صیہونیت کی مبادیات

09:08 AM, 13 Mar, 2026

بظاہر یہ لگتا ہے کہ امریکہ اپنا اخلاقی وجود کھو چکا ہے۔ اسرائیل کا تو خیر کوئی اخلاقی وجود کبھی رہا ہی نہیں۔ بحیثیت پاکستانی ہم اس کے کسی بھی طرح کے قانونی وجود کے قائل ہی نہیں ہیں۔ البتہ امریکہ اور اس کے حامی اپنا اخلاقی وجود کھو چکے ہیں۔ لیکن یہ بڑی سادہ سی باتیں ہیں۔ سماجی اخلاقیات اور روحانیت تو یہ ممالک اپنے کلچر کی بدولت پہلے ہی مٹا چکے تھے۔ یہ انہی کا ویلیو سسٹم تھا کہ ایک بدکار شخص بھی قیمتی اور خوبصورت لباس کے باعث معزز شمار کیا جائے اور بے ضمیر شخص بھی زیر استعمال چیز کے طفیل اپنا تعارف احترام سے کرا سکے۔ یہ کلچر عالمی صیہونی معاشی نظام کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ اور یہی معاشی نظام صیہونی سیاست کا سب سے بڑا ستون ہے۔ 
 اقوا متحدہ کا یتیم خانہ جن ثروت مندوں سے خیرات وصول کرتا ہے انھی کے اشتہارات بناتا اور تقسیم کرتا ہے۔ یہ صورتحال کسی نادانی کا ثمر نہیں ہے۔ صیہونی مالیاتی نظام اور صیہونی سیاسی بالادستی کو سب سے زیادہ معاونت اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے فراہم کی ہے۔ ان کے ذریعے عالمی پالیسی سازی میں ایسے پہلوؤں پر زور دیا گیا ہے جو اس نظام کو تقویت دیں۔ اور اسی کے تحت نئے انسان کی نظریہ سازی کی گئی ہے۔ صہیونیت ایک مذہبی اصطلاح نہیں ہے۔ جو لوگ اسے صرف یہودیوں سے جوڑتے ہیں وہ اس نظام کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ صیہونیت ایک مکمل طاغوتی نظام ہے اور اسی کے قیام کے لیے صیہونی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ریاست بذات خود مقصد نہیں تھی بلکہ یہ اس نظام کی معاون ہے جو دنیا کے تمام وسائل کو ایک مٹھی میں سمیٹ سکتا ہے۔ ہم اس لیے اسے طاغوت کہتے ہیں کہ یہ نظام سیاسی حربوں اور معاشی غارتگری کے ذریعے پوری دنیا کے وسائل پر قابض ہونے کا منصوبہ ہے۔ صیہونی نظام انسانوں کو چار بنیادی درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ درجہ اول کے لوگ مقتدر لوگ ہیں۔ یہ خالص یہودی یا ان سے ملتے جلتے ہیں۔ جو اپنے الہامی تصورات کے مطابق اپنے تئیں خدا کی منتخب کردہ قوم ہیں اور پوری دنیا کے انسانوں پر حقِ ملکیت رکھتے ہیں۔ دوسرا طبقہ ان نائبین کا ہے جو اس پورے نظام کو قائم کرنے اور اسے چلانے میں ان کے لیے ہر کام کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان نائبین کو دنیا کی ہر وہ نعمت دی جائے گی جس کے وہ کسی طرح مستحق نہیں ہیں۔ اس مقصد کے لیے دنیا کے سب سے زیادہ سفاک، نالائق اور عیاش لوگوں کا انتخاب کیا جاتا ہے جو لالچ اور خوف کے ہتھیار سے زیادہ سے زیادہ انسانوں کو ہمنوا بنا سکیں۔
 تیسرے درجے میں محض غلام شامل ہیں۔ یہ دنیا کی اکثریتی آبادی ہیں۔ یہ محتاج کْل ہیں اور انھیں زندہ رہنے کے لیے صیہونی نظام کے عین مطابق گزارا کرنا ہو گا۔ کوئی بھی حکم عدولی ایسے لوگوں کی نسل اجاڑنے کے لیے کافی ہو گی۔ جب کہ چوتھا درجہ ان لوگوں کا ہے جو صیہونی نظام کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ یہ قطعاً معافی کے لائق تصور نہیں کیے جاتے نہ ہی ان کا وجود کسی صورت دنیا میں برداشت کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی تنظیم اسی نظریے کے عین مطابق کام کرتی ہے۔ وہ درجہ اول کے افراد کے لیے نہایت حساس ہے اور غلاموں کے لیے بالکل بے حس۔ یہ اول درجے کے لوگوں کی محافظ ہے اور ان کے حوالے سے انسانی حقوق کے اعلیٰ منشور پیش کرتی ہے اور ان کا اطلاق ممکن بناتی ہے۔ یہ آرگنائزیشن نائبین کے لیے بھی ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے اور ان کی معاونت دوسرے درجے کی مساوات کے تحت کرتی ہے۔ جب کہ یہی تنظیم غلاموں کی امداد خیراتی کاموں کے ذریعے کرتی ہے اور مزاحمتی طبقے کے لیے نہایت سخت گیر ثابت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے بعض ممالک میں ذرا سی ماحولیاتی آلودگی پر تڑپ اٹھتے ہیں جب کہ دوسری جانب لاکھوں افراد کے قتل عام پر ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ سادہ دل لوگ حیران ہوتے ہیں کہ اس تنظیم کے اپنے بنائے گئے قوانین کیسے اچانک الٹ پلٹ جاتے ہیں اور کیسے یہ خود ہی اپنے اصولوں سے انحراف کرتی نظر آتی ہے؟ یہ سب ہمارے لیے عجیب ضرور ہے لیکن صیہونی فلسفے کے عین مطابق ہے۔ ممکن ہے کہ اس تنظیم کے قیام میں کچھ مخلص افکار بھی شامل رہے ہوں لیکن بعد ازاں اس کو اسی نظام نے آ لیا جس نے پوری دنیا اپنی کالونی بنانے کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔
صیہونی پوری زمین کو ایک نئی طرز کی کالونی بنانے کا نظام ہے اور صیہونی آقاؤں کو ملٹی پلینٹری مخلوق بنانے کا ہے جس کے معنی ہیں کہ ان آقاؤں کو زمینی کالونی کے علاوہ دیگر سیاروں پر آباد کرنا ہے اس مشن کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اسی نظام کے لیے کرائیونکس جیسے سائنسی سسٹم بھی متعارف کرائے گئے جنھیں بعد ازاں کچھ ممالک نے بطور فیشن بھی اسے اپنا لیا۔ بعض ماہرین کے مطابق انسانی کلوننگ کا سلسلہ بھی در پردہ جاری ہے۔ ایٹم بم، کلوننگ اور کرائیونکس جیسی جادو گری اتفاقاً معرض وجود میں نہیں آتی۔ میں آسانی کے لیے کرائیونکس اور کلوننگ کی اصطلاحات کی وضاحت کرتا چلوں۔ کرائیونکس وہ عمل ہے جس میں مرنے کے بعد انسان کے جسم یا دماغ کو انتہائی کم درجہ حرارت (تقریباً 196°C) پر محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں ممکنہ طور پر اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔ اس کام کے لیے دنیا کی کئی مہنگی کمپنیاں عرصہ دراز سے کام کر رہی ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بزنس مین اور بلین ائیرز یہ کام کر چکے ہیں۔ جب کہ انسانی کلوننگ وہ عمل ہے جس میں کسی انسان کے خلیے کے ڈی این اے سے جینیاتی طور پر اسی جیسا بالکل نیا انسان تیار کیا جاتا ہے۔ صیہونی خواب کی تکمیل دنیا کی چھوٹی سی آبادی پر مشتمل یہودی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا پوری دنیا میں ان کے نائبین کو وجود میں لانا اور با اختیار بنانا ضروری تھا۔ نائبین دولت کی پیداوار کا کام کرتے ہیں یہ دولت ان کے لیے صرف تعیش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ نائبین کا چوں کہ اپنا کوئی نظام نہیں ہوتا اس لیے مجموعی طور پر ان کی پیدا کردہ تمام دولت اور تمام وسائل صیہونی نظام کے اثاثے شمار کیے جاتے ہیں۔    (جاری)

مزیدخبریں