اگر کوئی شخص کسی سے جھوٹ بولے، اس کا چند دن چند ہفتے، ہو سکتا ہے کچھ سال گزارہ ہو جائے مگر جب وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولے تو اس کی بربادی دستک نہیں اس کے گھر کے اندر ہی نہیں، اس کے من میں گھس جایا کرتی ہے۔ حالیہ جنگ کی تفصیلات بہت عرصہ آتی رہیں گی اور ہر تفصیل پہلے سے زیادہ خوفناک اور بھارت کیلئے ذلت کا سبب بنے گی۔ بھارت کے عوام فلموں کی دنیا میں رہتے ہیں۔ فلمی زندگی کو اصل زندگی سمجھتے ہیں یہ گھروں میں مثال بھی دینا ہو تو فلمی منظر سے دیتے ہیں کہ فلاں فلم میں شاہ رخ کیا کہتا ہے، امیتابھ کیا کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ یا کرشمہ کپور کیا کرتی ہے، کاجل کیا کہتی ہے، گویا ان کی زندگی پر فلمی مکالمے بہت اثر انداز ہیں۔ جھوٹ سننا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ بھارتی میڈیا سے اللہ کی پناہ ان کا ہی حوصلہ ہے جو سنتے ہیں۔ دراصل بھارت کے لوگ اور افواج ساون کے اندھے ہیں۔ ساون میں اندھا ہونے والا سمجھتا ہے کہ ابھی ساون ہی ہے چاہے پت جھڑ چل رہا ہو۔ 1971ء کی جنگ، جنگ نہیں ایک بین الاقوامی سازش تھی۔ ملک غلام مصطفی کھر نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت پہلے ہو چکا تھا۔ مشرقی پاکستان کی ایک الگ داستان ہے ورنہ بھارت کی کیا مجال جو 1965ء میں پناہیں ڈھونڈ رہا تھا۔ وہ 1971ء میں کیسے کچھ کر سکتا تھا۔ مشرقی پاکستان کے عوام ایک طویل عرصہ سے بہکائے بھی جا رہے تھے اور پھر اس میں آج تک تحقیق جاری ہے کہ معاملات کیا تھے۔ مختصر یہ کہ بھارت 1971ء کو حقیقت یوں سمجھ بیٹھا جیسے اس کی قوت سے یہ سانحہ ہوا تھا۔ قوت اور سازش میں فرق ہوتا ہے۔ آتے ہیں حالیہ جنگ کی طرف۔ اس کی بھارت دو تین ماہ پہلے سے تیاری کر رہا تھا۔ اس نے جو کیا وہ پلاننگ تھی، سازش تھی۔ پاکستان اس میں بالکل کلیئر اور دوٹوک صاف شفاف تھا پھر 7/6مئی کی رات کو جو انہوں نے کیا اپنے آپ کو اسرائیل اور ہمیں بغیر کسی وجہ کے غزہ سمجھ بیٹھا۔ میرے تجزیے کی بنیاد ہمیشہ اپنے مشاہدے اور علم پر ہوتی ہے۔ ہمارے جیسے ممالک میں جہاں نظام کو اولیت حاصل نہ ہو شخصیت کا بہت کردار ہوتا ہے۔ میں ہمیشہ شخصیت کو مدنظر رکھتا ہوں بلکہ آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں بڑے سے بڑے واقعات کے پیچھے کوئی نہ کوئی شخصیت
ہوتی ہے جو نظریات اور پالیسی کا نفاذ کرتی ہے۔ چاہے ابراہم لنکن ہو، صدر کینڈی ہو یا جارج بش یا چیئرمین مائوزے تنگ، لی کوان یو ہو، اتاترک، شہید ذوالفقار علی بھٹو ہو یا محترمہ بی بی شہید اور پھر یا ضیاء الحق۔ آتے ہیں موضوع کی طرف سید جنرل عاصم منیر سپہ سالار کی خاموشی پیغام دیتی ہے۔ جب بات کرتے ہیں تو قرآن کا حوالہ دیتے ہیں۔ جس دن 6/7 مئی کی رات بھارت کی طرف سے میزائل بازی کی گئی ایک معصوم بچہ 26 سے زائد شہداء میں شامل تھا۔ جنرل عاصم منیر سپہ سالار جس دن اس بچے کے بھائی کو گلے لگا رہے تھے۔ میں نے کہا تھا کہ ’’ساری دنیا بھی آ جائے سپہ سالار پلٹ کر جواب ضرور دیں گے۔‘‘ پھر میں نے اپنی سوچ سے ویلاگ کیا اور عنوان دیا کہ ’’پاکستان انتہائی خوفناک حملے کی تیاری کر چکا‘‘۔ یہ میرے لیے بھی بہت بڑی آزمائش تھی کہ اتنی بڑی بات محض اپنی سوچ اور مشاہدے کی بنیاد پر کر رہا تھا۔ میری سوچ، اطلاعات کا ذریعہ تاریخ ہے، لائبریری ہے جو میری تجربہ گاہ ہے پھر 9/10 کی درمیانی شب آ گئی۔ بھلے عالمی قوتوں نے یہ کہا تھا کہ اگر بھارت کچھ نہ کرے تو آپ بھی نہ کریں۔ جس پر حامی بھر لی گئی مگر وطن عزیز کی قیادت کیا بچے بچے کو علم ہے کہ بھارت باز نہیں آ سکتا لہٰذا اس نے 9/10 کی درمیانی شب کو شرارت تیز کر دی۔ امرتسر میں خود ہی ڈرون چلانا شروع کر دیئے، وہ بھی سکھوں پر۔ یہ جواز پیدا کر رہا تھا بڑے حملے کا۔ بس پھر! 9/10 کی درمیانی شب کے آخری پہر 26 جگہ پر وطن عزیز کی فوج اور فضائیہ نے بھارت کے عسکری پوائنٹ کو نشانہ بنایا۔ تفصیلات آ چکی ہیں۔
