27 ویں آئینی ترمیم: سینیٹ میں منظوری کا عمل آج شروع ہوگا، وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب

09:24 AM, 13 Nov, 2025

اسلام آباد: 27 ویں آئینی ترمیم کا نیا مسودہ آج سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11 بجے ہوگا، جہاں اس ترمیم پر غور و خوض کے بعد منظوری دی جا سکتی ہے۔ اسی دوران وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی دوپہر کو طلب کیا گیا ہے، جس میں آئینی ترامیم کی بنیاد پر مختلف قوانین میں تبدیلیوں کی منظوری دی جائے گی۔

یہ ترمیم گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی تھی، تاہم اپوزیشن نے اس پر شدید اعتراض کیا اور احتجاج کے طور پر بل کی کاپیاں پھاڑ دیں اور سپیکر کے ڈائس کے سامنے آ کر کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم آئینی ڈھانچے میں غیر ضروری مداخلت ہے اور جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

حکومت نے اس ترمیم کو آئین میں 8 نئی تبدیلیوں کا حصہ بنایا ہے، جن میں سب سے اہم آرٹیکل 6 کی کلاز 2 میں ترمیم ہے، جس کے تحت سنگین غداری کے معاملے کو کسی عدالت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکے گا۔ اس ترمیم میں ہائیکورٹ، سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ آئینی عدالت کا لفظ بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایک اور اہم تبدیلی کے تحت، موجودہ چیف جسٹس کو عہدے کی مدت پوری ہونے تک "چیف جسٹس پاکستان" کہا جائے گا، اس کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین جج چیف جسٹس پاکستان کے طور پر کام کرے گا۔

حکومت کے مطابق یہ ترمیم آئین میں ضروری اصلاحات لانے اور عدلیہ میں وضاحت فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ تاہم اپوزیشن کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور اس کو جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

قومی اسمبلی میں ترمیم کے حق میں 234 ارکان نے ووٹ دیا تھا، جبکہ جے یو آئی (ف) نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اب سینیٹ میں اس ترمیم کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ آئینی ترامیم کے مطابق قانونی تبدیلیوں کی منظوری دے گی۔

مزیدخبریں