مشن’’بنیان مرصوص‘‘… عین نظریہ پاکستان

09:20 AM, 13 May, 2025

دنیا کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ حق و باطل آمنے سامنے آئے، لیکن ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوئی جس نے اللہ پر بھروسہ رکھا، اپنے نظریے سے وفاداری نبھائی، اور ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔ پاکستان نے بھی حالیہ تاریخ میں ایک ایسا ہی فیصلہ کن قدم اٹھایا جب دشمن نے معصوموں کا خون بہایا اور پاکستان کی خودمختاری کو للکارا۔
بھارت کی جارحیت: خودمختاری کی خلاف ورزی اور انسانی المیہ،چند دن قبل بھارت نے پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرتے ہوئے سرحد پار حملہ کیا جس میں معصوم شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ یہ ایک غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام تھا جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی تھا۔ اس جارحیت نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور پھر صرف چار دن بعد پاکستان نے ایک فیصلہ کن اور نظریاتی جواب دیا۔
جوابی کارروائی:’’بنیان مرصوص‘‘ مشن کا آغاز:پاکستان نے بھارت کی اس بزدلانہ حرکت کا جواب جس عظمت اور ایمان کے ساتھ دیا، اسے’’مشن بنیان مرصوص‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ مشن صرف ایک عسکری ردعمل نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی، روحانی اور اخلاقی پیغام تھا — ایک اعلان کہ پاکستان اسلام کے قلعے کے طور پر ہر ظلم، ہر زیادتی اور ہر باطل کے خلاف’’سیسہ پلائی ہوئی دیوار‘‘ بن کر کھڑا رہے گا۔
قرآنی بنیاد: مشن کا نام اور اس کی روح:اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:’’یقیناً اللہ اْن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔‘‘اسی آیت سے اخذ کیا گیا مشن ’’بنیان مرصوص‘‘ صرف جنگی کارروائی نہیں بلکہ قرآن کی عملی تفسیر تھا … ایک پیغام کہ مسلمان جب متحد ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔
اسلامی اصول قتال: حق کی جنگ، ظلم کے خلاف:اسلام میں قتال کا مقصد صرف دشمن کو مارنا نہیں بلکہ ظلم کا خاتمہ، مظلوم کی مدد، اور عدل و انصاف کا قیام ہے۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اْن کمزور مردوں، عورتوں، اور بچوں کی خاطر قتال نہیں کرتے؟‘‘
مشن ’’بنیان مرصوص‘‘ اسی آیت کا عملی جواب تھا … ایک اعلان کہ امت مظلوم نہیں، مدافع ہے؛ خاموش نہیں، مزاحم ہے۔
روحانی تیاری: قتال سے پہلے تزکیۂ نفس:اس مشن کی خاص بات یہ تھی کہ یہ صرف عسکری تیاری پر مبنی نہیں تھا بلکہ روحانی تربیت بھی اس کا حصہ تھی۔ مجاہدین کو نمازِ تہجد، قرآن فہمی، ذکر و اذکار، اور تقویٰ کی راہ پر ڈالا گیا۔ دشمن کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے نفس کو شکست دینا ضروری سمجھا گیا۔
منافقت اور بزدلی کا قلع قمع:یہ مشن اْن لوگوں کے لیے بھی پیغام تھا جو دشمن کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرتے ہیں، جو نفاق اور مداہنت کا شکار ہیں۔ قرآن ان کے لیے واضح حکم دیتا ہے:’’تو گردنیں مارو‘‘
یعنی جب باطل سامنے آئے تو مصلحت نہیں، مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔
امت کے لیے پیغام: جاگ اٹھو، متحد ہو جاؤ:مشن’’بنیان مرصوص‘‘ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی بیداری تھی۔ اس نے پوری امت مسلمہ کو جھنجھوڑا کہ:دشمن تمہیں صرف جغرافیائی نہیں، نظریاتی طور پر کمزور کرنا چاہتا ہے،اتحاد، ایمان اور قربانی کے بغیر بقا ممکن نہیں،صرف تلوار نہیں، قرآن بھی ہماری طاقت ہے،اسلامی فتح کا اصول: اللہ کی نصرت انہی کو ملتی ہے جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں۔
آخر میں قرآن کا پیغام یاد رکھنا لازم ہے:’’اور اللہ ضرور مدد کرتا ہے اْن کی جو اس کی مدد کرتے ہیں، بے شک اللہ قوی ہے، غالب ہے۔‘‘
یہی پیغام ہے مشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کا: اسلام صرف ایک مذہب نہیں، ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ جب کوئی قوم اس نظام پر عمل کرے، متحد ہو جائے، اور اللہ کی راہ میں جان دے، تو دنیا کی کوئی طاقت اْس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔

مزیدخبریں