افغانستان میں بھوک و افلاس کا راج: طالبان کی معاشی ناکامی نے ایک کروڑ سے زائد زندگیاں داؤ پر لگا دیں

12:35 PM, 13 May, 2026

کابل :افغانستان میں طالبان دورِ حکومت کے دوران نافذ کی گئی معاشی پالیسیوں کے منفی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، جس نے ملک کو تاریخ کے بدترین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ عالمی اداروں نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور افلاس کو سنگین ترین قرار دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک (WFP) کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان رجیم کے تحت معاشی ڈھانچے کی تباہی نے سب سے زیادہ خواتین اور بچوں کو متاثر کیا ہے، جو دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی جان بچانے کے لیے ضروری مخصوص خوراک کی سپلائی لائن بھی کٹ چکی ہے، جس سے اموات کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قابض انتظامیہ کی جانب سے بین الاقوامی برادری کے خدشات دور نہ کرنے اور ناقص معاشی حکمتِ عملی نے افغان عوام کو بھوک اور پسماندگی کی دلدل میں پھنسا دیا ہے۔

مزیدخبریں