پاکستانی ثالثی، امریکا-ایران عارضی معاہدہ اور دبئی کی معیشت کا مستقبل

09:05 AM, 13 May, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، مگر اس بار حالات میں ایک اہم تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مسلسل بڑھتی کشیدگی، خلیجی ممالک پر حملوں کے خدشات، آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال اور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کو دباو¿ میں مبتلا کر دیا تھا۔ لیکن اب پاکستان کی سفارتی کوششوں اور عالمی دباو¿ کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک عارضی معاہدے اور جنگ بندی کی امید پیدا ہوئی ہے، جسے دنیا بھر میں مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی تو سب سے زیادہ نقصان خلیجی معیشتوں خصوصاً دبئی کو اٹھانا پڑتا۔ دبئی، جو گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی سیاحت، ایوی ایشن، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، جنگی خدشات کے باعث شدید دباو¿ کا شکار رہا۔ غیر ملکی سیاحوں نے اپنے سفر محدود کیے، سرمایہ کار محتاط ہوگئے، ہوٹل انڈسٹری متاثر ہوئی اور فضائی آپریشنز پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔دبئی کی معیشت کا بڑا انحصار امن، استحکام اور بین الاقوامی اعتماد پر ہے۔ جب پورا خطہ جنگ کے خطرات میں گھرا ہو تو سب سے پہلے ایوی ایشن، ٹورازم اور رئیل اسٹیٹ متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران دبئی کی کاروباری سرگرمیوں میں واضح سست روی دیکھی گئی۔ کئی فائیو اسٹار ہوٹلوں نے انتہائی کم نرخوں پر کمرے دینا شروع کیے جبکہ پروازوں کی تعداد اور سیاحتی سرگرمیوں میں بھی کمی واقع ہوئی۔ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ وزیراعظم میاں شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کیں بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے رکھ کر امن کی فضا قائم رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی جانب سے بھی واضح طور پر یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان خطے میں جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور امن کا خواہاں ہے۔پاکستان کی یہی متوازن پالیسی آج عالمی سطح پر سراہا جا رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بڑی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت صف بندی میں مصروف ہیں، پاکستان نے ثالثی اور مصالحت کا راستہ اختیار کرکے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان متوقع عارضی معاہدے میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر عالمی حلقوں میں کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب دبئی اور متحدہ عرب امارات کے لیے کی ایوی ایشن انڈسٹری اور سیاحتی انڈسٹری تاحال پرانی ڈگر پر واپس نہیں آسکی ہے،عالمی سیاست کے بدلتے حالات نے یو اے ای کو بھی گھیرے میں لیا اور انہوں نے اپنے پرانے دوستوں کو دور اور مفاد پرستوں کو قریب کیا۔ ماضی میں یو اے ای نے اپنی معیشت کو مغربی سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کے ذریعے مضبوط بنایا، لیکن بدلتی عالمی سیاست اب اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ وہ اپنے دیرینہ اور قابلِ اعتماد علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو ایک بار پھرمزید مضبوط کرے۔ پاکستان اس تناظر میں ایک قدرتی اور اہم اتحادی کے طور پر سامنے آتا ہے۔پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، معاشی اور عوامی بنیادوں پر بھی مضبوط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی دبئی اور دیگر اماراتی ریاستوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستانی افرادی قوت، تجارت، تعمیرات، بینکاری اور خدمات کے شعبوں میں یو اے ای کی معیشت کا اہم حصہ ہے۔ یہی تعلقات مستقبل میں دونوں ممالک کو مزید قریب لا سکتے ہیں۔اگر امریکا اور ایران کے درمیان یہ عارضی معاہدہ مستقل امن کی طرف بڑھتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ دبئی اور خلیجی معیشتوں کو ہوگا۔ فضائی آپریشنز بحال ہوں گے، سیاحت دوبارہ فروغ پائے گی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور عالمی تجارت کو بھی استحکام ملے گا۔ لیکن اگر جنگ بندی ناکام ہوئی اور کشیدگی دوبارہ بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت بھی شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ اور اگر ماہ جولائی تا اگست تک یہ مستقل جنگ بندی اور صلح نہیں ہوتی تو اس سے ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ پوری دنیا بدترین اکنامی کا سامنا کریگی اور بہت بڑابحران آئے گا جوپوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا،بڑے بڑے ممالک کی اکنامی زمین بوس ہو جائے گی، میں سمجھتا ہوں پوری دنیا کو یکجا ہو کر جس طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم میاں شہباز شریف دل و جان سے صلح کی کوششیں کی ہیں اسی طرح باقی تمام بڑے ممالک بالخصوص روس،چائنا اور تمام یورپی ممالک امریکہ اور ایران پر دباو¿ ڈالیں اور انہیں مشورہ دیں کہ وہ صلح کریں اور دنیا کے امن اور معیشت کو محفوظ بنائیں۔دنیا پہلے ہی مہنگائی، توانائی بحران اور معاشی دباو¿ سے گزر رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ایک بڑی جنگ عالمی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس، چین، یورپی ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی کھلے لفظوں پاکستان کی طرح مذاکرات اور مصالحت کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ دنیا ایک نئے معاشی طوفان سے بچ سکے۔آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو فوقیت دی جائے۔ بیرونی طاقتوں کی مداخلت اگر صرف مفادات کے لیے ہو تو وہ کبھی پائیدار امن نہیں لا سکتی، لیکن اگر یہی قوتیں جنگ روکنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور خطے کو استحکام دینے میں کردار ادا کریں تو امن ممکن ہے۔پاکستان نے حالیہ بحران میں یہی مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس موقع کو مستقل امن میں بدلتی ہیں یا ایک بار پھر دنیا کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔

مزیدخبریں