معرکہ حق و فتح مبین: معجزہ خداوندی

09:04 AM, 13 May, 2026


معرکہ حق کی پہلی سالگرہ منائی جا چکی ہے۔ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ اخبارات میں اس واقعہ کی خوب تشہیر کی گئی۔ خوب جشن منایا گیا۔ قوم نے فخر کا مظاہرہ کیا۔ ازلی دشمن پر فتح کا جشن منایا گیا، قوم نے انتہائی مشکل اور ناگوار حالات میں بھی قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی کاوش کی۔ پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ فیلڈ مارشل کی قیادت نے ہی قوم کو حقیقی فتح سے ہمکنار کیا، وگرنہ یہی فوج تھی کچھ سال پہلے عمران خان وزیراعظم تھے، جنرل باجوہ سالار اعلیٰ تھے، جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو وزیراعظم نے اسمبلی میں کہا کہ ”کیا میں ہندوستان پر حملہ کر دوں“ دوسری طرف جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ ہمارے پاس ٹینکوں میں ”ڈیزل ڈالنے کے پیسے نہیں ہیں“اس طرح کی سیاسی و عسکری قیادت کی موجودگی میں ہماری مسلح افواج دشمن کے خلاف کچھ بھی نہیں کر سکیں۔ وہی فوج 2025ءمیں تھی جس نے دشمن کے چھکے چھڑا دیئے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وژنری قیادت اور شہباز شریف کی فوجی قیادت کے ساتھ لازوال وابستگی نے ہندوستانی جارحیت کے خلاف پاکستان کو ایک ناقابل تسخیر قلعہ کی شکل دے دی تھی۔ پھر کیا تھا وہ معجزہ ہو گیا جسے معرکہ حق کہتے ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ ہندوستان کا غرور خاک میں مل گیا، پاکستان فاتح قرار پایا۔ ازلی دشمن ہندوستان پر حتمی فتح پائی۔
جس طرح پاکستان کا قیام لاریب ایک معجزہ ہے جو 27 رمضان المبارک کو وقوع پذیر ہوا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت اور آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے پاکستان کا قیام دیکھنے میں آیا تو دنیا حیران ہوئی کیونکہ اس وقت تاریخ کا دھارا کسی اور سمت میں بہہ رہا تھا۔ مسلمانوں کی قدآور سیاسی، مذہبی اور روحانی قیادت بھی مسلم لیگ اور اس کی قیادت سے موافقت نہیں رکھتی تھی، نہ فکری طور پر اور نہ ہی عملی طور پر کوئی بھی مسلم لیگ و قائداعظم کے ساتھ کھڑا تھا۔ عدم موافقت کی تفاصیل کا بیان کیونکہ ہمارا موضوع نہیں ہے اس لئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔ قائداعظم نے ایک ملک تخلیق کر دکھایا جو اس دور کی مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست تھی۔ خلافت عثمانیہ کے انہدام کے بعد اہل حرم کے لئے ایک امید و نوید کی شکل کے طور پر سامنے آئی۔ ہندو نے اسے تسلیم نہیں کیا پہلے وہ امید لگائے بیٹھے رہے کہ ناتواں سی ٹوٹی پھوٹی مملکت خود ہی کچھ عرصے میں ناکام ہو جائے گی اور پھر بس یہ جا وہ جا۔ ویسے حالات اسی قسم کے تھے۔ قدرت نے اسے ناکام نہیں ہونے دیا پھر مکار ہندو نے خود اسے ناکام بنانے کے لئے عملی کاوشیں شروع کر دیں، سازشیں کرنا شروع کر دیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان ایسی ہی سازشوں کا شاخسانہ تھا۔ عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ بھارتی سازشوں کا دور چلتا رہا حتیٰ کہ 10مئی 2026ءآگیا۔ قدرت نے پھر معجزہ کر دیا۔ جی ہاں ہمارے سپوتوں نے ازلی دشمن پر فتح مبین پائی، اسے معجزہ کہنا بے جا ہرگز نہیں ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان ہر اعتبار سے بڑا ملک ہے۔ ہندوستان کی آبادی 144 کروڑ سے زائد اور رقبہ 33 لاکھ مربع کلومیٹر کے برابر ہے جبکہ پاکستان کی آبادی 26 کروڑ اور رقبہ 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 20/22 ارب ڈالر کے برابر ہوتے ہیں جبکہ انڈیا کے خزانے میں 690 ارب سے زائد ہے۔ ہماری سالانہ برآمدات کا حجم 22/23 ارب ڈالر کے برابر ہوتا ہے جبکہ ہندوستان 135 ارب ڈالر سالانہ کماتا ہے۔ پاکستان میں فی کس آمدنی 1700 ڈالر جبکہ انڈیا میں 2813 ڈالر فی کس ہوتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ ہندوستان ہم سے کس قدر بڑا اور تگڑا ملک ہے۔ اب ذرا ہندوستان کی عسکری قوت کو بمقابلہ پاکستان دیکھتے ہیں:
