آپریشن غضب للحق: دہشت گردوں کے 70 ٹھکانے تباہ، 663 ہلاک، عطا تارڑ نے تفصیلات جاری کر دیں

07:26 PM, 13 Mar, 2026

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے "آپریشن غضب للحق" کے دوران دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی بڑی پیش رفت اور نقصانات کے مستند اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے افغانستان میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق، اس آپریشن کے دوران دہشت گردوں کو جانی و مالی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کارروائی میں 663 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 887 زخمی حالت میں ہیں۔مجموعی طور پر 249 چوکیاں تباہ کر دی گئیں، جبکہ 44 چوکیاں اب سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔دہشت گردوں کے زیرِ استعمال 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں۔
عطا تارڑ نے بتایا کہ 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب کابل، پکتیا اور قندھار سمیت افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 70 مقامات پر فضائی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں خاص طور پر دہشت گردوں کے لاجسٹک بیسز اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ یہ آپریشن انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ہم نے صرف دہشت گردوں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ افغان حکام اور میڈیا کے دعوؤں کے برعکس کسی بھی شہری آبادی یا سویلین تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جس کی تصدیق جاری کردہ ویڈیوز سے بھی کی جا سکتی ہے۔

مزیدخبریں