جنگ نہیں امن!

09:06 AM, 14 Mar, 2026

چوپال سجی ہوئی تھی، ہر کوئی ایک دوسرے سے گفتگو کررہا تھا لیکن موضوع ایک ہی تھا کہ جنگ کی بجائے امن کی بات کی جائے۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے اور کھنگورا مارتے ہوئے آئے۔ سب کھڑے ہوگئے ، چپ سائیں نے سب کو بیٹھنے کااشارہ کیا۔ چپ سائیں نے سانس لیا اور پھر سب کا حال احوال پوچھا۔ نتھو اور پھتونے کہاکہ سائیں جی دنیا اس وقت جنگ کی لپیٹ میں ہے ، آج آپ امن اور جنگ کے بارے میں کچھ بتائیں۔
چپ سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا بچوانسانی تاریخ جنگوں کے خون آلود قصوں سے بھری ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کی دو عظیم جنگوں (جنگِ عظیم اول اور دوم) نے دنیا کو دکھایا کہ جب انسانی عقل پر جنون سوار ہوتا ہے تو کروڑوں انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سائنسی ترقی اگر امن کے تابع نہ ہو تو وہ ''خودکشی'' کا آلہ بن جاتی ہے اس کے اثرات آج تک ہیں ۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں صرف فاتح اور مفتوح پیدا نہیں کرتیں بلکہ دونوں طرف کی انسانیت کو ہرا دیتی ہیں۔
میرے چوپال کے بچو جدید دور میں ایک میزائل کی قیمت اتنی ہو سکتی ہے جس سے کئی گا¶ں میں ہسپتال اور سکول بنائے جا سکیں۔ جب ریاستیں اپنی معیشت کا بڑا حصہ دفاعی بجٹ کی نذر کر دیتی ہیں، تو تعلیم، صحت اور عوامی بہبود کے شعبے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ جنگی حالات سپلائی چین کو توڑ دیتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے انسانی بحران جنم لیتے ہیں۔
نتھو ، پھتو اور پیارے بھائیو!آج ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جہاں دنیا کے کئی ممالک کے پاس ''بٹن'' دبانے کی دوری پر ایسی طاقت موجود ہے جو پوری زمین کو کئی بار تباہ کر سکتی ہے۔ اب جنگ کا مطلب صرف دو ممالک کا تصادم نہیں بلکہ عالمی تباہی ہے۔ اس لیے اب امن کوئی ''آپشن'' نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
امن محض جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں ہے، بلکہ امن ایک ایسے معاشرے کا نام ہے جہاں انصاف ہو۔ جب تک دنیا میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم رہے گی اور طاقتور کمزور کا استحصال کرے گا، امن کی جڑیں کمزور رہیں گی۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جائے۔ ریاستوں کے درمیان تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے۔نفرت انگیز بیانیے کے بجائے رواداری کو فروغ دیا جائے۔
صاحبو! ہم لوگ طاقت کے نشے میں دھت ہوکر ایک دوسرے پر حکمرانی کا سوچتے ہیں اور اسی وجہ سے بات جنگ وجدل تک پہنچ جاتی ہے۔ طاقتورکی کمزور پر حکمرانی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس میںجوحریف طاقتور ہوگا وہ سامنے والے کو زیر کرلے گااور پھرحاکمیت جتائے گا۔ میری بات یاد رکھو بچوامن کی اس تحریک میں سب سے اہم کردار نوجوانوں کا ہے۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے سرحدوں کے پار دوسرے انسانوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ رابطہ غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر نوجوان ''نفرت'' کے بیانیے کو مسترد کر دیں، تو مستقبل کی جنگوں کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔جنگ انا کی تسکین کا ذریعہ ہو سکتی ہے، لیکن امن روح کی تسکین اور زندگی کی ضمانت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کائنات کی وسعتوں میں یہ زمین ہمارا واحد گھر ہے۔ اسے بارود کے دھوئیں سے بھرنے کے بجائے امن کی روشنی سے منور کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
بھائیو قابل ذکر بات یہ ہے کہ جدید دور میں جنگیں میدانوں سے پہلے ''ذہنوں'' میں لڑی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی نفرت انگیز معلومات جنگ کا ایندھن بنتی ہیں۔ ''ڈیجیٹل امن'' کا تصور یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو نفرت کے بجائے ہم آہنگی کے لیے استعمال کریں۔ جنگ صرف انسانوں کوہی نہیں مارتی، یہ زمین کے نظامِ قدرت کو بھی صدیوں کے لیے مفلوج کر دیتی ہے۔ بمباری سے نکلنے والی گیسیں اور سمندروں میں گرنے والا کیمیائی مواد موسمیاتی تبدیلی کو تیز تر کر رہا ہے۔ امن کا مطلب ''زمین کے ساتھ صلح'' بھی ہے لیکن امن قائم رکھنا انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔صاحبو !دنیا کا دفاعی بجٹ کھربوں ڈالرز پر محیط ہے۔ اگر ''جنگ کی صنعت'' کو ''امن کی صنعت'' (جیسے قابلِ تجدید توانائی اور کینسر کی تحقیق) میں تبدیل کر دیا جائے تو زمین پر جنت کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔حالیہ سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ جنگ کا خوف اور صدمہ صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ ڈی این اے کے ذریعے اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آخر کار بات چیت ہی کرنی ہے تو لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے پہلے کیوں نہیں؟۔ جنگ جیتنے والا ملک بھی دراصل ہار رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کی اخلاقی قدریں، انسانی ہمدردی اور معاشی استحکام بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
نئی نسل جنگ نہیں امن چاہتی ہے لیکن اس کےلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور بچوں کو فاتح جرنیلوں کی فتوحات کے بجائے ان سائنسدانوں اور صلح جو لوگوں کی کہانیاں پڑھائی جائیں جنہوں نے انسانیت کو بچایا۔ اگر ٹیکنالوجی کے ذریعے وسائل کو عام کر دیا جائے تو جنگ کی بنیادی وجہ ہی ختم ہو جائے گی۔
انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے نہیں کہا گیا کہ وہ تباہی مچا سکتا ہے، بلکہ اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ تخلیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جنگ ہمیں درندگی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ امن ہمیں انسانیت کے اصل درجے پر فائز کرتا ہے۔دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ ایٹمی خودکشی کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عالمی امن و بھائی چارے کی طرف۔ ہمیں یہ انتخاب کرنا ہوگا کہ ہم اپنی اولاد کو ورثے میں بارود کی بو دے کر جائیں گے یا پھولوں کی خوشبو۔صاحبو!جنگیں قبرستان آباد کرتی ہیں، جبکہ امن گھر آباد کرتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اگر آپ ایک انسان کی جان بچاتے ہیں یا ایک ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑتے ہیں، تو آپ نے کائنات میں امن کے قیام کے لیے اپنا حصہ ڈال دیا۔ سچی فتح کسی کو زیر کرنے میں نہیں، بلکہ کسی کا دل جیتنے میں ہے۔۔۔سوامن کی خواہش کریں اور جنگ کے خاتمے میں کردارادا کریں۔۔رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں