۲۸ فروری ہفتہ کے دن جسے یہودی یومِ سبت کے طور پر متبرک دن گردانتے ہیں، اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے تو اَب تک اسرائیل اور امریکہ نے جہاں ایران کے اندر اہم فوجی مراکز، عسکری تنصیبات اسلحے کے ڈپوو¿ں ، آئل ریفائنریز، ڈرون اور میزائل سازی کے کارخانوں اور اڈوں اور دیگر اہم ٹھکانوں کو اپنے فضائی حملوں اور تباہ کن بمباری کا نشانہ بناتے ہوئے ایران کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور جنگی سازوسامان اور انفراسڑکچر کی تباہی کی صورت میں ناقابلِ تلافی نقصانات پہنچائے ہیں وہاں ایران کے رہبرِ اعلیٰ یا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی ، سیاسی اور عسکری قیادت کے درجنوں کی تعداد میں چوٹی کے رہنما اور عہدیدار بھی اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایران کا ردِعمل اور جوابی کاروائیاں کیاہیں؟ بلا شبہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران بڑی ہمت، حوصلے ، دلیری، جانبازی اور استقامت کے ساتھ مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے۔ اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے وہاں سے خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے آئل ٹینکرز کو گزرنے سے روک رکھا ہے تو اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور جنگی اہمیت کے دوسرے اہم مقامات کو اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں کی بارش سے مسلسل نشانہ بنائے چلا آ رہا ہے ۔ اس کے ساتھ متحدہ عرب امارات،عمان، بحرین، قطر، کویت اور سعودی عرب جیسے خطے کے اپنے ہمسایہ ممالک میں موجود امریکی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو بھی اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔
ایران کے ڈرونز اور میزائل حملوں سے امریکی فوجی اڈوں اور مراکز کو کتنا نقصان پہنچا ہے یا پہنچ رہا ہے اس سے قطع نظر یہ بات بلا خوف ِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ ان ممالک جو تمام اسلامی ممالک ہیں میں خوف و ہراس کی فضا ہی پروان نہیں چڑھی ہے بلکہ یہ ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے تذبذب اور پریشانی کا شکار بھی ہیں۔ یہ صورتِ حال یقینا ایسی ہے جس کے اثرات اگر ساری دنیا میں محسوس کیے جار ہے ہیں تو اسلامی ممالک جن میں پاکستان سرِ فہرست ہے اس صورتِ حال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہی نہیں پاکستان کو ایران اور اس کے متحارب اسلامی ممالک جن میں سعودی
عرب سب سے نمایاں اور اہم ہے کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو بیک وقت قائم رکھنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی بناپر یہ کہنا شائید غلط نہ ہو کہ اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا نشانہ ایران ہے لیکن مشکلات کا شکار پاکستان ہے۔
پاکستان کے لیے مشکلات ، پریشانی اور تذبذب کی صورتِ حال آخر کیوں سامنے آئی ہے؟ اس کا جائزہ لینے سے قبل اس طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان پہلے سے ہی افغانستان کی طالبان رجیم کے ساتھ حا لتِ جنگ میں ہے تو اندرونِ ملک اسے تحریکِ طالبان پاکستان کے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے باغیوں اور دہشت گردوں کی طرف سے دہشت گردی کی کاروائیوں کا سامنا بھی ہے۔
