پتا نہیں ہم ہمیشہ دہشت گردوں کے حوالے سے دبائو میں کیوں آ جاتے ہیں ۔ گذشتہ تین سال جب سے دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہوئی ہے تو زیادہ تر اس کا نشانہ افواج پاکستان کے اہل کار بن رہے ہیں لیکن یقین کریں کہ وہ سیاسی و مذہبی گروہ کہ ملک و قوم کے مفاد میں مگر مچھ کے آنسو بہانے سے جنھیں فرصت نہیں ہے انھوں نے کبھی افواج پاکستان کے شہید اہل کاروں پر نہ تو افسوس کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی انھیں کبھی یہ توفیق ہوئی ہے کہ وہ ان کے جنازوں میں ہی شریک ہو جائیں لیکن انھیں اگر فکر ہے تو وہ دہشت گردوں اور ان کے ہینڈلر کی ہے ۔ پاکستان میں کہیں پر بھی دہشت گردی ہوتی ہے تو ان کی ملک دشمنی کہہ لیں یا بد نیتی کا یہ حال ہے کہ مئی میں پاکستان نے ہندوستان کے 6جنگی طیاروں کو تباہ کیا ے پوری دنیا ان طیاروں کی تباہی کو مان رہی تھی لیکن دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا سوشل میڈیا زمینی حقائق کے بر عکس یہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن اسلام آباد میں دہشت گردی ہو یا کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں کا حملہ ۔ ان کی خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے ۔اب بھی دہشت گردوں کے خلاف ابھی افغانستان میں سرجیکل اسٹرائیکس شروع ہوئیں تو ان کے سہولت کاروں نے مذاکرات کا واویلا شروع کر دیا اور ہم ایک مرتبہ پھر ان کی بات مان کر مذاکرات کرنے لگ گئے ۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی یہ پرانی حکمت عملی ہے کہ جب بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی شروع ہوتی ہے تو مذاکرات کا شور شروع ہو جاتا ہے اور جب مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں تو ان کی جانب سے کبھی سیز فائر نہیں ہوا بلکہ اس دوران دہشت گردی بھی ہوتی رہتی ہے اور انھوں جو وقت ملتا ہے وہ اس میں اپنے آپ کو دوبارہ منظم بھی کر لیتے ہیں ۔اب بھی یہی ہوا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے سہولت کار سیاسی و مذہبی گروہوں کو یقین دلانے کے لئے اندرون اور بیرون ملک دہشت گردوں کے سر پرستوں سے مذاکرات کرتے رہے اور دہشت گرد خیبر پختون خوا سے آگے بڑھ کر اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں اور وہ کوئی اچانک نہیں پہنچے بلکہ باقاعدہ بتا کر پہنچے ہیں ۔ میڈیا کی خبروں کے مطابق اسلام آباد کچہری میں دھماکہ لگ بھگ سہ پہر 12بج کر 45 منٹ پر ہوا جبکہ افغانستان کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر صبح سویرے بازگشت سنائی دے رہی تھی اور صبح 6بج کر45منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس (سابق ٹوئٹر ) اکائونٹ سے Coming Soon Islamabadجیسی پوسٹ دیکھی گئی ۔ ذرائع کے مطابق اسی طرح کے دھمکی آمیز پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پر بھی دیئے گئے تھے ۔اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی کوئی معمولی بات نہیں ہے اس لئے کہ پاکستان دنیا کی 8 اعلانیہ نیو کلیئر پاورز میں سے ایک ہے اور اسلام آباد اسی نیو کلیئر پاور کا دار الحکومت ہے اس لئے اگر اسلام آباد میں دہشت گردی ہوتی ہے تو پوری دنیا میں اس کا ایک اثر ہوتا ہے ۔
فیلڈ مارشل صاحب کا دشمنوں کے خلاف جو مزاج اب تک نظر آیا ہے اگر اسے مد نظر رکھا جائے تو وہ دشمن کا گھر پورا کرنے کے قائل ہیں لہٰذا ہمیں پورا یقین ہے کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کر کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز نے تمام ریڈ لائنز کو توڑ دیا ہے اور اب ہمارے لئے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ گئی ۔ دہشت گردی اور مذاکرات کے حوالے سے ہی ایک انتہائی اہم نقطہ جو کم ہی بیان کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کے نزدیک مذاکرات کی کبھی کوئی اہمیت نہیں رہی اور نہ ہی وہ اپنے آپ کو اپنے ہی کئے ہوئے کسی معاہدے کا پابند سمجھتے ہیں اس لئے کہ وہ ہمیں فاسق و فاجر کفر کے نظام کا نمائندہ سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک ہم سے کئے ہوئے کسی معاہدے یا وعدے کا پابند ہونا ان کے نزدیک ضروری نہیں ہے ۔ مذاکرات کے حوالے سے ہی دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ وہ ریاست پاکستان پر قابض ہو کریہاں اپنا نظام لانا چاہتے ہیں اس لئے مذاکرات یا ان کی شرائط ماننا جیسی باتیں بے معنی ہیں کیونکہ وہ نہ ہمیں مانتے ہیں اور نہ ہی ہمارے نظام کو مانتے ہیں ۔ اگر کسی کو یاد نہیں تو ہم یاد دلا دیتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے سابق امیر ملا فضل اللہ کے سسر صوفی محمد کے مدرسہ کے باہر اعلانیہ پاکستان کے آئین کو نہ ماننے کی تحریر موجود تھی لیکن افسوس کہ کبھی اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔
ہمیں زندگی میں ریاست پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے سے کبھی اتنا یقین اور بھروسہ نہیں تھا جتنا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کی قیادت میں موجودہ رجیم پر ہے ۔ اس لئے کہ ماضی میں ہمیشہ گڈ اور بیڈ طالبان کی بات کی جاتی رہی لیکن یہ تقسیم فیلڈ مارشل صاحب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جو پالیسی بنائی گئی اس میں درست طور پر ختم کی گئی ۔ مئی 2025میں جس طرح ہندوستان کو عبرت ناک شکست دی گئی تو اس کے بعد نریندر مودی کے اپنے الفاظ ہیں کہ اس کے سینہ میں فیلڈ مارشل صاحب کے خلاف آگ بھڑک رہی ہے تو وہ براہ راست تو حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتا لیکن اپنی پراکسیز کے ذریعے دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے عوام کی نظروں میں فیلڈ مارشل صاحب کا جو مقام ہے اسے ختم کرنے کی مذموم کوشش جاری رکھے گا لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ اب دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف جلد فیصلہ کن کارروائی ہو گی۔
دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہو رہی
09:19 AM, 13 Nov, 2025