8 جنگیں رکوانے کے دعویدار ٹرمپ کی مقبولیت

09:08 AM, 13 Mar, 2026

دنیا میں جنگیں رکوانے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ سال جنوری میں برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے ان کی مقبولیت امریکی عوام میں کم ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال نومبر کے سروے کے مطابق ان کی مقبولیت اپنی کم ترین سطح 36 فیصد پر آ گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، اس سروے سے ظاہر ہوا کہ صرف 37 فیصد امریکیوں نے بطور صدر ان کی کارکردگی کی توثیق کا اظہار کیا اور 68 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ ملکی حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔گزشتہ برس جنوری میں دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد فروری کے وسط تک صدر ٹرمپ مقبولیت 47 فیصد تھی جو اب نومبر میں کم ہو کر 36 فیصد رہ گئی تھی۔ یہ سروے سی این این اور ایس ایس آر ایس نے نومبر 2025ء میں کیا ۔ یہ سروے جو 27 سے 30 اکتوبر کے درمیان 1245 امریکیوں کے درمیان کیا گیا تھا اس سے ظاہر ہوا تھا کہ ٹرمپ کی ناپسندیدگی کی شرح 63 فیصد، جو جنوری 2021ء میں کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد ریکارڈ کی گئی ناپسندیدگی سے بھی ایک پوائنٹ زیادہ ہے۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ " آج امریکہ میں حالات کیسے جا رہے ہیں" تو 68 فیصد امریکیوں نے کہا کہ" کافی یا بہت برے" جا رہے ہیں جب کہ صرف 32 فیصد نے کہا کہ " کافی یا بہت اچھے" ہیں۔ یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب وفاقی حکومت امریکی تاریخ کے سب سے طویل شٹ ڈاؤن میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی تھی۔ سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ 47 فیصد امریکیوں کے معیشت اور مہنگائی اس وقت ملک کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکی جمہوریت کی حالت ہے، جسے 26 فیصد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ موازنے کے طور پر صرف 10 فیصد امریکیوں نے امیگریشن کو سب سے بڑی تشویش قرار دیا حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو اپنی مرکزی ترجیحات میں رکھے ہوئے ہے۔ جس میں آئی سی ای کے چھاپوں میں اضافہ پناہ گزینوں کی تعداد میں سخت کمی او ر وفاقی عدالتوں میں جاری امیگریشن مقدمات شامل ہیں۔ جنہیں صرف 7 فیصد امریکیوں نے تشویش کا باعث کہا، باوجود اس کے ٹرمپ بارہا وعدہ کر چکے ہیںکہ وہ امریکہ کے بڑے شہروں جنہیں وہ جہنم کے گڑھے اور جنگ زدہ علاقے کہتے ہیں کو جرائم، خون ریزی سے پاک کریں گے۔سروے میں شامل افراد میں سے صرف 27 فیصد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے ملکی معیشت کو بہتر کیا جب کہ 61 فیصد کا خیال ہے کہ ان پالیسیوں نے معیشت کو بد تر بنا دیا ہے اور12 فیصد کے نزدیک ان پالیسیوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب دیہی ریپبلکن علاقوں میں بڑھتی ہوئی تشویش پائی جا رہی تھی، جہاں ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے فیکٹریوں میں برطرفیاں اور پیداوار میں سست روی دیکھی جا رہی تھی۔ خارجہ پالیسی کے بارے میں 32 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلوں نے امریکہ کی عالمی حیثیت بہتر کی جب کہ 56 فیصد کا کہنا تھا کہ ان پالیسیوں نے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور 12 فیصد نے کہا کہ کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ مزید یہ کہ نومبر 2025ء کی رپورٹ کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ ٹرمپ صدارتی اختیارات کا حد سے زیادہ استعمال کیا ہے جب کہ 31 فیصد نے کہا ہے کہ ان کا طاقت کا استعمال مناسب تھا اور 9 فیصد کے نزدیک انہوں نے اپنی طاقت کا کافی استعمال نہیں کیا۔ جنوری 2025ء میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ نے صدارتی اختیارات میں غیر معمولی وسعت پیدا کی ہے جیسے کانگرس کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی حملوں کی اجازت دینا، ریاستی گورنروں کی مخالفت کے باوجود نیشنل گارڈ تعینات کرنا اور ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے آزاد ریگولیٹری اداروں کو براہِ راست وائٹ ہاؤس کے ماتحت لانا۔ ان اقدامات نے ملک بھر میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ سروے میں عوامی رویوں کا یہ رجحان بھی سامنے آیا ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ٹرمپ کی تحقیقات وزارتِ انصاف کو ان کے ذاتی ہتھیار میں تبدیل کرنے کا خطرہ ظاہر کرنے کا ذریعہ ہو گا۔
اب حالیہ ایران سے جنگ کے بعد مارچ 2026ء کے سروے کی طرف آتے ہیں بڑی تعداد میں امریکیوں نے اس فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے اور اس حملے کے بعد ان کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیل کی بے جا حمایت میں شروع کی جانے والی اس جنگ نے دنیا کے امن جو کاری ضرب لگائی ہے اس کے بعد آنے والی رپورٹوں میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف انتہائی نیچے ہو گا۔ دنیا اس وقت حیرت اور اضطراب کی کیفیت میں ہے۔ جنگ نہایت تلخ حقیقتوں کا نام ہے۔ ایسی برہنہ، سفاک اور سنگین حقیقتیں جو ہمیں پسند ہوں یا نہ ہوں زمین پر اپنا وجود رکھتی اور منواتی ہیں۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ نے عالمی ضمیر کو ایک نئے اور مشکل سوال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آخر جنگیں رکوانے کے دعویدار کے پاس اس جنگ کو شروع کرنے کا جواز کیا ہے؟ یہ سوال مشرقِ وسطیٰ یا مسلم دنیا تک محدود نہیں رہا بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی شدت سے اٹھنے لگا ہے۔ ابھی دنیا اس اچانک بھڑکنے والی جنگ کے صدمے سے پوری طرح باہر نہیں آئی کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے انتہائی سرعت کے ساتھ ایران کو نشانہ بناتے ہوئے جارحانہ فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا اور دنیا کو سوچنے اور سمجھنے کی مہلت تک نہیں دی کہ آخر ایران نے ایسا کون سا جرم کیا تھا جس کی سزا فوری طور پر اس قدر تباہ کن انداز میں دینا ضروری سمجھی گئی کہ دنیا بھر کے امن کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کئے گئے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات عالمی میڈیا کے مطابق مثبت پیش رفت کی جانب گامزن تھے، اچانک ایران پر حملوں کی خبر نے دنیا کو چونکا دیا۔ اگر امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے جوہری پروگرام پر اعتراض تھا تو اس کے لئے مذاکرات کئے جا رہے تھے اورا س کا حل سفارتی طور پر نکل آنا تھا اور جنگ کے بعد بھی تو مذاکرات ہی کئے جانا تھے پھر دنیا کے امن کو دائو پر کیوں لگا دیا گیا۔
اب صدر ٹرمپ ایران جنگ کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کر رہے ہیں اورا س کے لئے بڑی وضاحتیں پیش کر رہے ہیںاور ان کا کہنا ہے کہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے ڈرامائی انداز میں بڑھ رہا تھا میزائل پروگرام نے امریکہ کے اندر عوام اور سمندر پار امریکی افواج کے لئے خطرہ پیدا کر دیا تھا اور ایران ایسے میزائل حاصل کر سکتا تھا کہ وہ امریکہ تک پہنچ سکتے۔  صدر ٹرمپ کا ایران کو ختم کرنے کا بیان منطق کے بغیر ہے کہ کسی ایک ملک کے سربراہ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ کھلے عام کسی آزاد ریاست کو ختم کرنے کی بات کرے۔ بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے اس وقت دنیا کے طاقتور ترین ملک پر ایک ایسا شخص براجمان ہے جس کی سوچ انتہا پسندی پر مبنی ہے اور جسے خود اپنے ملک میں بھی مقبولیت حاصل نہیں ہے۔

مزیدخبریں