ملک بھر میں صورتحال کشیدہ، حالات کروٹ بدل رہے ہیں، کروٹیں بدلنا ذہنی انتشار اور بے چینی کی علامت، سیانے اسی کو عدم استحکام کہتے ہیں۔ پچھلے دنوں سے رونما ہونے والے واقعات و سانحات نے پوری قوم کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان کے اثرات مختلف جہتوں سے ملک کی ترقی، معیشت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سے اگلی قسط کے لیے مذاکرات بے نتیجہ ختم، وزیر خزانہ بھاگم بھاگ امریکا پہنچ گئے۔ نفسیاتی حدیں پھلانگتا سٹاک ایکسچینج اچانک منہ کے بل گرا، مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 4.34 فیصد اضافہ، ضروریات زندگی چکن، پیاز، آٹا، انڈہ، گڑ، لہسن، گھی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ چینی قابو میں نہیں آرہی، مرے پر سو درّے۔ سیلاب نے مشکلات میں اضافہ کردیا۔ اربوں کھربوں کا نقصان، باہر والوں سے کچھ نہیں ملا۔ اندر والے باہم دست و گریباں، ایسے میں ان گنت سوالات ذہنوں میں کلبلانے لگے ہیں۔ لوگ شام سے رات تک تجزیوں میں پانچ چھ گھنٹے ضائع کرنے والے تجزیہ کاروں سے پوچھ رہے ہیں کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا سیاستدان ایک بار پھر ناکام ہو رہے ہیں، کیا فوج کے مسلسل انکار کے باوجود اسے سیاست میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، پھر سے مارشل لا کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، کیا عدم استحکام، ہنگامہ آرائی اور متشدد کارروائیوں کا ذمہ دار جیل سے ڈوری ہلانے والا مائی ڈیئر خان ہے؟ کیا خان اتنا پاور فل اور منہ زور ہے کہ کسی کے قابو میں نہیں آرہا؟ سب کا ایک ہی جواب ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہم غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ صحیح سمت کا تعین کیے بغیر سرپٹ دوڑ رہے ہیں، اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار کر سمجھتے ہیں کہ ملک کو ترقی کے ٹریک پر لے آئیں گے۔ ’’ایں خیال است و محال است و جنوں‘‘ واقعات و سانحات پر نظر ڈالیں، مودی پاکستان کے خلاف جنگ میں پہل کر کے منہ کالا کرانے کے باوجود ’’قرج‘‘ (قرض) چکتا کرنے کی نہ صرف دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ اس نے اپنے ایئر چیف کو پھر حملہ کا حکم دے دیا ہے۔ ہمارے نڈر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ’’بھارتی قصاب‘‘ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے افواج پاکستان کو الرٹ رہنے اور بھارتی حملہ ناکام بنانے کا گرین سگنل دے دیا لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ پاکستان میں پلنے بڑھنے مدرسہ کے سند یافتہ چال ڈھال وضع قطع سے مسلمان دکھائی دینے والے افغان وزیر خارجہ ملا متقی مودی کی گود میں جا بیٹھے اور بھارت سے دفاعی معاہدے پر آمادہ ہوگئے۔ دشمن کا دوست بھی دشمن، پچاس سال سے ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے طالبان ’’مذہبی فریضہ‘‘ سمجھ کر خیبر پختونخوا کی سرحدوں سے حملے کر رہے ہیں، بلا شبہ ہمارا پلڑا بھاری ہے لیکن ہمارے بیٹے ہمارے جوان اور میجر عدنان جیسے بہادر سپوت بھی شہید ہو رہے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح طور پر طبل جنگ بجاتے ہوئے اعلان کیا کہ خوارج اور ان کے سہولت کاروں پر زمین تنگ کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سال کے دوران 10,115 (روزانہ 40) آپریشن کیے گئے جن میں 917 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے جبکہ فوج کے 311 اور پولیس کے 73 اہلکار شہید ہوئے۔ شرمناک رویہ پچاس سال سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں کہا کہ افغان حکومت سے حملے روکنے کو کہا اس نے افغانوں کو بسانے کے لیے دس ارب ڈالر طلب کیے یعنی 50 سالہ خدمت کا ہرجانہ۔ جیل میں قید خان کا اصرار ہے کہ انہیں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بسایا جائے، تمام حقوق دئیے جائیں، قبائلی عوام ان کی آبادکاری کے مخالف۔ ان کا کہنا ہے کہ خوارج ہمارے سگے نہیں منافق ہیں اور ہمارے آقاؐ (ہماری جانیں ان پر قربان) نے منافقین کے قتل کا حکم دیا تھا۔ آپریشن روکنے کی وجہ اسرائیل اور بھارت کی طرح خوارج کی تنظیم ٹی ٹی پی نے خان کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد حملوں میں جس کی قیادت بشریٰ بی بی اور گنڈا پور کر رہے تھے خوارج نے شرکت کی۔ جلسوں میں رونقیں لگاتے رہے اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام میں معاون ثابت ہوئے۔ گنڈا پور نے آپریشن میں رکاوٹ نہیں ڈالی خان ہتھے سے اکھڑ گئے۔ علیمہ باجی اور بشریٰ بی بی سے مخالفت بہانہ دراز زلف کو بات نہ ماننے پر نشانہ بنایا گیا اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعہ ان سے استعفیٰ طلب کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے فوری تعمیل کی۔ واپسی پر استعفیٰ ٹائپ کرایا دستخط کیے اور گورنر کو رات گیارہ بجے بھجوا دیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق
انہیں استعفیٰ موصول ہوگیا لیگل ٹیم اس پر غور کرے گی جس کے بعد آئین اور قانون کی روشنی میں منظوری دی جائے گی۔ خان نے اپنے انتہا پسند کامریڈ سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کردیا۔ گنڈا پور تو سب سے ہاتھ ملا کر گھر چلے گئے مگر سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں ڈال گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کے پی اسمبلی کے 145 ارکان میں (پی ٹی آئی کے نہیں) آزاد ارکان کی تعداد 92 ہے جبکہ 52 ارکان اپوزیشن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے لیے صرف 21 ارکان درکار ہوں گے۔ گنڈا پور کے مطابق 22 ارکان بیان حلفی میں اوپر والوں کی حمایت کی یقین دہانی کرا چکے ہیں۔ شاید اسی لیے مولانا فضل الرحمان کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھر گئی ہیں۔ 35 سالہ ایڈمنسٹریشن اور گورننس سے نابلد عثمان بزدار پلس قرار دئیے جانے والے سہیل آفریدی کے کب چوتھے وزیر اعلیٰ بنیں گے پتا نہیں۔ دو چار روز تو لگیں گے پھر قانونی موشگافیاں شروع ہوں گی۔ نیو نیوز کے تجزیہ کار رئوف کلاسرا کا کہنا ہے کہ استعفے میں لکھا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے حکم پر مستعفی ہو رہا ہوں، گورنر اس فضول سی وجہ پر استعفیٰ کی منظوری سے انکار کرسکتے ہیں۔ اپوزیشن اس عرصہ میں اپنی صفیں درست کرلے تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم بقول کامران مرتضیٰ حکومت بنانا مشکل نہیں چلانا مشکل ہے سیانے کہتے ہیں کہ نئے وزیر اعلیٰ کے آتے ہی حالات مزید خراب ہوں گے۔ اب پی ٹی آئی، TTP اور پی ٹی ایم کے ساتھ مل کر اسلام آباد پر چڑھائی کریں گے۔ پنجاب اور سندھ میں سیلابی سیاست صدر زرداری سے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، سپیکر ایاز صادق اور دیگر کی ملاقات کے بعد پروان چڑھنے اور خطرناک صورتحال میں بدلنے سے رک گئی۔ سیز فائر ہوگیا 19 اکتوبر کو پی پی کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا بیان بازی عارضی طور پر رکی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اور نہروں کے مسائل پر اختلافات کے باوجود پی پی مسلم لیگ ن اتحاد برقرار رہے گا۔ اسد قیصر کی دلی مرادیں دم توڑ جائیں گی۔ نئے لانگ مارچ نے اسلام آباد میں کنٹینر لگوا دئیے جس سے شہری مشکلات کا شکار ہوئے، ہم اعتراض کرنے والے کون لیکن مارچ کرنے والے دو سال تک اسرائیل کی جانب سے 67 ہزار سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام پر سوتے رہے جب جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا تو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھے اور نئی مصیبت کھڑی کردی، اللہ تعالیٰ اپنا کرم کرے، خان نے اپنی رہائی کے لیے جو اقدامات کیے دلدل میں پھنستے رہے، دہشت گردی کی حمایت انہیں مزید دلدل میں دھکیل دے گی۔
گنڈا پور فارغ، انتشاری سیاست، طبل جنگ
09:17 AM, 13 Oct, 2025