ایران کے خوف نے اسرائیلیوں کو کیسے ہلا کے رکھ دیا

09:10 AM, 13 Mar, 2026

28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں شروع ہونے والی جنگ نے خطے کی سیاست اور سکیورٹی کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ابتدا میں اسے ایک محدود فوجی کارروائی سمجھا جا رہا تھا، مگر چند ہی دنوں میں یہ جنگ ایک وسیع تصادم میں تبدیل ہوگئی جس میں میزائل اور ڈرون حملوں کا خوفناک تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ اس جنگ کا ایک اہم پہلو اسرائیلی معاشرے پر پڑنے والا نفسیاتی اثر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے سیکڑوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر داغے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی اسرائیل پر متعدد میزائل حملے کیے گئے جنہوں نے مختلف اسرائیلی شہروں یروشلم ,تل ابیب یافو , اشدود , بیرشیبا, رشون لیسیون, نیتنیا, ایلات اور ناذرتھ کو نشانہ بنایا۔ اسکے علاوہ اسرائیلی جافا پورٹ, تل ابیب پورٹ, ایکر پورٹ اور کیثریا پورٹ ایرانی نشانے پر رہے۔
یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے، جو اپنی گہری مذہبی اور تاریخی اہمیت کیلئے جانا جاتا ہے۔ یہ شہر یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں مذاہب کے لیے مقدس سمجھا جاتا ہے۔ تل ابیب - یافو اسرائیل کی ہائی ٹیک، تجارتی اور مالیاتی صنعتوں کا مرکز ہے۔ اسے اکثر "وائٹ سٹی" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں بائو ہائوس طرزِ تعمیر کی عمارتیں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ حیفہ شمال میں واقع ایک اہم بندرگاہی شہر ہے جو اپنی صنعت، متنوع آبادی اور بحیرئہ روم کے ساحل پر واقع خوبصورت مناظر کے لیے معروف ہے۔ اشدود تل ابیب کے جنوب میں واقع ایک بڑا ساحلی شہر ہے جو گہرے پانی کی بندرگاہ اور صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے اسرائیل کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بیرشیبہ صحرائے نیگیو کا سب سے بڑا شہر ہے اور جنوبی اسرائیل میں انتظامی اور تعلیمی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ریشون لیتسیون وسطی ساحلی میدان میں واقع ایک بڑا شہر ہے اور گش دان میٹروپولیٹن علاقے کا حصہ ہے۔ پتاح تکوا اسرائیل کے وسطی ضلع میں واقع ایک اہم صنعتی اور رہائشی شہر ہے۔ نیتانیا بحیرئہ روم کے ساحل پر واقع ایک شہر جو اپنے خوبصورت ساحلوں، سیاحت اور بڑھتی ہوئی ہائی ٹیک صنعت کیلئے مشہور ہے۔ ایلات اسرائیل کا جنوبی ترین شہر ہے جو بحیرئہ احمر کے کنارے واقع ہے اور ایک اہم سیاحتی مقام اور بندرگاہ کے طور پر کام کرتا ہے۔ ناصرہ اسرائیل کا سب سے بڑا عرب شہر ہے اور مسیحی زائرین کیلئے ایک اہم مذہبی اور زیارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
پورٹ اشدود تل ابیب کے جنوب میں واقع بڑی تجارتی بندرگاہ ہے جو کنٹینرز اور دیگر سامان کی نقل و حمل کے لیے اہم ہے۔ ایلات پورٹ بحیرئہ احمر پر واقع بندرگاہ ہے جو ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے اہم راستہ فراہم کرتی ہے۔ ایشکیلون پورٹ صنعتی سرگرمیوں اور تیل کے ٹرمینل کیلئے معروف بندرگاہ ہے۔ ہیدرہ پورٹ زیادہ تر اوروت رابن پاور پلانٹ کیلئے کوئلہ اتارنے کے مقصد سے استعمال ہوتی ہے۔ حیفا بے پورٹ حیفا میں جدید بندرگاہی سہولیات فراہم کرتی ہے۔ اشدود ساوتھ پورٹ اشدود کی نئی بندرگاہی توسیع ہے جو بڑے تجارتی جہازوں کو سنبھال سکتی ہے۔ کیشون پورٹ حیفا کے قریب ایک چھوٹی صنعتی اور ماہی گیری بندرگاہ ہے۔ ایلات مارینا ایلات میں سیاحتی کشتیوں اور یاٹس کیلئے استعمال ہونے والی بندرگاہ ہے۔ تل ابیب پورٹ تل ابیب کی پرانی بندرگاہ ہے جو اب زیادہ تر سیاحت، تفریح اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہوتی ہے۔حالیہ جنگ کے دوران ایرانی میزائل اور ڈرونز کے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کے علاقوں میں گرنے سے آگ بھڑکتی رہی اور کئی مقامات پر شدید تباہی ہوئی۔ کلسٹر میزائلوں کے حملوں سے سیکڑوں جدید عمارتیں اور تنصیبات دھواں ہو گئیں۔ اگرچہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے بہت سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کیا، تاہم کئی میزائل دفاعی حصار کو عبور کر گئے۔ ان حملوں میں اسرائیلی دفاعی و صنعتی تنصیبات, رہائشی عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ بعض علاقوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
ایرانی حملوں سے اسرائیلی شہروں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور زندگی مفلوج ہو چکی ہے۔ سائرن بجتے ہی اسرائیلی شہری زیرِ زمین پناہ گاہوں میں چلے جاتے ہیں اور گھنٹوں وہیں پڑے رہتے ہیں۔ میزائل حملوں کے باعث کچھ علاقوں سے شہریوں کو عارضی طور پر نکالنا بھی پڑا۔ ابتدائی ہفتے میں ہی 4679 افراد کو اپنے گھروں سے منتقل کیا گیا۔ ایرانی میزائل اور ڈروں حملوں کے خوف کی وجہ سے ہی بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری بیرون ملک جانے لگے ہیں۔ بن گوریان ایئرپورٹ سے بیرون ملک پروازیں دوبارہ شروع ہونے کے بعد 80 ہزار سے زائد اسرائیلیوں نے ملک چھوڑنے کو ترجیح دی۔ اسرائیل کے غزہ اور ایران پر حملوں کے بعد فلسطینی اور ایرانی تو اپنے اپنے وطن چھوڑ کر کہیں نہیں بھاگے البتہ بزدل اسرائیلی اپنی جانیں بچا کر اسرائیل سے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 
جنگ کے دوران ایک اور اہم پہلو ایران کے اندر کا ردعمل ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کو توقع تھی کہ شدید حملوں کے بعد ایران میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوگا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ سپریم لیڈر کی شہادت پر ہر شہر میں لاکھوں افراد باہر نکلے لیکن حکومت کے خلاف نہیں بلکہ اپنے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے۔ ایرانیوں کے اس والہانہ انداز نے امریکیوں اور اسرائیلیوں کو حواس باختہ کر کے رکھ دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد بھی نظام مستحکم رہا اور نئی قیادت سامنے آ گئی۔ بیرونی دباؤ کے وقت اکثر قومیں داخلی طور پر متحد ہو جاتی ہیں۔ ایران میں بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل کی داخلی سیاست کو بھی بری طرح سے متاثر کر رہی ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کو سخت عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کی جوابی صلاحیت کو کم سمجھا۔ ٹرمپ کو بھی اس جنگ کے فیصلے اور اب تک کے نتائج پر تنقید کا سامنا ہے۔ اس جنگ نے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک اور طویل تنازع میں دھکیل دیا ہے۔ یہ جنگ طویل ہوتی ہے اور معاشی نقصانات بڑھتے ہیں تو اسرائیل میں آئندہ انتخابات میں نیتن یاہو کو یقینی شکست کا سامنا ہوگا۔ اسی طرح امریکہ میں ٹرمپ کی مڈ ٹرم میں کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ امریکہ یہ جنگ جیتتا ہے یا ہارتا ہے۔ 2026 کی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ بن گئی ہے۔ ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے اندر نفسیاتی دباؤ پیدا کر دیا ہے اور پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی ہی نہیں بلکہ حوصلے، معیشت اور سیاسی قیادت کے امتحان کی جنگ بھی ہے۔ آنے والے مہینے فیصلہ کریں گے کہ یہ جنگ خطے کو کس سمت لے جاتی ہے۔

مزیدخبریں