بھارت کی قیادت اور افواج کو جو حملے کے پروگرام بنا چکی تھی سمجھ ہی نہیں آئی۔ اب تک کی تاریخ میں دنیا کی طویل اور خوفناک ترین فضائی لڑائی تھی جس میں وطن عزیز کی فضائیہ نے تاریخ رقم کی۔ ایک بھی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔ بھارتی جہاز اور ڈرونز ایسے گرے جیسے کارپوریشن والوں نے کتوں کو زہر دیا ہو۔ کوئی گلی کے کونے پر کوئی قبرستان میں، کوئی جوہڑ پر بس ایک قیامت تھی جو پانچ گھنٹے بھارت پر وارد ہوئی کہ پانچ گھنٹے بعد جب وزیراعظم نے NCA کا اجلاس طلب کیا تو بھارتیوں نے رابطہ کیا کہ کیا کرنے لگے ہو؟ جواب خاموشی تھا، پھر امریکیوں نے کہا تو وزیر خارجہ نے بظاہر عسکری قیادت کی اجازت سے کہا کہ نہیں کچھ نہیں وہ اجلاس نہیں ہو رہا۔ بھارت گھٹنوں تک آ چکا تھا، جنگ بندی کی درخواست کی گئی۔ امریکی صدر نے مداخلت کی جو ابھی تک شغل دیکھ رہا تھا۔ اس جنگ نے دنیا کا دھارا موڑ دیا۔
یہ جنگ ایک مکالمے کو حقیقت کا روپ دے گئی کہ وطن عزیز کی افواج جو دنیا کی پہلی پانچ افواج میں شامل تھی پہلے نمبر پر آ گئی اور کم از کم فضائیہ پر تو کوئی شبہ ہی نہیں رہا۔ چائنہ سپر پاور کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ اب عسکری ٹیکنالوجی محض یورپ اور فرانس کی نہیں، امریکہ و دیگر کی نہیں۔ پانچ ہزار سال سے زائد تاریخ رکھنے والے چائنہ کی خریدی جائے گی۔ کہاں 85 ملین ڈالر کے جہاز اور کہاں صرف ڈیڑھ لاکھ کا وائی فائی قسم کا جہاز جو صرف اطلاعات دیتا تھا اس کو بھی پاکستانی فضائی فائٹر ہی آپریٹ کر رہے تھے۔ یہ یاد رہے کہ ٹیکنالوجی کو آپریٹ کرنا بہادری، مہارت اور اعصابی قوت کا امتحان قرار پایا جو اس وقت پوری دنیا میں پاکستانی فضائیہ کے پاس ہے۔ اس جنگ نے اسرائیل، بھارت اور فرانس کو اور نہ جانے کس کس کو عسکری حوالے سے زمین چٹوا دی۔ اس کے پیچھے سالہا سال سے معصوم و مظلوم کشمیریوں کی بددعائیں، بھارت میں مظلوم اقلیتوں کی آہیں تھیں۔ اب دنیا بدل گئی، اب عسکری اعتبار سے نیا زمانہ ہے جس کو بھارتی میڈیا، بھارتی قیادت، بھارتی عوام قبول نہیں کر رہے۔
چائنہ کی عسکری قوت کو وطن عزیز کی فضائیہ، عوام اور افواج نے دنیا بھر میں جان پر کھیل کر متعارف کرایا۔ اس کا ثمر یہ ہے کہ امریکہ کا صدر کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔ یہ صبر کا نتیجہ ہے کہ کشمیر ایک بار پھر بین الاقوامی فورم کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ اس موقع پر ہمیں پاک چین دوستی کے معمار، ایٹمی پروگرام پر جان قربان کرنے والے گریٹ بھٹو، میزائل پروگرام دینے والی عظیم راہنما محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، ڈاکٹر قدیر خان، ایٹمی دھماکے کرنے والے میاں نوازشریف اور عظیم سپہ سالار سید عاصم منیر شاہ کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرنا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انٹرنیشنل میڈیا کو حالیہ کشیدگی میں انتہائی جارحانہ اور خوبصورت انداز میں اپنے ملک کا مقدمہ پیش کیا۔ اپنی افواج اور عوام کو سلیوٹ کرنا چاہیے جو جذبہ شہادت سے سرشار اور ثابت قدم رہی اور ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے جو پاکستانی پاسپورٹ رکھ کے بھی پاکستان کے خلاف بکواس کرتے رہتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی چیخ مگر دنیا بدل چکی
09:18 AM, 13 May, 2025