فنی تعلیم کا مستقبل

09:10 AM, 13 Mar, 2026

ہر چند تفاخر سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے، کہ ہمارا شمار ان خوش قسمت ممالک میں ہوتا ہے، جس کی غالب آبادی نوجوانان پر مشتمل ہے، مگر یہ اعتراف کم ہی کیا جاتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی شرح بے روزگاری25فیصد کے قریب ہے،لاکھوں کی تعداد میں بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے قومی ترقی کا سیدھا فارمولا بتایا تھا کہ افرادی قوت پر سرمایہ کاری کی جائے،اس مشورہ کو در خود اعتنا نہ سمجھا گیا، خطہ میں سب سے کم تعلیمی بجٹ مختص کرنے کا اعزاز اس ریاست کا ہے، یہی معاملہ فنی تعلیم کا بھی ہے۔
شنید ہے کہ حکومت پنجاب ان طلبا وطالبات کو فنی تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی ہے جو انٹر یا میٹرک میں فیل ہوجاتے ہیں،یہ قدم ناکام طلبا پر تعلیمی بوجھ کی بجائے فنی مہارت دے کر انہیں بااختیار بنانا ہے۔  چائلڈ لیبر عالمی قوانین کے تحت خلاف قانون ہے مگر جس ریاست کی چالیس فیصد آبادی خط غربت کے تحت زندگی گذارنے پر مجبور ہو اور تعلیم بھی مہنگی ہو، وہاں زندگی اور روح کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے والدین دل پر پتھر رکھتے ہوئے اوائل عمر ہی میںنیم خواندہ بچوں کو مشقت پرڈال دیتے ہیں۔وہ فن سے آراستہ تو جاتے ہیں مگر اس سرٹیفکیٹ سے محروم رہتے ہیں، جو بہتر روزگار کے لئے لازمی ہے،پنجاب سرکار کا یہ احسن اقدام ہے، مگر لازم ہے کہ والدین کو اعتماد میں لے کر انہیں فنی مہارت بمعہ وظیفہ دیاجائے مزدوری کا بوجھ اٹھانے سے یہ بہت بہتر ہے،مشاہدہ بتاتا ہے کہ بعض طلبا یا طالبات جو تھیوری پڑھنے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے مگر عملی کام بہت بہتر انداز میں انجام دیتے ہیں،اس ضمن میں عوامی سطح پربھی آگاہی ضروری ہے ،کہ سکل سیکھنے کے بعد مذکورہ طلبا و طالبات اپنا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 60 کی دہا ئی سے جو فنی تعلیمی پالیسی چل رہی تھی، اس کے مطابق تمام کامرس اینڈ کالجز آف ٹیکنالوجی ہائر ایجوکیشن فنی ونگ جبکہ ووکیشنل سٹریم لیبر ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کر تے تھے،،فنی تعلیمی اداروں میں تین سالہ ڈی اے ای اور بی ٹیک آنرز کے چار سالہ کورسز کرائے جاتے تھے، جبکہ  90 کی ٹیوٹا اتھارٹی کے زیر انتظام اس توقع کے ساتھ اداروں کو دیاگیاکہ مذکورہ اتھارٹی پنجاب میں فنی تعلیم کو کم ازکم جنوبی ایشیا میں خطہ کے ممالک کے ہم پلہ ضرور لائے گی، مگر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا، اس اتھارٹی نے چار سال بی ٹیک آنرز کورس کو سرے سے ہی ختم کردیا اس کے برعکس چند ماہ کے شارٹ کورسز کا اجرا ان اداروں میں کیا ،جہاں ڈگری کلاسز ہوا کرتی تھیں۔
 عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری بھر گرانٹس فنی تعلیم کے فروغ کے لئے  ملتی رہیں، مگر اس کو نئی مشینری اور اوزاروں کی خرید کی بجائے دفاتر کی زیب وآسائیش اور گاڑیوں کی خریداری پر خرچ کیا ،سول سروس سے اتھارٹی کے ایسے چیئرمین بھی گزرے ہیں جنہوں نے اداروں میں Teleprznce  لیب پر بلا ضرورت اربوں روپئے اڑا دیئے جب کہ اس وقت اداروں میں60 کی دہائی کی مشینری طلبا کی عملی مہارت کے لئے موجود تھی،اس پر نہ تو نیب متحرک ہوا نہ ہی ٹیوٹا بورڈ کے اراکین نے نوٹس لیا۔البتہ موجودہ چیئرمین کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے چند اداروں میں زیر تعلیم سال سوئم کے طلبا کو عملی تربیت کے لئے چین بھجوایا ہے۔