سات اکتوبر 2023 سے لیکر اب تک ایک بیان میڈیا پر بہت زیادہ فوکس کیا جارہا ہے ۔ گریٹر اسرائیل گریٹر اسرائیل ۔خاص منصوبہ بندی کے تحت اس دو لفظی جملے کو ہوا بنا کر مسلم دنیا میں خوف وہراس پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے ۔ اعصاب کو کمزور کیا جارہا ہے ، جذبات سے کھیلا جارہا ہے ۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت سوںنے دجال کے خروج کا ٹائم فریم دنیا شروع کر دیا ۔ یہ سب کچھ وہ کر رہے ہیں جو خود متذبذب ہیں ۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں بلکہ زمینی و شرعی حقائق ہیں کہ گریٹر اسرائیل کا قیام ”دجال کی آمد“ ہی ملعون یہودیوں کے خاتمے کا واضح اشارہ ہے ، نوشتہ دیوار ہے ۔ مستقبل کے واقعات کے حوالے سے بیان کی گئی احادیث مبارکہ کے تناظر میں حتمی بات یا وقت کا تعین تو نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ کہا جا سکتا ہے یہ ہو سکتا ہے ، ایسا ہو سکتا ہے، ایک امکانی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے اس کے باوجود حتمی طور پر نہیں۔ بہرحال اس دوران مسلمان اپنی بعض بداعمالیوں کے سبب سخت پکڑ میں آئیں گے جبکہ گریٹر اسرائیل کا خاتمہ باعمل قرآن وسنت کے حامل مسلمانوںکے ہاتھوں ہی ہونا ہے ۔ کس مسلمان نے کس گروہ میں شامل ہونا ہے؟ یہ اس کی صوابدید پرہے۔
گذشتہ 78سال کے دوران اسرائیل کی جانب سے ہونے والی سفاکیت ، فرعونیت ، قتل وغارت گری کو سمجھنے کے لیے صدیوں پیچھے جانا پڑے گا ۔ جب فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے آگ کا ایسا بگولہ آیا۔ جس نے پورے مصر کو گھیر لیا اور تمام قبطیوں ( فرعون کی قوم ) کو جلا کر راکھ کر دیا ۔یہ عجیب وغریب خواب دیکھ کر فرعون بہت پریشان ہوا ۔ اس نے نجومیوں ،کاہنوں کو بلا کر اس کی تعبیر پوچھی۔ نجومیوں نے تعبیر بتاتے ہوئے کہا ” تیری قوم میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو تیری بادشاہت و سلطنت کے خاتمے کا سبب بنے گا “۔تعبیر سن کر فرعون اس حد تک خوف زدہ ہو گیا کہ اس نے اپنی سلطنت میں پیدا ہونے والے ہر نر بچے کو قتل کرنے کا حکم صادر کر دیا ۔ جس کے نتیجے میںہزاروں معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔لیکن اللہ کی مشیت کچھ اور ہی تھی ۔سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے آخر کار فرعون کے محل میں پرورش پا کر اس کی خدائی اور سلطنت کو چیلنج کر دیا۔لامحالہ آ ج اسی خوف کا شکارملعون یہودی و صہیونی ہیں ۔ وہ مسلمانوں سے زیادہ ان احادیث مبارکہ کا ادراک رکھتے ہیں ۔ جس میں ملعونوں کے مغلوب ہونے کا نہیں بلکہ خاتمے کا ذکر بہت ہی واضح انداز میںبیان کیا گیا ہے ۔کہ ہرشجرو حجر پکار اٹھے گا ”اے مسلمان ! میرے پیچھے یہودی چھپا ہے، آﺅ اسے قتل کرو“۔ سوائے غرقد کے درخت کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے ۔ موجودہ سنگین صورت حال کا تقاضا تو یہی ہے کہ مسلم پرنٹ ، سوشل اور الیکٹرونک میڈیا گریٹر اسرائیل کا نام لینے کی بجائے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور خلیفہ مہدی محمد بن عبداللہ کا نام لیکر ملعونوں پر خوف طاری جاری رکھے ۔ بار بار گریٹر اسرائیل کا نام لےکر یہ تاثر دینے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے کہ آج نہیں تو کل دجال مدینہ پہنچنے والا ہے۔موجودہ جنگی حالات میںخوف زدہ ہونے کی بجائے اس نبوی سٹرٹیجک پہلو کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اشد ضروری ہو گیا ہے۔
کیا یہ محض اتفاقات زمانہ ہے یاپھر مشیت الٰہی؟۔ فرعون کو بیت القدس کی جانب سے شعلے برساتی آگ نظر آئی ۔ یعنی فرعون کی رعونیت و خدائی نظریہ کے زمین بوس ہونے کا آغاز اسی سرزمین سے ہوا۔حیرت انگیز طور پر آج بیت المقدس ملعونوں کے قبضے میں ہے ۔ جو اسی خطے کا ہی حصہ ہے ۔آنے والے وقت کے موسیٰ یعنی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اسی خطہ میں ناصرف نزول ہونا ہے بلکہ اسی بیت المقدس کے قریب ” لد Lod, Lydda “ کے مقام پر ملعون یہودیوں کے سرغنے دجال کو بھی اپنے خنجر سے قتل کرناہے ۔ فرعون اپنے عظیم الشان لشکر کے ساتھ سمندر برد ہوا ۔اور رہتی دنیا تک نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ اسی طرح اصفہانی یہودیوں سمیت اسرائیل میں موجودہ 60لاکھ یا اس سے زیادہ یہودی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام خلیفہ مہدی محمد بن عبداللہ اور ان کے لشکر کے ہاتھوں جہنم واصل ہوں گے ۔ پہلے فرعون کو اس کی سرکشی ، عہد شکنی، خدائی دعوےٰ ، تکبر، شرک، نسل کشی جیسے بھیانک افعال کی بنا پر اس کی قوم سمیت غرقاب کر دیا گیا۔اور بنی اسرائیل کو بچا لیا گیا۔اسی طرح اسرائیلی بھی انہی اعمال بدکی وجہ سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اپنے بدترین انجام کو پہنچیں گے۔ مسلمانوں کو نہ صرف بچا لیا جائے گا بلکہ وہ دنیا کے فاتح بھی کہلائیں گے۔جس کے ساتھ ہی دنیا امن کا گہوارہ بن جائے گی۔ا س وقت فرعون اور اس کے لشکر کے لیے مقام عبرت یہی خطہ تھا اور آنے والے وقت میں یہودیوں کے خاتمے اور اسلام کے غلبے کا یہی خطہ سرزمین ہو گا۔ اور ہر سو کلمہ توحید کا پرچم لہرایا جائے گا ، دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غلبہ ہو جائے گا ۔تو کیا تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے؟ ۔بے شک ” گریٹر اسرائیل کا قیام ( دجال کی آمد ) ہی یہودیوں کا خاتمہ ہے “۔ نسل پرستوں کا خوف فرعون کے خوف سے زیادہ بڑا ہے ۔فرعون نے تو صرف ہزاروں بچے مارے تھے ۔دجال کے پیروکاروں کی شیطانیت کے خوف کا یہ عالم ہے۔ آٹھ دہائیوں سے لیکر اب تک ایک ملین سے زائد نہتے مرد ، عورتیںاور معصوم بچے و بچیاں شہید کر چکے ہیں۔ اپنے خاتمے کے خوف نے ان کی راتوں کی نیندیں اڑا رکھی ہے ، ذہنی توازن کھو چکے ہیں ۔ یہی وقت ہے ان کے اسی خوف کو کیش کیا جائے۔ ” بے شک گریٹر اسرائیل ہی Elimination of the Jews “ہے۔
گریٹراسرائیل درحقیقت یہودیوں کا خاتمہ ہے
09:02 AM, 13 May, 2026