کشمیری خواتین کا بطور جنگی ہتھیار استعمال

09:09 AM, 13 Mar, 2026

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل کرنے اور علاقے میں جاری جدوجہد آزادی کو دبانے کیلئے کشمیری خواتین کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔ دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جو کشمیری خواتین کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسز کے اہلکار خواتین کی تذلیل کرتے ہیں،انہیں، قتل، گرفتار، تشدد، اور آبروریزی کا نشانہ بناتے ہیں۔
 حریت ترجمان نے انصاف کے بین الاقوامی اداروں، اقوام متحدہ  اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری خواتین کو درپیش مشکلات کا فوری نوٹس لیں۔ ترجمان نے کہا کہ کشمیری خواتین جدوجہد آزادی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو علاقے میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مجبور کرے۔
 مقبوضہ علاقے میں کئی دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری خواتین کودرپیش مشکلات اور قربانیوں کو نظر انداز کیا جارہاہے۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 37 سال کے دوران کشمیری خواتین کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔کشمیری خواتین محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کی وجہ سے مسلسل نفسیاتی صدمے کا شکار ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجیوں کی طرف سے خواتین کو ہراساں کرنا اور انہیں ڈرانا دھمکانا ایک معمول بن چکاہے۔
 جنوری 1989 سے بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ علاقے میں 11 ہزار 269 خواتین کی بے حرمتی کی ہے جبکہ اس دوران کم از کم 22 ہزار 991 خواتین بیوہ ہو چکی ہیں۔ علاقے میں بیواؤں اورنیم بیواؤں کی بڑی تعداد بھارتی فورسز کی بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عصمت دری اور جنسی تشدد کو کشمیری عوام کے عزم کو توڑنے کے لیے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ خاص طور پر جموں، راجوری، پونچھ اور کٹھوعہ میں ہزاروں مسلمان خواتین کو اغوا کیا گیا، انکی عصمت دری کی گئی اور ناقابل تصور مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ مسلمانوں کی نسل کشی کی ایک منظم کوشش تھی جس میں مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج نے سہولت فراہم کی تھی۔1988 کی عوامی بغاوت کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے باربار اس بات کی نشاندہی کی کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور بارڈر سکیورٹی فورس سمیت بھارتی فورسز خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ 1989 کے بعد بھارتی فورسز نے چن چن کر کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنایا ،خواتین کی بے حرمتی کی اوربے گناہ لوگوں کو قتل ، گرفتاراورتشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے گھروں اور کاروباری مراکز کونذرآتش کردیا۔
مقبوضہ علاقے میں ہزاروں خواتین اپنے بیٹوں، شوہر، باپ اور بھائیوں سے محروم ہوئیں جنہیں بھارتی فوجیوں نے گرفتارکرکے لاپتہ کیاہے۔ لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ 38 سال کے دوران 8000 کشمیری دوران حراست لاپتہ ہوئے جس سے مقبوضہ علاقے کی خواتین درد اور کرب میں مبتلا ہیں۔ حریت رہنما آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تین درجن سے زائد کشمیری خواتین بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرکی جیلوں میں نظر بند ہیں جنہیں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنے پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔رپورٹ میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کاحوالہ دیا گیا جس سے سکول جانے والے ہزاروں بچے زخمی اور 100 سے زائد نابینا ہو گئے جن میں 19 ماہ کی حبہ جان اور 2 سالہ نصرت جان شامل ہیں۔
بھارتی فورسز نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں حق خودارادیت کا مطالبہ کر نے والے شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کی خواتین کی آبروریزی کی۔ہیومن رائٹس واچ کی 1993 کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے کشمیری شہریوں کے خلاف انتقامی کارروائی کے لئے عصمت دری کوایک ہتھیار کے طورپر استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق عصمت دری کے زیادہ تر واقعات محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران پیش آئے۔اکتوبر 1992 میں، ایشیا واچ گروپ اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHR) کے نمائندوں نے کشمیر کا سفر کیا تاکہ عصمت دری اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی افواج کی طرف سے جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ بعد ازاں انہوں نے 9 مئی 1993 کو ’’کشمیر میں عصمت دری‘‘ کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔
رپورٹ میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین پر بھارتی ریاستی دہشت گردی کے تباہ کن اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ جنوری 2001 سے اب تک کم از کم 690 خواتین کو بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے شہید کیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد نفسیاتی مسائل کا شکار کشمیریوں کی اکثریت خواتین کی ہے۔ 
جولائی 2021 میں ایک پولیس کانسٹیبل اور سپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) نے جموں کے دنسال علاقے میں نابالغ دلت لڑکی کی اجتماعی عصمت دری کی۔متعدد مائیں اور بیویاں اپنے لاپتہ بیٹوں اورشوہروں کے انتظار میں دم توڑ چکی ہیں جبکہ مقبوضہ علاقے میں کئی دہائیوں سے بیوائیں اور نیم بیوائیں شدید مشکلات کی زندگی گزار رہی ہیں۔ کشمیری نوجوانوں سے شادی کرنے والی آزاد جموں و کشمیر کی 400 کے قریب خواتین کو ناانصافی کا سامنا ہے کیونکہ بھارتی حکومت انہیں نہ تو شہریت کے حقوق دے رہی ہے اور نہ ہی آزاد جموں و کشمیر واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم کرتی ہے۔ ان کے بچوں کو بھی سرکاری سکولوں میں داخلے سے محروم رکھا جاتا ہے۔

مزیدخبریں