وہ فارغ التحصیل طلبا و طالبات کو بیرون ملک بھجوانے کے لئے کو شاں رہتے ہیں۔  فنی تعلیمی بورڈ پنجاب ان اداروں کا امتحان لیتا ہے، پرائیویٹ اداروں کی بورڈ اور ٹیوٹا سے الحاق کے لئے تحریری طور پر کڑی شرائط  ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ چندادارے ہی ہلکے معیار پر پورا اترتے ہیں،اس لئے ایسے اداروں کی بھی مانیٹرنگ ہونا لازمی ہیں، جو بغیر عملی مہارت کے سرٹیفکیٹس جاری کرتے ہیں،جن طلبا کو پنجاب سرکار فن سے آراستہ کرتے ہوئے بااختیار بنانا چاہتی ہے، اس پر عمل درآمد کے لئے بھی لازم ہے کہ ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹیشن برائے مرد و خواتین کا قیام کم از کم ٹائون کی سطح پر ضرور ہو۔
ہونا تو چاہئے تھا کہ مذکورہ اتھارٹی میں اصلاحات لائی جاتیں ،مگر اس پر ایک نئی پنجاب سکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنا دی گئی ،ہندوستان، بنگلہ دیش میں فنی تعلیمی اداروں میں ڈاکٹریٹ تک تعلیم دی جاتی ہے، ہمارے ہاں کالجز آف ٹیکنالوجی میں شارٹ کورسز کرائے جارہے ہیں، پنجاب میں دو ٹیکنیکل یو نیورسٹیز قائم ہیں، سرکارمذکورہ کالجز کو ان کے ساتھ منسلک کرکے مختلف شعبہ جات میں میں بی ایس ٹیکنالوجی کے پروگرام شروع کرے، فارغ التحصیل طلبا و طالبات کی پاکستان ٹیکنالوجی کونسل میں رجسٹریشن کرائے، ان گریجویٹس کو اعلیٰ تعلیم یا جاب کے لئے بیرون ملک بھجوانے کا اہتمام کرے، جبکہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ میں ناکام طلبا کو ووکیشنل سٹریم میں کم ازکم ایک یا دوسال کے مختلف ٹریڈز میں کورسز کرائے جائیں انہیں بھی بیرون ملک جاب دلوانے کی منصوبہ بندی کی جائے، اب تو لیبر ورک کے لئے عرب ممالک میں بھی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
فنی تعلیم کے فروغ کا خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہوگا ،جب اداروںمیں کام کرنے والے اساتذہ اور دیگر عملہ کو بروقت مراعات دی جائیں گی،ٹیوٹا پنجاب میںان سے امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے، شنید یہ ہے جو ملازمین سیکرٹریٹ میں ملازمت کرتے ہیں انہیں بھاری بھر الائونس اور بروقت ترقی دی جاتی ہے، جبکہ فیلڈ میں کام کرنے والے اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود گذشتہ 24سال سے ایک ہی گریڈ میں کام کرنے پر مجبور ہیں، نیز ڈسپیرٹی الائونس جو دیگر پنجاب کے ملازمین کو دیا جاچکا ہے وہ اس سے محروم چلے آرہے ہیں،سونے پر سہاگہ یہ ہے پنجاب سرکار نے سرکاری ملازمین کی پنشن اور گریجویٹی،لیو ان کیشمنٹ میں کٹ لگا کر ہل من مزید کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو ترقی تک لانے میں بڑا کردار پروفیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کاہے،عہد ایوب سے فنی اداروںکے قیام سے90 کی دہائی تک یہ ماڈل انتہائی کامیابی سے چلتا رہا، اس سے فارغ التحصیل طلبا دنیا بھی کلیدی عہدوں پر اپنے فرائض انجام دیتے رہے ،اسکے چیدہ چیدہ نکات فنی تعلیم کی ترقی کے لئے موثر ثابت ہو سکتے ہیں، بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں محض تین تین ماہ کے شارٹ کورسز کرا کر یہ سمجھنا بے روزگاری ختم ہو جائے گی وقت ،پیسے کے ضیاع کے علاوہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے،فنی تعلیم کامستقبل ان اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے اجرا سے وابستہ ہے،ٹیوٹا سے وابستہ ذمہ داران اس حقیقت کو جتنی جلدی سمجھ لیں گے ان کے حق میں بہتر ہوگا۔

مزیدخبریں