیا نے خوب بنا سنوار کر پیش کیا لیکن آزادی تحریر و تقریر کی برکتوں اور امریکہ میں صحافت کا گلا گھونٹنے والے قوانین کی عدم موجودگی میں ماہرین معیشت نے امریکیوں کو آئینہ دکھا دیا اور سمجھا دیا کہ اس سے زیادہ احمقانہ خیال کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ ٹیرف میں اضافہ کرنے سے جو ملک اپنی مصنوعات امریکہ کو بھجوا رہا ہے، اسے اضافی ٹیکس نہیں دینا پڑے گا بلکہ جو تاجر بھارت چین یا کسی بھی ملک سے کچھ امپورٹ کرے گا، اس امریکی امپورٹر کو ٹیکس دینا پڑے گا۔ اضافی ٹیرف کے نفاذ سے امپورٹر اپنی درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر دے گا جو ہر حال صارفین کی جیبوں سے نکلوائی جائے گی یوں مہنگائی کے طوفان آئیں گے ساتھ ہی اس کا ردعمل بھی۔
مہنگائی کے طوفان کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہو گا کہ امریکہ عام آدمی کی ضروریات کی ہر چیز پر سبسڈی دے جو ناممکن ہو گا بصورت دیگر اسے تمام ملکوں پر عائد ٹیرف واپس لینا پڑے گا۔ دونوں صورتوں میں امریکہ کی معیشت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کا خواب ایک چھناکے سے ٹوٹے گا جس کی کرچیاں ٹرمپ حکومت کی آنکھوں میں پڑیں گی، اسکے پائوں لہولہان کر دیں گی۔ کچھ عجب نہیں امریکی تاریخ میں وہ پہلے صدر بن جائیں جن کے اقتدار کو امریکہ دشمن پالیسیاں اور عوامی غیظ و غضب بہا کر لے جائے۔ امریکی صدر پر عالمی پریس میں کرپشن رشوت کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ امریکی سرکار یا صدر کی پالیسیاں جب ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہونا شروع ہو جائیں تو اس پر کرپشن کے الزامات لگا کر امریکی فوج ٹیک اوور نہیں کرتی لیکن وہاں اچانک مونیکا لیونسکی برآمد ہو جاتی ہے جو عرصہ دراز سے صدر امریکہ کی میز کے نیچے اس کے قدموں میں بیٹھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوتی ہے۔ یہ بات ابھی دنیا سے پوشیدہ ہے کہ مونیکائیں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران چھوٹے چھوٹے خفیہ کیمروں سے اپنے کارخیر کی ویڈیو بھی بناتی ہیں۔ انہیں میز کے نیچے بیٹھے یہ کام کرتے کوئی دیکھ سکتا ہے، نہ کسی کو اس کا احساس ہو سکتا ہے۔ کلنٹن کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا ادھر کلنٹن اپنے ’’کام‘‘ سے فارغ ہوتے ادھر ویڈیو کلپ مکمل ہو چکا ہوتا۔
فرانس کے صدر پر آبدوزوں کے ایک سودے میں رشوت لینے کا الزام لگا۔ اس کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آئے تو ان کے اقتدار کی کہانی اپنے انجام کو پہنچی۔ انہیں عدالت نے سزا بھی سنائی، ان کے بھی خصوصی ثبوت موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایسبئین فائلز موجود ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ اس کہانی کے مرکزی کردار کی اچانک موت سے سب کچھ داخل دفتر ہو جائے گا اور وہ اپنی صدارتی ٹرم کی باقی مدت بہ آسانی پوری کر لیں گے تو ایسا نہیں اس بات کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ایسبئین کے پرتعیش فارم ہائوسز میں جو کچھ ہوتا تھا وہ فقط تفریح طبع کے لئے نہیں تھا بلکہ وہاں آنے والے ان پارٹیوں اور محفلوں میں شریک ہونے والے افراد کی کارکردگی کو محفوظ کرنے کے اعلیٰ ترین پیمانے پر انتظامات موجود تھے تاکہ اس ریکارڈ کو بہ وقت ضرورت استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ باخبر حلقوں کے مطابق ایسبئین فارم ہائوس کا ہر انچ خفیہ کیمروں کی زد میں تھا جہاں کھانے پینے، رقص ، استراحت، مشترکہ غسل، پیراکی غرضیکہ ہر لمحے کو کیمروں کی آنکھ محفوظ کرتی تھی۔ یہ تمام ریکارڈ امریکہ کے محکمہ زراعت اور اسرائیل کے محکمہ زراعت کے پاس محفوظ ہے اور کسی بھی وقت کوئی ستم ڈھا سکتا ہے۔ ایسے قیمتی ریکارڈ کے وقت کے ساتھ ساتھ کسی متمول گاہک مارکیٹ میں آجاتے ہیں جو منہ مانگے داموں اسے خریدتے ہیں اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں، ان کے بل بوتے پر سیاسی، سماجی، معاشی حتیٰ کہ حربی فیصلے کرائے جا سکتے ہیں، کئے ہوئے فیصلے بدلوائے جا سکتے ہیں، رکوائے جا سکتے ہیں۔ اب یہ ٹیکنالوجی دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی عرصہ دراز سے استعمال ہو رہی ہے۔ محاورے کے برعکس اس میں ہینگ اور پھٹکڑی بھی زیادہ استعمال ہوتی ہے اور رنگ بھی چوکھا آتا ہے۔
محاورے کے برعکس چوکھا رنگ
09:18 AM, 13 Oct, 2025