کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، دہشت گرد افغان شہری تھے: سکیورٹی ذرائع

01:09 PM, 13 Nov, 2025

راولپنڈی :سکیورٹی ذرائع کے مطابق، کیڈٹ کالج وانا پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور حملہ کرنے والے تمام دہشت گرد افغان شہری تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ حملے کو عملی طور پر انجام دینے کا حکم افغان دہشت گرد کمانڈر نورولی محسود نے دیا تھا، اور دہشت گرد افغانستان سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کارروائی میں ملوث ہوئے۔

ذرائع کے مطابق، حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص خارجی زاہد تھا، اور اس نے نورولی محسود کے حکم پر اس حملے کی ذمہ داری جیش الہند کے نام سے قبول کی تاکہ فتنہ الخوارج کے تعلقات کو چھپایا جا سکے۔ نورولی محسود اور اس کے ساتھی افغانستان میں اپنے نیٹ ورک کو پاکستان اور دوسرے ممالک کے دباؤ سے بچانے کے لیے حملے کے دوران جیش الہند کا نام استعمال کرتے رہے۔

سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ حملے کے دوران دہشت گردوں نے جان بوجھ کر اپنی اصلی شناخت چھپانے کی کوشش کی، اور اس مقصد کے لئے آڈیو ویڈیو میں جیش الہند کا ذکر کرتے ہوئے اردو میں بات کی تاکہ ان کی اصل شناخت سامنے نہ آئے۔

اس حملے کے لئے تمام ضروری سازوسامان افغانستان سے فراہم کیا گیا تھا، جس میں امریکی ساختہ ہتھیار بھی شامل تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ بیرونی طور پر منظم اور معاونت یافتہ تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید خراب کرنا تھا، اور اس کی پشت پناہی بھارتی ایجنسی "را" کی طرف سے کی گئی تھی۔ حملے میں مارے جانے والے افغان دہشت گردوں کی شناخت نے ان تمام شکوک کو ختم کر دیا کہ یہ ایک بیرونی دہشت گرد نیٹ ورک کی کارروائی تھی۔

مزیدخبریں