مصنوعی ذہانت، علاقائی روابط اور نرم طاقت مستقبل کی کنجی ہیں: مارگلہ ڈائیلاگ میں ماہرین کے خیالات

02:43 PM, 13 Nov, 2025

اسلام آباد:مارگلہ ڈائیلاگ میں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ  مصنوعی ذہانت، علاقائی روابط ہی مستقبل کی کنجی ہیں۔اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (IPRI) کے زیر اہتمام ’’مارگلہ ڈائیلاگ‘‘ میں ماہرین، دانشوروں اور پالیسی سازوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا مستقبل ٹیکنالوجی، علاقائی تعاون اور مؤثر سفارت کاری سے وابستہ ہے۔ اجلاس میں علاقائی انضمام، مصنوعی ذہانت (AI)، مثبت امیج  اور داخلی سلامتی جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشن شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جدید دنیا میں جنگ، معیشت اور حکمرانی کا بنیادی جزو بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک قومی روڈمیپ کے تحت ٹیکنالوجی کے فروغ، سافٹ ویئر و ہارڈویئر کی مقامی پیداوار اور سٹارٹ اپس کی معاونت پر کام کر رہا ہے۔

آئی پی آر آئی کے ڈائریکٹر ریسرچ بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے کہا کہ خودکار ہتھیاروں اور ڈرونز کے ذریعے جنگ کا انداز بدل رہا ہے، لہٰذا عالمی سطح پر انسانی قوانین میں ترامیم اور "کل سوئچ" جیسے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
دانشور جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت قومی طاقت کا اہم ستون ہے، تاہم دنیا میں مثبت امیج اجاگر کرنے کے لیے تعمیری اور انسانی اقدامات ضروری ہیں۔انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے پانی کے پائیدار انتظام کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے امدادی انحصار کے بجائے برابری کی بنیاد پر شراکت داری اور ’’گرے پاور‘‘ کے مؤثر استعمال کی تجویز پیش کی۔
علاقائی روابط اور افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر آصف درانی نے کہا کہ افغانستان کی عدم استحکام علاقائی تعاون کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قازقستان کے سفیر یرزہان کسٹافین نے پاکستان اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے تجارتی راستوں کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ سابق افغان سفارتکار ادریس زمان نے کہا کہ علاقائی امن افغانستان کے داخلی استحکام اور مشترکہ کوششوں پر منحصر ہے۔

مزیدخبریں