(پہلا حصہ)
آج میرے کالم کے دو ایشوز ایک پاک بھارت جنگ کے بعد لاہوری تاجر برادری کی طرف سے پاک افواج کے ساتھ یکجہتی اور دوسری بڑی خبر لاہوری ٹریڈ باڈی میں ایک ایسا بریک تھرو تھا جس کی ساری ٹریڈ باڈیز منتظر تھیں۔ چلتی خبر کے مطابق یو بی جی کے چیئرمین ایس ایم تنویر، اعجاز گوہر کا پیاف کے چیئرمین میاں انجم نثار کے ساتھ دوستی کا ہاتھ ملانا تھا اور بڑے عرصہ کے بعد اس خبر نے جہاں دشمنان جان کو افسردہ کیا وہاں اکثریت نے بارش کا پہلا قطرہ قرار دیا۔ میرے نزدیک یہ بریک تھرو آنے والے وقت میں لاہوری سیاست کے ساتھ فیڈریشن آف پاکستان، چیمبر مثبت اور اچھے اثرات مرتب کرے گا۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز یوبی جی چیئرمین ایس ایم تنویر کے ساتھ میں نے ملاقات کی اور میرے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔ گورنر ہائوس لاہور سے لے کر میرے گھر ہونے والی ملاقاتوں کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔ ان کا یہ کہنا کہ گزشتہ فیڈریشن کا الیکشن جیتنے کے بعد میں نے سب کو ایک پیغام دیا تھا کہ مجھے مبارکباد نہ دیں۔ میں اس دن مبارکباد وصول کروں گا جب میں تمام تاجر برادری کو ایک میز پر لے آئوں گا۔ اس کے بعد دونوں اطراف سے تعلقات کی بہتری کے لئے ایک کمیٹی بنی جو گزشتہ سوا سال سے کام کر رہی تھی۔ اس کمیٹی میں شیخ ریاض، ناصر حیات مگوں کے نام نمایاں ہیںپھر ان کی کوششیں رنگ لائیں اور ایک بڑی لیڈرشپ کے درمیان برف پگھلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
میرے نزدیک یہ خبر نہیں نہ اس کو خبر کی حد تک دیکھا جائے بلکہ بڑی لیڈرشپ کا ہاتھ ملانا یکجا ہو کر چلنا مستقبل قریب میں گندی الزاماتی سیاست کا خاتمہ کرنا بہت سی ٹریڈ دکانیں جہاں بند ہو جائیں گی وہاں فیڈریشن اور چیمبرز کے درمیان تعلقات کو بہت اہمیت ملے گی اور آنے والے لاہور چیمبر کے انتخابات 2026ء میں وہ گند بھی اپنے خاتمے کو پہنچ جائے گا جس سے تاجر کے سفید کالر کو جو داغ لگائے جا رہے تھے ان کا خاتمہ ہوگا۔ میرے خیال میں ایس ایم تنویر، اعجاز گوہر اور میاں انجم نثار آج ٹریڈ باڈیز میں بہت بڑی لیڈرشپ کے مقام پر کھڑے ہیں اور اس میں دو رائے نہیں کہ ٹریڈ کی سازشی دکانیں تو بند ہوں گی اس لئے کہ یہ تینوں لیڈر ٹریڈ باڈیز کے اندر پڑے گند کو صاف کرنے کی بھرپور صلاحیتیں رکھتے ہیں اور جس وقت کا سب کو انتظار تھا وہ آ گیا ہے۔
جس فوج کے پیچھے عوام اپنی جان ہتھیلوں پر لے کر کھڑی ہو اس فوج کو دنیا کی کوئی طاقت ہرانا تو بہت دور کی بات اس کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرأت نہیںرکھی۔ اس کا عملی مظاہرہ جہاں پاگل مودی نے دیکھا وہاں عالمی قوتوں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ پاکستان کی افواج خاص کر فضائیہ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ 1966ء یا 1971ء کا پاکستان نہیں ہے۔ یہ پاکستان ان محفوظ ہاتھوں میں ہے جس کی سول اور عسکری طاقت نے جس انداز سے رات کے اندھیرے میں چھپ کر پاک دھرتی پر حملہ کرنے کی ہمت تو کر ڈالی اور پھر پاک افواج کے جوانوں نے فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد جب تم پر نعرہ تکبیر کے ساتھ بھارت پرحملہ آور ہوا اور صرف چند گھنٹوں میں تمہارا ایسا حشر نشر کر دیا کہ تم امریکہ اور سعودی عرب کے پائوں پڑ گئے کہ ہمیں بچائو… تم کو شکرگزار ہونا چاہئے ٹرمپ کا ورنہ مودی تیرا سندور اور غرور مٹ چکا تھا۔ تیرا بھارت بھی ہم دنیا سے مٹا دیتے…
ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن ساتھیو
تم نے بزدلی کا مظاہرہ کیا، ہم نے بہادری کے ساتھ تمہارے گھر گھس کر مارا… یہاں جنگ نے پوری قوم کو یکجا کردیا وہاں پاکستان بھر کی تاجر برادری نے یک زبان ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا۔ پاکستان زندہ باد لاہوری ٹریڈ باڈی کی آواز کا یہاں ذکر کروں گا سب سے پہلے لاہور چیمبر کی موجودہ باڈی کا جس میں میاں انجم نثار پیاف، علی حسام پائنیر گروپ اور خالد عثمان پروگریسو گروپ شامل ہیں۔ لاہور چیمبر کے صدر ابوذر شاد نے سب سے پہلے ایک ایسے فنڈ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد پاک افواج کی مددکرنا ہے اور بڑی بات یہ کہ یہ فنڈ ایک کروڑ روپے کی بڑی رقم سے کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی لاہوری تاجر برادری نے جوش و عزم کے ساتھ ابوذر شاد کی آواز بنے اور پھرانہی کی سربراہی میں افواج پاکستان کے حق میں ایک بڑی ریلی نکال کر ثابت کر دیا کہ صرف لاہور نہیں پاکستان بھر کی تاجر برادری فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ دوسری طرف ایک اور افواج پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے لاہور آفس میں دیکھنے کو ملا۔ ایک بھرپور پریس کانفرنس جس میں صدر فیڈریشن عاطف اکرام شیخ، پیٹرن چیف یو بی جی ایس ایم تنویر، زین افتخاراور اعجاز ثاقب نائب صدر شامل تھے۔ انہوں نے بھرپور انداز میں پاک افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا بلکہ صدر فیڈریشن عاطف اکرام شیخ نے ایک فنڈ کے اجراء کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان بھر کے تاجر برادری کو مدعو کریں گے۔
اس پریس کانفرنس میں یو بی جی کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے بھرپور انداز میں پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا:پاکستان نے جس طرح بھارت کے دانت کھٹے کیے اور جنرل عاصم منیر مرد مجاہد نے بھارت پر جوابی وارکرکے پوری دنیا کو بتادیا کہ ہم زندہ قوم ہیں اتنا گندہ دشمن جس نے ہمارے معصوموں کو بھی نہیں چھوڑا میں یہاں پاک بحریہ پاک فضائیہ اور میڈیا کو مبارک باد دوں گا جنہوں نے پوری قوم کا سربلند کردیا۔ (جاری ہے)
پائنیر گروپ کے چیئرمین علی حسام نے اپنی تقریر میں پاک افواج خاص کر فضائیہ کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارا سر پوری دنیا کے آگے سرخرو ہو گیا ہے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد قوم کے اندر جذبے کی جو امید آپ نے جگائی اور قوم کو قوم بنانے میں جو کردار ادا کیا اس پر ہم جنرل عاصم منیر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ناصرف بھارت کو جو اس خطے میں چوہدری بننے جا رہا تھا اس کی چوہدراہٹ اور غرور کو توڑا بلکہ دشمن کو یہ بات باور کرا دی کہ ہم دنیا کی بہتری اور بڑی فوج ہیں۔ ہماری جانیں بھی پاکستان پر قربان ہیں۔ذکر کروں گا پیاف کے اہم رہنما میاں محمد علی کا انہوںنے میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ قوم سرخرو… فوج سرخرو… شہداء امر ہوگئے… غازیوں اور مجاہدین کو سلام… ڈاکٹر قدیر کو خراج تحسین۔
لیکن جو مار آج ہماری فوج خصوصاً ایئرفورس نے ماری ہے، اس سے دنیا بھر میں اور خصوصاً بھارت میں ہماری دھاک بیٹھ چکی ہے۔ دنیا کو اندازہ ہوگیا ہے کہ ہمارے پاس انڈیا سے کہیں سے پروفیشنل فورسزز موجود ہیں۔ انڈیا کو صرف ایک دن کی عبرت ناک مار سے ایک نئی تاریخ رقم ہوگئی۔ اسرائیل اور عالمی طاقتوں کو پتہ چل گیا کہ پاکستان ایک طاقتور ملک ہے۔ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر زندہ ہوگیا اور 71ء کی شکست کا داغ بھی دھل گیا۔ یہ طعنہ بھی بے معنی ہوا کہ ہماری فوج صرف ملی نغمے تیار کرتی ہے، یہ تاثر بھی زائل ہوا کہ 65ء کی جنگ کے بہادری کے معرکے جو ہم نے کتابوں میں پڑھے اور بزرگوں سے سنے، وہ محض قصے تھے۔
