تیئیسویں پارے  کا خلاصہ سورۃ یٰس

09:13 AM, 13 Mar, 2026

سورۃ یٰس کو قرآن کریم کا دل کہتے ہیں۔ صبح اس کو پڑھنے سے پورے دن کے کام درست رہتے ہیں۔ ان آیات میں نص قطعی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ثابت کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ بذات خود حکمت سے لبریز قرآن کریم کی قسم کھا کر فرمارہے ہیں کہ (اے میرے محبوب !) آپ ﷺ یقیناً پیغمبروں میں سے ہیں۔ آپﷺ  کا منصبی فریضہ بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے باپ دادوں کو پہلے نہیں ڈرایاگیا۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ اور اس کے مضافات ہیں کیونکہ یہاں حضرت ابراہیم واسماعیل علیہم السلام کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا۔ پہلے  نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا بیان تھا۔آگے تین رسولوں کا قصہ بیان کیا جارہاہے۔ قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ نہ تو بستی کا تعین کیا اور نہ ہی رسولوں کے ناموں کا۔ البتہ بعض روایات میں بستی کا نام انطاکیہ اور رسولوں کے نام صادق، صدوق یا شمعون علیہم السلام بتائے گئے ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے پہلے دورسولوں کو بھیجا، لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تائید وتقویت کے لیے تیسرے رسول کو بھیجا لیکن بستی والوں نے ان کی بات نہ مانی اور تکذیب کی۔ 
پھر حبیب نجار کی ہمدردی اور اس کی شہادت کو بیان کیا ''رجل ''کا نام روایات میں حبیب بن اسماعیل نجار بتایاگیاہے، یہ بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ انہوں نے رسولوں کی دعوت پر ایمان قبول کرلیاتھا۔ جب انہوں نے شہر والوں کا یہ حال سنا کہ وہ رسولوں کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں تو وہ دوڑتے ہوئے شہر میں آئے اور قو م کوہمدردی کے طورپر بڑے احسن انداز میں سمجھایاکہ رسولوں کی بات مان لو۔ لیکن قوم نے انہیں شہید کردیا۔ شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حبیب نجار کو جنت میں داخلے کی خوشخبری دی گئی۔ جنت میں داخلہ تو حشرنشر کے بعد ہو گا، البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نیک لوگوں کو عالم برزخ میں جنت کی بعض نعمتیں عطا کردی جاتی ہیں، اسی کو دخول جنت سے تعبیر فرمادیتے ہیں۔ حبیب نجار نے جنت کی نعمتیں دیکھ کر اظہار افسوس کیا کہ کاش میری قوم کو معلوم ہوجائے کہ مجھے کن نعمتوں سے نوازا گیا ہے! 
پھر جب قوم کی سرکشی میں مزید اضافہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کافیصلہ فرما دیا۔ فرمایا کہ ہمیں کسی قوم کو ہلاک کرنے کیلیے آسمان سے فرشتوں کو نازل کرنے کی ضرروت نہیں بس ایک چنگھاڑ ہی کافی ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک ہی فرشتے نے چیخ ماری اور پوری بستی کلیجے پھٹنے کی وجہ سے تباہ برباد ہو گئی۔ پھرقیامت کے دن جس وقت حساب کتاب کا معاملہ ہورہا ہوگا کفار اس وقت اپنے شرک اور کفر کا انکار کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگادیں گے۔ مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ منہ کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں بولے گا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں کو قوت گویائی عطا فرمائیں گے تو ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ انہوں نے فلاں فلاں جرائم اور گناہ کئے تھے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ وہ تعجب سے اپنے اعضاء سے مخاطب ہوکر کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ اسکے بعد اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ ہم نے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کو شعر کا علم نہیں دیا اور نہ ہی شاعری پیغمبر کی شان کے لائق ہے، یہ تو نصیحت کی بات ہے اور نہایت واضح قرآن ہے۔ کفار؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ شاعر ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ اس کی نفی فرمارہے ہیں۔ کفار کیوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر اور قرآن کو شعر کہتے تھے؟ ہمارے ہاں شاعر وہ ہے جو مسجع اور مقفیٰ کلام کہے۔ جبکہ اہل عرب کے ہاں شاعر وہ بھی ہے جو فرضی، خیالی اور غیر تحقیقی باتیں کرے۔ تو کفار نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتے کہ یہ فرضی اور خیالی باتیں کرتے ہیں۔ (العیاذباللہ) قرآن کریم نے مشرکین کی اسی بات کی تردید فرما ئی ہے کہ نہ تو ہم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعری سکھائی اور نہ ہی شاعری آپ کے شایان شان ہے۔ پھر مشرک کی حماقت کو بیان کیا مکہ مکرمہ میں عاص بن وائل ایک مشرک تھا۔ اس نے ایک بوسیدہ ہڈی لی، اس کو ریزہ ریزہ کردیا۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کوبھی زندہ کرے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ اپنی پیدائش کو بھول گیا؟ ہم نے انسان کو ایک نطفے سے بنایا ہے۔ جس خدا نے پہلے پیدا کیا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ آگے دودرختوں کی مثال دیکر سمجھایا کہ جو خدا سبز درختوں سے آگ کو پیدا کرتا ہے اس کے لیے بوسیدہ ہڈی سے دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟
سورۃ الصٰفٰت 
اس سورۃ کانام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہے۔ یہ سورۃ مکی ہے، اس میں اسلام کے بنیادی عقائد توحیدورسالت اور قیامت کااثبات کیا گیا ہے۔ اور مشرکین کے ایک غلط عقیدے (کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، معاذ اللہ) کی تردید کی گئی ہے۔ شروع میں مشرکین کی تردید ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی تین قسمیں کھائی ہیں۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو صفیں باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور ان فرشتوں کی جو ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ یعنی شیاطین جب عالمِ بالا کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ فرشتے ان کو روکتے ہیں۔ اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو تلاوت کرتے ہیں ذکر کی۔ یہاں مشرکین کی تردید فرمائی اس لیے کہ مشرکینِ مکہ میں سے ایک طبقہ ملائکہ کی عبادت کرتا تھا اور ایک طبقہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتاتھا۔ تو ملائکہ کی قسمیں کھا کریہ بتایا کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے اورنہ ہی اسے اولادکی ضرورت ہے۔ پھر اہل جنت کا ذکر کیا کہ اہل جنت کو رزق معلوم ملے گا۔ جنت کے رزق میں ہلکا سا بھی شبہ نہیں کہ شاید ملے شاید نہ ملے؛ نہیں، بلکہ یقیناً اور دائماً ملے گا۔ دنیا کی طرح نہیں کہ کو ئی شخص یقین کے ساتھ نہیں بتا سکتا کہ کل مجھے کیا اور کتنا رزق ملنے والا ہے۔ جنتی لوگ تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے اور گفتگو کریں گے۔ پھر اہل جہنم کا ذکر ہے اہل جہنم اور ان کے عذاب کا ذکر ہے۔ جہنمیوں کو زقوم کا درخت جو نہایت بدبو دار، کڑوا ہے، بطور خوراک ملے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس درخت کو ظالموں کیلیے آزمائش بنایا ہے۔ اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیطان کا سر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے چھ انبیاء (حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت لوط اور حضرت یونس علیہم السلام) کے قصص وواقعات کو بیان کیاہے۔ نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمالی اور نوح علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو درد ناک عذاب سے بچا لیا۔ باقی سب ختم ہوگئے۔ طوفان نوح کے بعد زمین پر جو نسلِ انسانی چلی وہ نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں کی نسل سے ہے۔ آپ علیہ السلام کے ان تین بیٹوں کے نام یہ ہیں: سام، حام اور یافث۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام؛ حضرت نوح علیہ السلام کے گروہ کے آدمی تھے، یعنی عقائد ایک تھے۔ قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو میلے پر لیجانا چاہتی تھی تو آپ علیہ السلام نے عذر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بیمارہوں۔ ہوسکتاہے حقیقت میں بیمار ہوں یا یہ مطلب ہو کہ تمہارے کفر وشرک کی وجہ سے میری طبیعت روحانی طورپر خراب ہے۔ نہ جانے کا مقصد بتوں کو توڑنا تھا تاکہ ان کو اپنے بتوں کی بے بسی معلوم ہوجائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمائے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ آپ انہیں ذبح کررہے ہیں تو بیٹے سے رائے لی۔ بیٹے نے فرمایاجو آپ نے دیکھا ہے کرگزریئے۔ یہ اگرچہ خواب تھا لیکن انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی ہوا کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے حکم کی تعمیل کی لیکن اللہ تعالیٰ نے جنت سے مینڈھا بھیج دیا، وہ ذبح ہوا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بچ گئے۔ یہ امتحان تھا جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہوئے۔ حضرت یونس علیہ السلام نینوا بستی میں مبعوث ہوئے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی مگر قوم نے نہ مانا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایاتین دن کے بعد عذاب آئے گا اور آپ خود اس بستی سے حکم خداوندی کے آنے سے پہلے چلے گئے۔ قوم نے گڑگڑ ا کر توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب ٹال دیا۔ آپ علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے، کشتی بھنور میں پھنس گئی، قرعہ اندازی میں آپ کا نام آیا۔ پانی میں گئے تو مچھلی نے منہ میں لے لیا پھر کچھ وقت یا دنوں بعد باہر نکال دیا۔ بعض لوگوں نے عصمتِ انبیاء کے خلاف بات کرتے کہاکہ آپ علیہ السلام نے فریضہ نبوت میں کوتاہی کی، معاذ اللہ۔ اس کے بعد مشرکین مکہ کی ایک بار پھر  تردید کی جارہی ہے کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ اپنے لیے تو لڑکیوں کو پسند ہی نہیں کرتے، شرم کے مارے زندہ دفن کردیتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ کیلیے بیٹیاں ثابت کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو نہ بیٹوں کی ضرروت ہے نہ بیٹیوں کی۔ اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک اور منزہ ہیں۔ آخر میں پھر مشرکین ومنکرین کی تردید فرمائی۔ مشرکین نے کہا تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اس کی تردید میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ 
 سورۃص
جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین مکہ کے مذاکرات اور پھر ان کی ناکامی کا ذکر ہے جناب ابوطالب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتے داری کا حق نبھاتے تھے۔ ان کی آخری عمر میں مشرکین ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ اپنے بھتیجے (محمدصلی اللہ علیہ وسلم) سے کہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں تو ہم انہیں ان کے دین اسلام پر چلنے سے منع نہیں کریں گے۔ جب جناب ابوطالب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انہیں ایک ایسے کلمہ کی دعوت نہ دوں کہ جس سے پوراعرب وعجم ان کے سامنے سرنگوں ہوجائے؟ انہوں نے پوچھا وہ کلمہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ توحید پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ تعجب ہے کہ ہم سارے خداؤں کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کریں، یہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اس پر وہ سارے لوگ چلے گئے۔ اس موقع پر سورۃ ص کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ پھر حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر کیا حضرت دائود علیہ السلام سے کوئی اجتہادی لغزش ہو گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دو بندے بھیجے جو دیوار پھلانگ کر حضرت کے پاس گئے۔ حضرت دائود علیہ السلام اس وقت اپنی عبادت گاہ میں تھے۔ انہوں نے اپنے جھگڑے کا مقدمہ پیش کرکے فیصلہ چاہا۔ حضرت دائود علیہ السلام نے ان کا فیصلہ فرمایا لیکن اس کے ساتھ ہی حضرت دائود علیہ السلام کو اچانک خیال آیا کہ میرا تو امتحان ہوگیا، فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گئے۔ یہاں کچھ آیات میں اس واقعہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ لغزش کیا ہوئی تھی؟ قرآن کریم اس معاملے میں خاموش ہے۔ اس لیے ہمیں بھی کھودکرید کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنگ وجہاد کے لیے عمدہ قسم کے گھوڑے رکھے ہوئے تھے۔ ایک دن آپ نے ان گھوڑوں کا معائنہ کیا اور اتنے مشغول ہوئے کہ آپ کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ آپ کو بہت افسوس ہوا، فرمایا ان گھوڑوں کو دوبارہ لاؤ! پھر اللہ تعالیٰ کیلئے انہیں قربان کردیا۔ پھر حضرت سلیما ن علیہ السلام کی حکو مت کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہواؤں، پرندوں اور جنوں پر حکومت عطا فرمائی تھی۔ پھر حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کیا حضرت ایوب علیہ السلام کو ایک بیماری لاحق ہوئی تھی، یہاں ان کی شفا کا بیان ہے۔آپ نے حکم خداوندی سے زمین پر پاؤں مارا تو چشمہ جاری ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے نہائیں اور اسے پییں۔ صحت مل گئی۔ بیماری کی حالت میں ایک مرتبہ شیطان حضرت کی اہلیہ سے ملا کہ میں طبیب ہوں آپ کے شوہر کا علاج کروں؟ گھر والی نے حامی بھرلی۔ شیطان نے کہا میری ایک شرط ہے کہ جب ٹھیک ہوجائیں تو آپ نے کہنا ہے کہ اس طبیب نے اسے شفا دی ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو یہ واقعہ سنایاتو آپ کو غصہ آیا کہ وہ تو شیطان تھا۔ آپ علیہ السلام نے قسم کھائی کہ ٹھیک ہو گیا تو تمہیں سو چھڑیاں ماروں گا۔ جب صحت یاب ہوئے تو پریشان تھے کہ قسم پوری کرتا ہوں تو وفادار بیوی کو تکلیف ہو گی نہیں کرتا تو حانث ہوتاہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک سو چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کا ایک گٹھا لے کر ایک ہی مرتبہ اپنی بیوی کو ماردیں، قسم پوری ہوجائے گی۔ 
سورۃ الزمر 
اس سورۃ کے آخر میں دو گروہوں کا ذکر ہے اور زمر کا معنی گروہ ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام''الزمر'' رکھا گیا ہے۔ سب سے پہلے مشرکین کے غلط عقیدے کی تردید فرمائی مشرکین یہ مانتے تھے کہ کائنات کو بنانے والے اللہ تعالیٰ ہیں۔ لیکن وہ بتوں اور فرشتوں کی عبادت اور پوجا پاٹ کرتے اس نظریے سے کہ یہ خوش ہو کر ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے۔ یہاں آخر میں پھر ان کی تردید کی گئی ہے کہ عبادت تو خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اور شفاعت کیلیے دوشرطیں ہیں: شفاعت کرنے والا اللہ کے ہاں مقبول ہو اور جس کی شفاعت ہونی ہے وہ قابلِ مغفرت ہو۔ یہاں دونوں شرطیں مفقود ہیں تو وہ سفارش کیسے کریں گے؟اس پارے میں اللہ تعالیٰ فقیہہ کی عظمت کو بیان فرما رہے ہیں اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص نور اور روشنی پر ہوتا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! شرح صدر کا کیا معنی ہے؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بندے کے قلب کو وسیع فرما دیتے ہیں۔ یعنی احکامِ شریعت کو سمجھنا پھر ان پر عمل کرنا اس بندے کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی نشانی پوچھی تو فرمایا: جنت کی طرف انسان کا رجوع ہوتا ہے، دنیا کے دھوکے سے بچتا ہے اور موت کے آنے سے پہلے موت کی تیاری کرتا ہے۔ آخر میں موحد و مشرک کی مثال بیان کی ہے: ایک غلام مختلف آقاؤں کی ملکیت میں ہواور ہر آقا اسے اپنا اپنا کام کہے تو وہ غلام پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے کہ کس کا کہا مانوں؟ دوسراوہ غلام ہے جو صرف ایک ہی آقا کی ملکیت ہے اسے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔ اسی طرح مشرک کئی خداؤں کو مانتا ہے اب وہ پریشان ہے کبھی اِس کے سامنے جھکا ہوا ہے اور کبھی اُس کے سامنے جھکا ہوا ہے؛ اس کو یکسوئی میسر نہیں آتی۔ جبکہ موحد صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، اسی کی اطاعت کرتاہے۔ اسے یکسوئی حاصل ہے۔  

مزیدخبریں