ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ نہیں معلوم کہ کب ختم ہو لیکن کچھ حقائق ابھر کر سامنے بھی آچکے ہیں اور کچھ ثابت بھی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ عرب و عجم کی جنگ بھی ہے۔ صہیون و صلیب یعنی اسرائیل امریکہ بمقابلہ اہل حرم یعنی ایران آمنے سامنے ہیں۔ عرب لیگ 22 عربی ممالک پر مشتمل ہے جن کی مجموعی آبادی 480 ملین نفوس سے زیادہ ہے، جن کی مجموعی قومی آمدنی یا خام قومی پیداوار 3.5 ٹریلین ڈالر ہے۔ یہ ممالک سالانہ 301 ارب ڈالر اپنے دفاع پر خرچ کرتے ہیں۔ عرب لیگ ممالک کی مجموعی عسکری قوت 30 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جس میں 25 لاکھ فعال فوج اور 5 لاکھ محفوظ اور پیراملٹری افرادی قوت پر مشتمل ہے۔ عرب لیگ کے ممالک مجموعی طور پر اپنی خام قومی پیداوار کا 4.5 فیصد اپنے دفاع پر خرچ کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بڑی خوشگوار اور موثر عسکری قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ 48 کروڑ افراد پر مشتمل عرب لیگ بہت بڑا گروپ ہے۔ دفاعی اخراجات اور عسکری قوت کے لحاظ سے بھی طاقت کا منبع نظر آتا ہے۔
دوسری طرف اسرائیل عسکری قوت کے اعتبار سے دنیا کے 145 ممالک میں 15ویں نمبر پر آتا ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز 169,500 افراد پر مشتمل ہے جبکہ 465,000 ریزرو فورسز ہیں۔ 35000 کی پیراملٹری فورس بھی ہے۔ اسرائیل کا دفاعی بجٹ 34 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی زرمبادلہ کے ذخائر 200 ارب ڈالر سے زائد پر مشتمل ہیں۔ اسرائیلی فضائیہ 597 جہازوں پر مشتمل ہے جن میں 239 جنگی طیارے ہیں۔ جنگی ہیلی کاپٹرز کی ایک معقول تعداد بھی اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے پاس موجود ہے۔ 1300 ٹینک اور 6200 سے زائد آرمڈ گاڑیاں، اس کے علاوہ ہیں۔ خودکار آرٹلری اور دیگر آرٹلری 500 کی تعداد میں اسرائیلی فوج کی قوت ہے۔ افرادی قوت 47 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اسرائیلی ریاست 22 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اسرائیل کی آبادی 94 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس میں 72 لاکھ یہودی ہیں جو عالمی یہودی آبادی کا 46-45 فیصد بنتا ہے۔ پوری دنیا میں یہودی آبادی 1 کروڑ 53 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔ یاد رہے جب 1948ءمیں اسرائیل قائم ہوا تو اس میں یہودیوں کی آبادی ساڑھے چھ لاکھ نفوس پر مشتمل تھی جو بڑھتے بڑھتے 72 لاکھ تک آن پہنچی ہے۔ آبادی میں یہ اضافہ 1948 تا 2025یعنی 77 سالوں میں ہوا اور اسی رفتار سے یہودیوں نے اپنی ریاست کا جغرافیہ بھی بڑھایا۔ اب تو صہیونی گریٹر اسرائیل کی تعمیر بلکہ تکمیل کا علی الاعلان کہہ رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ شہید کر کے وہ اپنے تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کا آغاز بھی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسا کچھ کرنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں۔ اسرائیل ان کی اڑھائی ہزار سالوں کی تپسیا کا مظہر ہے۔ یہودیوں کی 2000 سالہ ذلت و مسکنت کی تاریخ کا نتیجہ ہے۔ یہودی صرف نسلی گروہ نہیں ہے، وہ اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ قوم سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی جدوجہد کو عہدنامہ قدیم کی روایات سے جوڑتے ہیں۔ ریاست اسرائیل کو عطیہ خداوندی اور وعدے کی تکمیل تصور کرتے ہیں۔