آج کی نئی نسل کو اگلے کئی سالوں تک فخر سے سر اٹھا کر چلنے کا جواز مل گیا۔
الحمدللہ
ملک کا اور فوج کا امیج ساری دنیا میں بلند ہوا۔ بارہا کتابوں، خبروں اور بیانوں میں پڑھا اور سنا کہ ’’قوم کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔‘‘ آج یقین بھی ہوگیا۔
حالیہ دنوں میں پاکستان کو تین محاذوں پر بڑی کامیابیاں ملیں۔ ہم نے بھارت کو بھارت کے اندر جا کر تباہ کیا، ہم نے سفارتی سطح پر بڑی جنگ جیتی اور سپر طاقتوں کو بھی پاکستان کی اہمیت اور سالمیت کا احساس تو ہوا۔ تیسرا آئی ایم ایف نے اپنی قسط جاری کی۔ میرے خیال میں ایک جنگ ایسی ہے جو اس جذبے کے ساتھ لڑی جائے تو پاکستان دنیا کو فتح کر سکتا ہے اور وہ ہے معاشی جنگ اور یہ معاشی جنگ حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی۔ اس کے لئے پاکستان بھر کی تاجر برادری کو متحد ہونے کے ساتھ ساتھ ہر ایشو پر حکومت کو انگیج کرنا ہوگا۔ اگر یہی تاجر برادری دنوں میں کروڑوں روپے اکٹھے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے تو معاشی جنگ میں اس کے بڑھتے کردار کو دیکھنا ہوگا۔ موجودہ حکومت گزشتہ ڈیڑھ سال سے معاشی جنگ سے دوچار ہے اور کسی حد تک اس نے قابو تو پا لیا ہے اور یہاں جنرل عاصم منیر کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے معاشی سمت کو مومنٹ کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کیا اور انہوں نے کراچی اور لاہور کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقاتوں میں یہی پیغام دیا کہ آئیں ہم آپ کے ساتھ مل کر اس ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کریں۔ گرین پاکستان پراجیکٹ دیکھا جائے تو یہ حکومت کے اقدام تو ہیں مگر اس کے اصل محافظ تو تاجر ہیں جنہوں نے ان منصوبہ جات کو آگے بڑھانا ہے اور یہ اسی صورت میں نکلیں گے جب تاجر برادری ایک بڑے روڈ میپ کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ میری موجودہ تاجر لیڈرشپ سے گزارش ہے کہ وہ معاشی جنگ کو فتح کرنے کے لئے آگے آئیں اور آج وقت ہے حکومت کے ساتھ ہاتھ ملانے کا۔ آج وقت ہے مل جل کے آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کا۔ ٹریڈ سیاست کے بہائو میں اپنی اصل ذمہ داریوں کو نہ بھولیں۔ یہ ملک آپ ہی نے سنوارنا ہے کہ کسی قوم کی ترقی اور کامیابی میں تاجروں کا ہی بڑا کردار ہوتا ہے۔ وہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ انہوں نے ہی معاشی ٹریک کے راستوں کا تعین کرنا ہے اور یہ اسی صورت میں ہوگا جب تمام تاجر یہ سوچ لیں کہ سیاست سے پہلے ملک کی خدمت آج جتنا زور سیاست پر لگایا جاتا ہے اگر اسی کو آپ حکومت کے دروازے کی طرف موڑیں کہ وہ تو چاہتی ہے کہ تاجروں کو ساتھ لے کر چلیں۔ سابقہ حکومتوں کی نسبت شہبازشریف اور جنرل عاصم منیر کی نظری تو آپ پر ہیں اور وہ کئی مواقع پر آپ کو اعتماد میں لے چکے ہیں تو پھر یہ موقع ضائع نہ کریں۔ آپ اور حکومت ایک ہی گاڑی کا پہیہ ہیں۔ یہ اسی صورت میں چلے گا جب تاجر حضرات یہاں اپنے سلگتے مسائل حل کرائیں وہاں حکومت بھی دو قدم آگے بڑھے اگر ایسا ہو جائے تو ہم عشروں سے ہاتھ میں پکڑے کشکول کو توڑ سکتے ہیں۔