چینی فلسفی سن تزو نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ''فنِ جنگ'' میں لکھا ہے:''وہ جنگجو جو بغیر لڑے دشمن کو زیر کر لے، وہی سب سے بڑا فاتح ہے''۔ سن تزوکا قول آج بھی اتنا ہی بامعنی ہے ،میز پر بیٹھ کر جو حاصل ہو، وہ میدانِ جنگ میں بہائے گئے خون سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔
جب دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے رہنما آمنے سامنے بیٹھتے ہیں، تو ہر لفظ کا وزن ہوتا ہے اور ہر خاموشی کا بھی۔ مئی کے وسط میں بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات کئی تہوں میں لپٹی ہوئی ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ چودہ اور پندرہ مئی کو چین کے سرکاری دورے پر جانے والے ہیں۔ یہ دورہ پہلے مارچ میں طے تھا، مگر ایران میں چھڑنے والی جنگ نے سب حساب کتاب الٹ دیئے۔ جنگ جب امریکی اندازوں سے زیادہ طویل ہو گئی تو یہ دورہ ملتوی کر کے مئی کے وسط میں رکھ دیا گیا۔ٹرمپ کی خواہش تھی کہ وہ ایران میں فیصلہ کن فتح کے نشے میں سرشار ہو کر بیجنگ پہنچیں۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اب وہ ایک نامکمل جنگ کا بوجھ اٹھائے چین جا رہے ہیں اور یہی بوجھ اس دورے کو پیچیدہ بناتا ہے۔
اس دورے میں معیشت اور ٹیکنالوجی سب سے اہم موضوعات ہوں گے۔ ٹرمپ اپنے ساتھ ٹیک ورلڈ، ایگزون اور بوئنگ جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے سربراہان لے کر جا رہے ہیں۔ یہ وفد بذاتِ خود ایک پیغام ہے کہ یہ دورہ محض سفارتی کارروائی نہیں، کاروبار کی بھی بات ہے۔
چین کو نایاب ارضی دھاتوں کے معاملے میں امریکہ پر واضح برتری حاصل ہے۔ یہ دھاتیں جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پچھلے سال جب امریکہ نے بھاری ٹیرف کی دھمکی دی تو چین نے ان دھاتوں کی فراہمی روکنے کا اشارہ کیا۔ یہ اشارہ کافی تھا۔دوسری جانب چین سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا کہ معاشی مفادات اور سفارتی تعلقات کو بیک وقت کیسے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
ایران کی جنگ چین کے لیے محض ایک خبر نہیں، ایک خطرہ ہے۔ چین کی تیل درآمدات کا چوالیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے آتا ہے۔ اس میں سے گیارہ فیصد براہ راست ایران سے خریدا جاتا ہے، بیس فیصد روس سے اور وہ روسی تیل بھی ہرمز ہی سے گزرتا ہے۔اس بنا پر آپ آبنائے ہرمز کو ”تیل کی شہ رگ“ کہہ سکتے ہیں۔
آرامکو کے سربراہ نے ابھی ایک تازہ بیان میں یہ کہا ہے :اگر آج آبنائے ہرمز دوبارہ کھول بھی دی جائے تو عالمی منڈیوں کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگیں گے، اگر یہ تعطل مزید چند ہفتے جاری رہا تو حالات 2027 سے پہلے معمول پر نہیں آسکیں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ سے قبل آبنائے سے روزانہ تقریباً 70 جہاز گزرتے تھے، لیکن اب یہ تعداد شدید کمی کے بعد صرف 2 سے 5 جہاز روزانہ رہ گئی ہے، جو سپلائی چین میں بڑے بگاڑ کی عکاسی کرتا ہے۔اسی بنا پر عالمی منڈی ہر ہفتے تقریباً 100 ملین بیرل تیل سے محروم ہورہی ہے۔
جب سے امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی کی ہے، یہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ پہلے ایران نے پاکستان، چین اور بھارت کو دوست ممالک کی حیثیت سے تیل کی ترسیل کی سہولت دے رکھی تھی، مگر اب یہ در بند ہے۔ اگر جنگ مزید طول پکڑی تو چین کو روس سے مزید تیل منگوانا پڑے گا ، ایک مہنگا اور پیچیدہ متبادل۔
شی جن پنگ نے حالیہ مہینوں میں خود کو ایک ذمہ دار عالمی کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، اٹلی کی وزیر اعظم میلونی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس جنگ کا سفارتی حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔عباس عراقچی نے چند روز پہلے بیجنگ کا غیر معمولی دورہ کیا۔ وہاں انہوں نے نہ صرف چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی بلکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے فون پر بھی بات کی۔ یہ سفارتی سرگرمی اتفاقی نہیں بلکہ بیجنگ خود کو درمیان میں رکھنا چاہتا ہے۔
عالمی معیشت بے چینی سے چاہتی ہے کہ جنگ رکے تیل، گیس، کھاد اور پیٹروکیمیکلز کی قلت نے ہر طرف مہنگائی کو ہوا دی ہے۔ایران اور امریکہ کی جنگ نے عالمی معیشت کو ایک ایسے طوفان میں دھکیل دیا ہے جس کی لپٹیں دور دراز ملکوں تک پہنچ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کو جہاں روکا، وہاں اس کے اثرات صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہے، پیٹروکیمیکلز مہنگے ہوئے تو پلاسٹک سے لے کر ادویات تک سب کی قیمتیں چڑھ گئیں، ایلومینیئم کی سپلائی رکی تو تعمیرات اور صنعت کا پہیہ سست پڑ گیا، کھادوں کی قلت نے کھیتوں کو متاثر کیا تو خوراک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ ایک عام آدمی جو اس جنگ سے ہزاروں میل دور بیٹھا ہے، وہ بھی اپنی روزمرہ خریداری میں اس کی چبھن محسوس کر رہا ہے ، یہی وہ پوشیدہ محاذ ہے ،جو سرحدوں اور بحری اڈوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
امریکی صدر کے دورہ چین میں سب سے اہم پوائنٹ تائیوان کا سوال ہے ؟یاد رکھیں !چاہے دونوں رہنما تجارت پر اتفاق کر لیں، چاہے توانائی کے معاملات طے پا جائیں ،تائیوان کا سوال میز پر پڑا رہے گا۔ چین کے لیے یہ جزیرہ اپنے وجود کا حصہ ہے، ایک اٹوٹ انگ۔ امریکہ کے لیے یہ جمہوریت کا قلعہ ہے اور مائیکرو چپ ٹیکنالوجی کا مرکز بھی۔دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کا دارومدار تائیوان کی سیمی کنڈکٹر صنعت پر ہے۔ سمارٹ فون سے لے کر جنگی طیارے تک ، سب اسی جزیرے کی چپس پر چلتے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں، ایک اقتصادی اور عسکری معما ہے جس کا کوئی آسان حل موجود نہیں۔
ٹرمپ اور شی کے سامنے مسائل کا انبار ہے: معیشت، توانائی، ٹیکنالوجی، جنگ اور تائیوان۔ ان تہہ در تہہ موضوعات کا حل محض دو دن میں نکلنا ممکن نہیں۔ مگر یہ دورہ ایک اشارہ ضرور دے گا کہ دونوں ممالک ٹکراﺅ کی راہ پر ہیں یا گفتگو کی۔ اور آج کی دنیا میں یہ اشارہ بھی کم اہم نہیں۔
صدر ٹرمپ کا دورہ چین ہاتھی کیسے ناچیں گے؟
09:02 AM, 13 May, 2026