سب سے پہلے تو پاکستانی قوم کو آپریشن بُنْیَان مَّرْصُوْص کی تاریخی فتح مبارک ہو کہ افواج ِ پاکستان نے بھارتی غرور پاتال میں دفن کردیا ۔کم ظرف جسے خاموشی سمجھے رہے تھے وہ اقوام عالم کو کھلی آنکھوں سے بھارت کی ریاستی دہشتگردی دکھانے کی حکمتِ عملی تھی یہی وجہ ہے کہ روس جو دہائیوں سے بھارت کے ساتھ کھڑا تھا اِس جنگ میں مکمل خاموش رہا یقینا اس کی دوسری وجہ چین کا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ۔ جہاں اقوام ِ عالم ورطہ ء حیرت میں مبتلا ہیں وہیں افواجِ پاکستان نے نئی نسل کو بھی پیغام دیا ہے کہ پاکستان کا دفاع آہنی ہاتھوں میں ہے ۔ بیرونی دشمن کے ساتھ ہم سے نمٹ لیا بلکہ اُسے دنیا بھر میں رسوا کردیا ۔ پاکستان کی اس جنگی صلاحیت بارے مجھے کبھی یہ وسوسہ بھی نہیں اٹھاکہ خدا نخواستہ وقت پڑنے پر ہم میدان ِ جنگ میں کسی بھی حوالے سے کمزور نکلیں گے۔ وقت نے یہ تاریخی حقیقت ثابت کر دی۔پاکستا ن کے اندر اور بیرون ملک بیٹھے وطن دشمنوں نے بہرحال اپنا کردار بھی ادا کیا اور عمران نیازی کی بڑی بہن علیمہ خان اس جنگ کو سرعام نورا کشتی قرار دیتی رہیں جیسے اصل کشتی اُن کے چچا جنرل ٹائیگر نیازی نے 71 ء میں لڑی ہو ۔ کونوں کھدروں میں چھپے یوتھیے اب دبے پائوں ’’ سفید پرچم ‘‘ اٹھائے آہستہ آہستہ سوشل میڈیا پر نمودار ہونا شروع ہو گئے لیکن یہاں میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ بنگلہ دیش نے حسینہ واجد کی سیاسی جماعت پر پابند عائد کردی ہے حالانکہ انہوں نے بنگلہ افواج کے کس ایک ذیلی ادارے پر بھی حملے نہیں کیا تھا لیکن یہاں دوسال گزرنے کے باوجود ہم عمران نیازی کی غیر اعلانیہ سپاہ کو نہ جانے کیوں وقت پر وقت دیئے جا رہے ہیں اور وہ بھی ایسے ڈھیٹ ہیں کہ اس ڈھیل کو کسی ڈیل کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں ۔دوسری طرف بائیں بازو کے ’’ امن پسند ‘‘ دوستوں کی بھی اس جنگ میں سمجھ نہیں آئی کہ امن کی حمایت کرنا دنیا کے ہر باشعور انسان کی انسانی ذمہ داری ہے لیکن کیا کوئی یہ بتائے گا کہ ’’ امن یکطرفہ عمل کا نام ہے ؟‘‘ وہ دوست تو یہ بھی بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ جب کوئی ملک آپ پر جنگ مسلط کرکے آپ کے بچوں ٗ عورتوں ٗ بزرگوں اور جوانوں کو شہید کرنا شروع کر دے ٗ آپ کی فضائی اور جغرافیائی حدود کا احترام نہ کرے تو اُس سے کیسے نمٹنا چاہیے ؟ امن کا سفید جھنڈا دفاع کے ڈنڈے کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔پاکستان کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ حکومت سے اختلاف کرنا آپ کا حق آزادی اظہار ہے۔ آپ ریاست سے بھی ناراض ہو سکتے ہیں کیوں کہ ریاست اور حکومت دونوں سیاسی ادارے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ وطن سیاسی نہیں جذباتی ادارہ ہوتا۔ اس کی حیثیت ماں کی طرح ہوتی ہے ٗ بچے آپس میں جتنا مرضی لڑتے جھگڑتے رہیں لیکن ماں کیلئے سب کے دل میں یکساں محبت ہوتی ہے ۔ جہاں ہمیں پی ٹی آئی افواجِ پاکستان پر تنقید کرتی نظر آئی وہیں نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور پاکستان کے جوابی حملے نے تو پاکستان میں چھپے لگڑ بگڑ بھی پوری قوم کے سامنے برہنہ کردئیے ۔عالمی میڈیا افواج ِ پاکستان کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا اور پاکستان کو ناقابل ِ تسخیر ریاست بتا رہا ہے وہیں عمران نیازی کے گمراہ سپاہی بھارتی میڈیا کی خبریں وائرل کر رہے تھے۔
