پاکستان اولیا اللہ، صوفیائے کرام اور اہلِ دل بزرگوں کی سرزمین ہے جہاں صدیوں سے روحانیت، محبت اور انسانیت کی خدمت کے چراغ روشن ہیں۔ انہی درخشندہ ہستیوں میں ایک نمایاں نام پیرِ طریقت، خوشبوئے رومی، صاحبزادہ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کا ہے جو آستانہ عالیہ کھڑپڑ شریف سے وابستہ ایک باوقار روحانی پیشوا، علم و عرفان کے امین اور خدمتِ خلق کے داعی تھے۔15 مارچ 2026 کو آپکی دوسری برسی ہے، پیر سائیں سردار احمد عالم قادری ایک روحانی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ نے بچپن ہی سے دینی تعلیم، تصوف اور روحانیت کے ماحول میں پرورش پائی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی شخصیت میں علم، حلم، وقار اور عاجزی کا حسین امتزاج نمایاں تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، انسانیت کی بھلائی اور لوگوں کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ کا سب سے نمایاں علمی اور روحانی پہلو یہ تھا کہ آپ درسِ مثنوی شریف کے حافظ تھے اور حضرت مولانا جلال الدین رومی کی شہرہ آفاق تصنیف مثنوی معنوی کے اسرار و معارف پر گہری دسترس رکھتے تھے۔ آپ باقاعدگی کے ساتھ درسِ مثنوی شریف دیا کرتے تھے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں مثنوی کے روحانی نکات کو نہایت سادہ اور دلنشین انداز میں بیان کرتے تھے۔ آپ کے درسِ مثنوی کی محافل علم و معرفت کا ایک ایسا چشمہ تھیں جہاں سے بے شمار افراد نے روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ اپنے درس میں حضرت مولانا رومی کی تعلیمات کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے ساتھ جوڑ کر بیان کرتے تھے۔ محبت، رواداری، برداشت اور انسان دوستی کا پیغام آپ کے کلام اور درس کا مرکزی نکتہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کو محبت سے خوشبوئے رومی کہا جاتا تھا کیونکہ آپ کی گفتگو اور تعلیمات میں رومی کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔
آستانہ عالیہ کھڑپڑ شریف ہمیشہ سے روحانیت، محبت اور اخوت کا مرکز رہا ہے۔ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری نے اس آستانہ کی روایات کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ انہیں مزید فروغ دیا۔ آپ کی سرپرستی میں یہاں محافلِ ذکر و فکر، دروسِ قرآن، محافلِ نعت اور اصلاحی نشستوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ آپ کی محافل میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ شرکت کرتے اور روحانی سکون حاصل کرتے تھے۔ آپ ہر خاص و عام کیلئے مہمان نوازی کا بہترین انتظام فرماتے۔ آپ کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو نوجوانوں کی تربیت اور دینی تحریکوں کی سرپرستی تھا۔ آپ نے ہمیشہ انجمن طلبہ اسلام کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں دینِ اسلام کی خدمت کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انجمن طلبہ اسلام کے کارکنان جب بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ انہیں دینی شعور، اخلاقی تربیت اور خدمتِ دین کے جذبے سے سرشار کرتے تھے۔ آپ نوجوانوں کو ہمیشہ یہ نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کریں، کردار کو سنواریں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کا کہنا تھا کہ قوموں کی اصل طاقت نوجوان ہوتے ہیں اور اگر نوجوان دین، علم اور اخلاق سے آراستہ ہو جائیں تو معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔
پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کی زندگی کا ایک بڑا حصہ خدمتِ خلق کے لیے وقف تھا۔ آپ معاشرے کے پسے ہوئے اور نادار طبقات کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے۔ آستانہ عالیہ کھڑپڑ شریف پر لنگر کا وسیع انتظام ہوتا جہاں روزانہ سیکڑوں افراد کھانا کھاتے اور جمعۃ المبارک کے اجتماع میں تعداد ہزاروں میں ہوتی۔ آپ مستحق افراد کی مالی مدد بھی خاموشی سے کرتے اور کسی کی عزتِ نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتے تھے۔ آپ کی محفل میں آنے والا ہر شخص اپنے آپ کو عزت اور محبت کا مستحق محسوس کرتا تھا۔ آپ کی گفتگو میں شفقت، محبت اور اخلاص نمایاں ہوتا تھا۔ آپ ہمیشہ لوگوں کے مسائل کو تحمل سے سنتے اور انہیں دینی و روحانی رہنمائی فراہم کرتے تھے۔ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری اتحادِ امت کے داعی تھے۔ آپ فرقہ واریت اور نفرت کی سیاست کے سخت مخالف تھے۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور اخوت کے ساتھ رہیں کیونکہ اسلام کا اصل پیغام امن اور بھائی چارہ ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل کا حسین نمونہ تھی۔ آپ نہ صرف ایک روحانی پیشوا تھے بلکہ ایک بہترین معلم، مصلح اور رہنما بھی تھے۔ آپ نے اپنے کردار، اخلاق اور طرزِ زندگی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔ آج اگرچہ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں مگر ان کی تعلیمات، ان کا روحانی فیض اور ان کی محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی روحانیت صرف ذکر و اذکار تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت، اخلاق کی بہتری اور محبت کے فروغ میں مضمر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کے مشن کو آگے بڑھائیں، ان کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور معاشرے میں محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیں۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہو گا۔ مجھے بھی آپکی درجنوں نشستوں میں شرکت کا اعزاز اور گفتگو سماعت کرنی سعادت حاصلِ رہی، غرور، تکبر، نمود و نمائش اور تکلف سے بھرے جبہ و دستار کے ہجوم میں آپکو وضع دار، نرالا اور دلربا پایا۔ آپ بدتمیزی اور بدکلامی سے اٹے اس دور میں سادہ لہجے میں میٹھی بولی بولنے والے، اجلے دامن والے یادگار اسلاف، نفیس و شفیق، مخلص و مہربان تھے، آپ کی گفتگو ہمیشہ دلوں کو چھو لینے والی ہوتی تھی۔ تصوف کی تعلیمات کے فروغ اور حقیقی خانقاہی نظام کے احیا کیلئے شاندار الحبیب یونیورسٹی اور دیگر کئی ادارے بھی قائم کر رکھے ہیں۔ پیر سائیں کی کمی شدت سے تڑپاتی رہے گی۔ آپکی یادوں اور باتوں کی خوشبو وطن عزیز فضاؤں اور خانقاہی ماحول کی ہواؤں میں محسوس کی جاتی رہے گی۔ آپکی محبت و عقیدت کا پرچم ہمیشہ ہم جیسے محبین کے دل کی سر زمین لہراتا رہے۔ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کے درسِ مثنوی میں حضرت مولانا روم کے اشعار کی گونج سنائی دیتی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مثنوی دراصل انسان کے باطن کو جگانے والی کتاب ہے۔ اسی لیے حضرت مولانا روم فرماتے ہیں: ’’محبت وہ قوت ہے جو انسان کے اندر کی دنیا بدل دیتی ہے‘‘۔ پیر سائیں بھی اپنی تعلیمات میں محبت، اخوت اور انسان دوستی کو مرکزی مقام دیتے تھے۔
صاحبزادہ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کے وصال کے بعد آستانہ عالیہ کھڑپڑ شریف کی روحانی ذمہ داریاں ان کے صاحبزادے اور سجادہ نشین صاحبزادہ پیر محمد اویس قادری نے سنبھال رکھی ہیں۔ وہ اپنے والدِ گرامی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے روحانیت، علم اور خدمتِ خلق کی اس درخشاں روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ صاحبزادہ پیر محمد اویس قادری نہایت سنجیدہ، متوازن اور باوقار شخصیت کے مالک ہیں اور اپنے والد کی تعلیمات کو مشعلِ راہ بنا کر مریدین اور عقیدت مندوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ دینی تعلیمات سے روشناس ان کی سنجیدہ سوچ، علمی ذوق اور صلاحیتیں اس بات کی غماز ہیں کہ وہ اپنے عظیم والد کے روحانی مشن کو نہایت وقار اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ پیر سائیں سردار احمد عالم قادری کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پیر سائیں سردار احمد عالم قادری… طریقت کا درخشاں چراغ
09:12 AM, 13 Mar, 2026