ہماری ریگولر فوج کی تعداد 6 لاکھ 54ہزار اور محفوظ نفری 5 لاکھ پچاس ہزار ہے جبکہ ہندوستان کی ریگولر آرمی 14 لاکھ اور محفوظ فوج 11 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ انڈین ائیرفورس کے پاس کل 2659 جہاز ہیں جن میں 101 فائیٹر ہیں جبکہ پاکستان ائیرفورس کے پاس 1504 جہاز ہیں، ان میں 60 لڑاکا ہیں۔ ہندوستان نیوی کے پاس 2ائیرکرافٹ کیرئیر اور 13 ڈسٹرائیر ہیں۔ پاکستان کے پاس نہ ائیرکرافٹ کیرئیر ہے اور نہ ہی ڈسٹرائیر، انڈیا کے پاس 18 جبکہ پاکستان کے پاس 8 میرینز ہیں۔ پاکستان سالانہ 10.4 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کرتا ہے جبکہ ہندوستان 74 ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ یہ موازنہ اس لئے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ قارئین کو اندازہ ہو سکے کہ پاکستان نے اپنے سے کتنے بڑے دشمن پر فتح پائی ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاک فوج کا 145 ممالک میں 14وا ں نمبر ہے۔ اپنی صلاحیت اور قوت کے اعتبار سے پاکستانی فوج عالمی سطح پر 14 ویں نمبر پر آتی ہے جبکہ ہندوستانی فوج چوتھے نمبر پر براجمان ہے۔ کچھ ایسا ہی مقام ائیرفورسز کا ہے۔ انڈین ائیرفورس عالمی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر جبکہ پاک فضائیہ ساتویں نمبر پر آتی ہے۔ ایسی تمام برتریوں اور بڑائیوں کے باوجود پاکستان، ہندوستان کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گیا ہے تو کیا یہ رحمت خداوندی نہیں ہے۔ کیا یہ قیام پاکستان کی طرح ایک معجزہ نہیں ہے۔ پاکستان کی اس فتح نے دور حاضر کے جنگی منظرنامے میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں زور رافیل گرائے پر دیا جا رہا ہے اور اسے ہی کارنامہ سمجھا جا رہا ہے۔ گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد پر بات کی جاتی رہی ہے کہ طیارے 5 گرائے گئے یا 8، اب تو گیارہ کی آواز بھی سننے میں آرہی ہے حالانکہ پاکستان نے طیارے گرانے کے علاوہ بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اتنی ہی اہمیت کی حامل ہیں۔ کچھ 
لوگوں کو پاکستان کی فتح ہضم نہیں ہوئی اس لئے انہوں نے طیارے گرائے جانے کو زوروشور سے بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور اس میں پخ یہ لگا دی کہ یہ سب کچھ چینی حربی نظام کی دستیابی کے باعث ممکن ہوا۔ گویا یہ جیت ائیرفورس کی نہیں بلکہ چینی ٹیکنالوجی کی ہے۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے کہ پاکستان نے تینوں فورسز کو یکجا کر کے، یونٹی آف کمانڈ کے ذریعے اس طرح حملہ کیا کہ دشمن چت ہو گیا لیکن اصل کمال تو ان افراد کا ہے جنہوں نے یہ سب کچھ ممکن کر دکھایا۔ کسی بھی ہتھیار کے پیچھے کام کرنے والا دماغ اور ہاتھ ہوتا ہے جو اسے کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔ اگر ہتھیار اور آلات ہی اہم ہوتے تو انڈیا کے پاس دنیا کی ناقابل تسخیر ٹیکنالوجی سے لیس رافیل تھے پھر وہ کیسے گر گئے۔ انڈیا کے پاس روس کا دیا گیا جدید ترین ریڈار نظام تھا۔ وہ پاکستانی ماہرین نے تباہ کر دیا۔ ہتھیار و ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ہتھیار کے پیچھے بیٹھا شخص ہتھیار/ٹیکنالوجی سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنی برتری ثابت کر دکھائی ہے۔ پاکستان نے اپنے سے بڑے دشمن پر فتح پا کر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور اسے اللہ کریم کی اعانت بھی حاصل ہے۔ اللہ کا ہاتھ پاکستان پر سایہ فگن ہے۔ پاکستان کی فتح معجزہ ہے۔ قیام پاکستان کی طرح معرکہ حق میں پاکستان کی فتح مبین بھی ایک معجزہ ہے۔

مزیدخبریں