امریکی جریدے نیشنل انٹریسٹ کے مطابق’’ جنگیں فریقین کے غرور اور لاعلمی سے جنم لیتی ہیں، بھارت نے پہلگام حملے کے شواہد دینے کے بجائے پاکستان پر حملہ کیا، عام تاثر تھا کہ بھارت کو پاکستان پر برتری حاصل ہے مگر پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔‘‘ جریدے کے مطابق بھارت کو نیوکلیئر کمانڈ اور کنٹرول سسٹم میں پاکستان سے بہتر تصور کیا جاتا رہا مگر پاکستانی فوج نے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔نیشنل انٹریسٹ کے مطابق پاکستان نے آپریشن کے آغاز میں ہی بھارتی فضائیہ کے 5 جنگی طیارے مار گرائے۔ بھارتی ائیرفورس کی غیر معیاری ٹریننگ نے بھارتی جنگی صلاحیت کو متاثر کیا اوربھارت کے جدید ترین رافیل طیاروں کا نقصان نئی دہلی کی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ پاکستانی فضائیہ کی برتری کی بڑی وجہ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہتر تربیت اوروہ جنگی تجربہ ہے جو پاکستانی پائلٹس نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں مسلسل انسداد دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے حاصل کیا ۔ موجودہ بھارتی خارجہ پالیسی نے اسے عالمی حمایت سے محروم کر رکھا ہے۔بھارتی صحافی سدھارت ورادا راجن کا کہنا ہے کہ نریندرمودی لوگوں کو گمراہ کرنے میں ماہر ہے لیکن وہ جنگ رکوانے کیلئے بھاگا بھاگا امریکا کے پاس گیا۔بھارتی صحافی کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان سمجھتا ہے کہ اس نے مسئلہ کشمیرکو دوبارہ زندہ کردیا ہے جسے امریکا بھی سپورٹ کررہا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے انٹرنیشنل ڈپلومیٹک ایڈیٹر نک رابرٹسن نے ٹی وی انٹرویو میں بتایاکہ کئی دنوں سے پوری دنیا بھارت اور پاکستان کے درمیان سیزفائرکی کوشش کر رہی تھی مگر کامیاب نہیں ہوئی۔ بھارتی حملے کے بعد پاکستان نے بھارت پرنہ رکنے والے میزائلوں کی بارش کردی، پاکستانی میزائل حملوں کے بعد بھارت مذاکرات کی میز پر آنے پرمجبور ہوا۔ بی بی سی جنوبی ایشیا کے ریجنل ایڈیٹر اینبرسن اتھرجان نے کہا ہے کہ بھارت کو یہ بات ماننا پڑے گی کہ پاکستان کی فضائی طاقت بھارت سے زیادہ ہے۔
بھارت کی جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا اور آپریشن بُنْیَان مَّرْصُوْص کے دوران بھارت میں 10 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ آدم پور، ادھم پور، بھٹنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں، سرسہ اور برنالہ کی ائیر بیسز اور فیلڈز کو تباہ کیا، بھارتی اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو، سرسہ اور ہلواڑا ائیر فیلڈز بھی تباہ کیں۔
کل بروز اتوار پاکستانی عوام نے پاکستان کے ہر شہر میں یومِ تشکر منایا اور افواجِ پاکستان کے ساتھ تجدید محبت کانیا عہد نامہ لکھا ۔ لاہور میں چیئرنگ کراس پر دن بھر جشن کا سماں رہا اور مختلف سیاسی جماعتوں کے جلوس افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے جوق در جوق شہر کے مختلف علاقوں سے شہرکے مشہور مقامات پر پہنچتے رہے۔ استحکام ِ پاکستان پارٹی کا بڑا جلوس وفاقی وزیر عبد العلیم خان کے حکم پر ایم پی اے شعیب صدیقی کی قیادت میں بارش ٗ ژالہ باری اور طوفانی ہوائوں میں سیکڑوں ورکروں کے ساتھ پاکستانی پرچم اٹھائے ڈھول کی تھاپ اور قومی ترانوں کی گونج میں اس فتح عظیم پر پاکستان کے رکھوالوں کے حق میں نعرے بلند کرتے رہے ۔ یہ منظر واقعی دیدنی تھا ۔ استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی صدر عبد العلیم خان نے ثابت کردیا کہ بہادر اورغیرت مند قومیں اپنے بہادر بیٹوں کو ایسے ہی خراج تحسین پیش کرتی ہیں لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ جو لوگ اس جنگ میں افواج ِ پاکستان کی مخالفت حالتِ جنگ میں کرتے پائے گئے ہیں انہیں معاف کرنا پاکستان سے زیادتی ہو گی۔
بھارت کو 21ویں صدی کی پہلی شکست
09:17 AM, 13 May, 2025