یہودیوں نے انتہائی قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود 48 کروڑ عربوں پر بڑی واضح برتری کیسے حاصل کی۔ عربوں نے کثیر وسائل رکھنے کے باوجود، حقیر سی قوم یہود کے سامنے شکست کیوں کھائی۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے بلکہ قوموں کے عروج و زوال کے قانون کے عین مطابق ہے۔ کسی بھی قوم کی طاقت وہ نظریہ فکر یا ایمان ہی افراد کو یکجان کرتا ہے۔ نظریہ جتنا طاقتور ہو گا قوم اسی قدر توانا ہو گی۔ نظریہ ڈھانچے کی طرح ہوتا ہے جس پر جسم یعنی قوم تشکیل پاتی ہے۔ عربوں کے لئے اسلام نظریہ تھا، جس نے انہیں ایک عظیم الشان تہذیب کی تشکیل کا باعث بنایا۔ قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود تھوڑے ہی عرصے میں عرب دنیا کے تین براعظموں تک جا پہنچے اور اس طرح عظیم الشان سلطنت قائم کر سکے پھر جب انہوں نے اس نظریے، اس فکر سے انحراف کیا تو ذلت و مسکنت ان کے حصے میںآئی۔ آج ان پر عربیت کا غلبہ ہے، وہ اپنے عرب ہونے پر فخر کرتے ہیں، انہیں اسلام کے ابدی پیغام سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے، ان کی عصبیت ان کی زبان ہے۔ عربیت ہے، تہذیب فراعنہ پر انہیں غرور ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ہے جسے اپنی خدائی عظمت پر ناز ہے۔ وہ اپنے اجداد، انبیاءاور رسل کے لائے ہوئے پیغام الہامی کتب ”بائبل مقدس“ پر ناز ہے۔ وہ داﺅد و سلیمان نبی کی وراثت قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ عظیم ریاست قائم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا عزم بالجزم رکھتے ہیں۔ وہ قدیمی ریاست اسرائیل کے جغرافیے کے مطابق موجود ریاست اسرائیل کی تعمیر و تکمیل چاہتے ہیں، اس کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اپنے رب سے مناجات کرتے ہیں، تعداد میں قلیل ترین ہونے کے باوجود، تعداد میں کثیر عربوں کے مقابلے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ریاست اسرائیل کا جغرافیہ مسلسل پھیل رہا ہے، اس نقشے کے مطابق جو انہوں نے گریٹر اسرائیل کے نام سے تیار کر رکھا ہے، اس کی تکمیل کے لئے وہ حوالے بائبل سے دیتے ہیں۔ اپنے مقصد کو خدائی وعدے کے ساتھ جوڑتے ہیں، اس طرح وہ ایک مربوط و مستحکم قوم کے طور پر نہ صرف اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہیں بلکہ آگے بڑھتے ہوئے بھی نظر آرہے ہیں۔ یعنی خدائی قانون ہے، یہی طاقت کا قانون ہے۔ اسرائیل نے اپنے ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر نہ صرف قائم کر دیا ہے بلکہ عام بھی کر رکھا ہے۔ عرب بمقابلہ اسرائیل یہ تاثر درست ہے بلکہ یہ حقیقت ہے کہ عربوں کی حیثیت پرکاہ کے برابر ہے۔ عربوں کے سینے پر اسرائیل کی شکل میں جو خنجر 1948ءمیں پیوست کیا گیا تھا وہ اپنا آپ دکھا چکا ہے، دکھا رہا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حماس نے دو سالہ مزاحمتی جنگ میں
اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے تاثر میں دراڑ ڈالی۔ شاندار مقاومت کے ذریعے ثابت کیا کہ اسرائیل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے گو وہ کامیاب تو نہیں ہو سکے لیکن اسرائیل کے ناقابل شکست ہونے کے تاثر کو کمزور کر گئے۔ ایران وسائل میں اسرائیل سے کمتر ہے۔ 35 سالہ عالمی پابندیوں نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ کوئی مسلمان ملک بھی اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیل کے ساتھ دنیا کی بڑی ریاست امریکہ بھی شامل ہے۔ اس جنگ کو شروع ہوئے دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ ایران نے اپنی قوت ایمانی اور فکری قوت کے بل پر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا مقابلہ کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل صرف قابل شکست ہی نہیں ہے بلکہ اسے صفحہ ہستی سے مٹایا بھی جا سکتا ہے۔ حالیہ جنگ میں اسرائیل فکری طور پر، اخلاقی طور پر حق پر نہیں ہے۔ وہ نہ صرف اپنی الہامی کتاب کے احکامات کے برعکس عمل پیرا ہے بلکہ عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ ایران اخلاقی اور ایمانی طور پر اس سے بلند مقام پر فائز ہے۔ جنگ کا نتیجہ جو بھی نکلے اسرائیل کا ناقابل شکست ہونے کا تاثر تار تار ہو چکا ہے۔ ایران نے وہ کچھ کر دکھایا ہے جو بڑی بڑی مملکتیں نہیں کر سکیں۔
فتح و شکست کا فیصلہ کن عامل
09:06 AM, 14 Mar, 2026