پاکستان کے لیے مسائل کی بڑی وجہ ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں ہمسایہ عرب ریاستوں جن میں متحدہ عرب امارات، عمان، بحرین، قطر، کویت اور سعودی عرب شامل ہیں میںقائم امریکی فوجی اڈوں اور مراکز کو اپنے ڈرونز اور میزائل حملوں کا نشانہ بنا نا ہے۔ اس طرح ایران اور ان عرب ریاستوں کے درمیان کشمکش اور چپقلش نے الارمنگ صورتِ حال پیدا کر رکھی ہے جس کے براہ¿ راست اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اِن میں سے کس کا ساتھ دے اور کس کی مذمت کرے۔ پاکستان اگر ایرانی حملوں کی مذمت نہیں کرتا اور سعودی عرب کے ساتھ پچھلے سال ہونے والے دفاعی معائدے کے تحت اس کے دفاع کے لیے اس کا ساتھ نہیں دیتا تو اس سے سعودی عرب کا پاکستان سے ناراض ہونا لازمی امر ہے جس کا پاکستان اپنی معاشی اور اقتصادی مشکلات کی وجہ سے بھی متحمل نہیں ہو سکتا، اسی طرح خلیج کی دیگر عرب ریاستوں متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین اور کویت کے ساتھ بھی پاکستان کے قریبی دوستانہ تعلقات ہی نہیں ہیں بلکہ ان ریاستوں میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی بر سرِ روزگار اور محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ پھر ان ریاستوں کے حکمران بھی نازک مزاج شاہانہ کے مالک اور دلدادہ ہیں جو اپنی مرضی سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کرتے ۔ اس طرح ان کو راضی رکھنا بھی پاکستان کی مجبوری ہے۔ دوسری طرف ایران ہے جس کو بھی ناراض نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے ساتھ پاکستان کے دوستانہ تعلقات اور ہمسائیگی کے قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ اپنے ہاںکی شیعہ مسلک کی آبادی کے جذبات و احساسات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں جن کی ایران، وہاں کے مقدس مقامات اور وہاں کی مذہبی قیادت کے ساتھ ہمدردی، لگاو¿ اور عقیدت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی، اِس سے ہٹ کر بھی ہر دَور میں پاکستان کی حکومت ہی نہیں بلکہ شیعہ مسلک کے علاوہ دوسرے مسالک کی اکثریتی آبادی بھی پاکستان کے ایران کے ساتھ برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کی خواہاں رہی ہے۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ایران ہمارے لیے صرف ہمسایہ ملک ہی نہیں ہے بلکہ برادر اسلامی ملک کی حیثیت بھی رکھتا ہے جس کو ناراض یا خفا کرنا ہمارے لیے آسان نہیں ہے۔
معروضی صورتِ حال کے اس تناظر اور سیاق و سباق کو سامنے رکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو کچھ عیاں ، کچھ پنہاں مشکلات و مسائل کا سامنا ہے۔ اب پاکستان کی حکومت ، قومی رہنماو¿ں اور مقتدر حلقوں کی بصیرت و بصارت، عقل و دانش ، قیادت و سیادت اور ڈپلومیسی کا امتحان ہے کہ وہ اِس صورتِ حال سے کس طرح نبرد آزما ہوتے ہیں اور پاکستان کے لیے ایسی راہ کا انتخاب کرتے ہیں کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے پائے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہاز شریف نے قوم سے اپنے خطاب میں جہاںبرادر اسلامی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین ، کویت، عمان ، لبنان ، ترکیہ اور آذربائیجان پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت اور جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے وہاں چیف آف آرمی سٹاف و چئیر مین ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سعودی عرب کے حالیہ دورے میں وہاں کی اعلیٰ ترین قیادت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میںسعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایران کے ان اسلامی ممالک پر ڈرونز اور میزائل حملوں سے اتفاق نہیں کرتا۔ گویا پاکستان نے اسرائیل وامریکہ بمقابلہ ایران جنگ میں ایک واضح لائن اختیار کرلی ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ایران کو تباہی و بربادی کا نشانہ اسرائیل اور امریکہ بنا رہے ہیں اور ایران اپنا غصہ نکالنے کے لیے خطے کی اسلامی ریاستوں کو نشانہ بنا رہا ہے جسے کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیاجا سکتا۔
جارحیت کا نشانہ ایران۔۔۔مشکلات کا شکار پاکستان!
09:08 AM, 14 Mar, 2026