پچاس روپے کا نوٹ

09:12 AM, 13 Mar, 2026

وہ تھکا ہارا دفتر سے واپسی پر ابھی گھر میں داخل بھی نہ ہوا تھا کہ بیگم کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
’’میں آپ کا کب سے انتظار کر رہی تھی، آپ آج پھر لیٹ آئے ہیں۔‘‘
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ وہ جان بوجھ کر تو لیٹ نہیں آتا۔ وہ تو اوور ٹائم کام کرتا ہے تاکہ کچھ اضافی پیسے کما سکے۔ اس کی بیوی کمرے سے نکل کر کچے صحن میں آ چکی تھی جہاں وہ اپنی سائیکل کھڑی کر رہا تھا۔
’’بچوں کی فیس ابھی تک جمع نہیں ہوئی۔ اسکول سے استانی کا پیغام آیا ہے کہ جن بچوں کی فیس جمع نہیں ہوگی وہ امتحان میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔‘‘
اس نے سائیکل کھڑی کر کے بیوی کی طرف دیکھا تو دروازے کے پیچھے سے جھانکتی اپنی دو بیٹیاں نظر آئیں۔ انہی کی فیس جمع ہونی تھی۔ جھکی ہوئی کمر کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
اس کے ذہن میں دفتر کا منظر گھوم رہا تھا جہاں وہ ایک کلرک کے طور پر ملازم تھا۔ آج صبح فیکٹری کے مالک نے تمام اسٹاف ملازمین کو عیدی دی تھی۔ وہ بیچارہ یہی سوچتا رہا کہ کلرک حضرات کا شمار نہ تو افسروں میں ہوتا ہے جنہیں بونس ملتا ہے اور نہ ہی اسٹاف ملازمین میں جنہیں عیدی دی جاتی ہے۔
عید کا خیال آتے ہی اسے اپنے بچے یاد آ گئے جن کے لیے پچھلی عید پر بھی نئے کپڑے نہیں آ سکے تھے۔ وہ ذہن ہی ذہن میں پیسوں کا حساب لگانے لگا کہ اس عید پر وہ کیا کر پائے گا۔ پھر اسے اپنی ماں کی نصیحت بھی یاد آ گئی جس نے مرنے سے پہلے کہا تھا:
’’بیٹا، عید پر بہنوں کو نہ بھولنا اور ہمیشہ عیدی دینے جانا۔‘‘
انہی خیالات میں ڈوبا ہوا تھا کہ بیوی کی آواز آئی:
’’آپ ہاتھ دھو لیں، میں کھانا لگا دیتی ہوں۔‘‘
جب وہ کھانے کی میز پر بیٹھا تو تازہ گرم روٹی کی خوشبو نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ اسے محسوس ہوا کہ دنیا میں سب سے اچھی خوشبو تازہ گرم روٹی کی ہوتی ہے۔ کسی بھی مہنگے پرفیوم میں وہ تاثیر نہیں جو ایک سادہ روٹی کی خوشبو میں ہوتی ہے۔
چنے کی دال کے ساتھ روٹی کھاتے ہوئے وہ چند لمحوں کے لیے سب پریشانیاں بھول گیا۔ اس نے غور سے اپنی بیوی کو دیکھا جس کی آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں اور ان کے گرد تھکن کے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ بے اختیار وہ ماضی کے دریچوں میں چلا گیا۔ جب اس کی شادی ہوئی تھی تو محلے کی عورتوں نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی تمہاری دلہن بنی ہے۔ یہ سن کر وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔
اسی لمحے دروازہ زور زور سے پیٹا جانے لگا۔ دروازے پر مالک مکان کھڑا تھا۔
’’دیکھو شرافت بھائی، تمہارا نام شرافت ہے اس لیے ہم نے ہمیشہ تم سے شرافت سے ہی بات کی ہے۔ لیکن عید پر بہت خرچہ ہوتا ہے، اس لیے کرایہ لینے آ گیا ہوں۔ ویسے بھی کرایہ پہلے ہی لیٹ ہو چکا ہے۔‘‘
شرافت نے وعدہ کیا کہ وہ جلد کرایہ ادا کر دے گا۔ مگر اس کے ذہن میں حساب کی ایک لمبی فہرست چل رہی تھی: بچوں کی فیس، مکان کا کرایہ، بہنوں کی عیدی، بچوں کے کپڑے۔
بیوی نے اس کی پریشانی محسوس کی تو آہستہ سے بولی:
’’تم فکر نہ کرو، اللہ کوئی نہ کوئی سبب بنا دے گا۔‘‘
پھر تھوڑی دیر بعد بولی:
’’میرا تھوڑا سا زیور پڑا ہوا ہے۔ اگر تم اجازت دو تو اسے بیچ دیتے ہیں تاکہ بچوں کی فیس بھی ادا ہو جائے اور کرایہ بھی۔ بچوں کے کپڑے بھی آ جائیں گے۔ اللہ نے زندگی دی تو زیور پھر بنوا لیں گے۔‘‘
یہ سن کر شرافت کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے سینے سے ایک بہت بڑا پتھر ہٹا دیا ہو۔
اگلی صبح وہ غیر معمولی تیزی سے سائیکل چلا رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ شاید مسائل کا کوئی حل نکل آئے گا۔ لنچ بریک میں وہ زیور بیچنے والا تھا۔
لیکن ایک موڑ مڑتے ہی اس کی سائیکل ایک بڑی سفید مرسڈیز گاڑی سے جا ٹکرائی۔
ڈرائیور نے غصے میں آ کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔ چند لوگ جمع ہو گئے۔ گاڑی کے اندر سے آواز آئی:
’’امجد، اسے چھوڑ دو اور چلو۔‘‘
ڈرائیور نے اسے جھٹکے سے چھوڑا اور گاڑی روانہ ہو گئی۔
شرافت نے سنبھل کر اپنی سائیکل اٹھائی تو اچانک اسے یاد آیا کہ اس کے پاس زیورات والی پوٹلی تھی۔ وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ پوٹلی کہیں نظر نہیں آئی۔ اس نے جیب ٹٹولی تو بٹوا بھی غائب تھا۔
اسے یوں لگا جیسے اس کی پوری دنیا ایک لمحے میں بکھر گئی ہو۔
اسی لمحے اس کے ذہن میں ایک ہولناک خیال آیا۔ سامنے مٹی کے تیل کی دکان تھی۔ اس نے جیب سے مڑا ہوا پچاس روپے کا نوٹ نکالا اور دکاندار کو دیتے ہوئے کہا:
’’مٹی کا تیل دے دو۔‘‘
دکاندار نے نوٹ واپس کرتے ہوئے کہا:
’’پچاس روپے کا مٹی کا تیل کہاں سے دے دوں؟ کل ہی مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک سو تیس روپے فی لیٹر اضافہ ہو گیا ہے۔‘‘
شرافت کے ہاتھ میں وہی پچاس روپے کا نوٹ تھا۔ چند لمحے پہلے وہ اس نوٹ سے اپنی زندگی ختم کرنے کا ارادہ کر چکا تھا، مگر اب اسے اچانک احساس ہوا کہ اس ملک میں غریب آدمی کے لیے زندہ رہنا تو مہنگا تھا ہی، مگر اب مرنا بھی اس کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔

مزیدخبریں