پاکستان میںغزل کے نعت گوشعرائ

07:25 PM, 13 Mar, 2025

اردو زبان وادب میں شاعری کے مقام ومرتبے سے انکارممکن نہیں ہے۔اس لیے کہ شاعری میں جوتاثیر پنہاں ہے وہ سیدھی دل تک پہنچتی ہے۔اپنی بات میں زور پیداکرنے کے لیے بھی شعرا کے کلام تحریروتقریرکاحصہ بنائے جاتے ہیں۔کسی بھی زبان کے فروغ کادارومدار اس زبان کے ادب کی ترویج پر ہوتا ہے۔ اگر ادبی اصناف اعلیٰ تخلیق ہو رہی ہوں تو زبان کی ترقی بھی تیزی سے ہوتی ہے۔اردوزبان کی ترویج میں بھی تخلیق کاروں کا کردار نہایت مستعد اور شاندار رہا ہے۔جس طرح پنجابی زبان کی ترقی صوفیا کی شاعری کے ذریعے سے ہوئی ۔اسی طرح اردو کی ترویج کا سہرا بھی شعرا کے سرجاتا ہے۔شاعری کی ہر صنف پہ ہردور کے تخلیق کاروں نے اپنے کمالات کے جوہر دکھائے ہیں۔ گیت، غزل، دوہا، نظم، مثنوی، قصیدہ ، مرثیہ اور ان کے علاوہ حمد،نعت ،سلام اور منقبت کی اصناف میں اردوشعرا نے جوکمالات دکھائے ہیں وہ کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بالخصوص جب شاعری میں عقیدت کے رنگ بھرے جاتے ہیں توشاعری کے پڑھنے میں احترام کاجوذائقہ پڑھنے والے کے تخیل میں جنم لیتا ہے اس کی نظیرنہیں ملتی۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جوانسان کی زندگی کوایک مقصد فراہم کرتا ہے،اس کے اندر یہ احساس ابھارتا ہے کہ اس کی سوچ کی یکسوئی اس کی عظمت کے لیے ضروری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ محبت با مقصد ہو، اس میں طمع ولالچ اور غرض شامل نہ ہو۔دین اسلام میںنبی ﷺ وہ اعلیٰ ہستی ہیں۔جن کے اوصاف ہردور کے انسان نے بیان کرکے اپنی شاعری اور نثرکی قامت میں اضافہ کیا ہے۔آپﷺ کی ذات کے اثرات اور کردارِ عظیم کے کمالات کا اثر ہر دور کے انسان نے محسوس کیا ہے۔آپﷺکے ساتھ بیٹھنے، اٹھنے اور چلنے پھرنے والوں کے کردار کی عظمت وبلندی بھی کسی سے پنہاںنہیں ہے۔نعت کہہ کرجہاںنعت گوحضرات نے اپنی سوچ میں وسعت کوجنم دیاوہیں آقاﷺ کی مدح سرائی مختلف زاویوں سے ایک نسل نے دوسری نسل تک پہنچائی ہے۔’نعت‘کے لغوی معنی ہیں اوصاف بیان کرنا، خوبیاں اجاگر کرنا۔ اصطلاحی معنی ہیں حضور اکرمﷺ کے اوصاف بیان کرنا، آپﷺ کے کردارِ عظیم اورصورت وسیرت پاک کومختلف انداز میں بیان کرنا۔نبی اکرمﷺ نے اپنے کرداروعمل سے زمانے کوجینے کے جوعظیم سلیقے اور طریقے مہیا کیے اس سے ہردور کے انسان نے نفع حاصل کیا ہے اور آج بھی یہ عمل جاری ہے۔ علامہ اقبال نے آپﷺ کی شان اس انداز میں بیان فرمائی:
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول، وہی آخر
وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ
بارگاہِ رسالت میں عقیدت کااظہار آج بھی جاری ہے۔ برصغیر میں عشق مصطفیﷺ کے رنگ بہت گہرے ہیں اور آپ ﷺ سے جو والہانہ محبت اس خطے کے لوگوں نے کی ہے اس کی بھی نظیرنہیں ملتی۔شعرانے باکمال کلام تخلیق کیے۔ہردور میں ایسے شعراسامنے آتے رہے ہیںجن کے کلام آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ اس سلسلے میں سید محمد قاسم نے ”پاکستا ں میںغزل کے نعت گوشعرائ“کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔جس میںانہوں نے بیس شعراکے نعتیہ کلاموںکاانتخاب ایک مجموعہ کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ شعرو ادب میں تخلیق، تحقیق، تنقید کا اپنا مقام ہے اورتدوین کی اپنی حیثیت ہے۔کسی بھی چیز کی تدوین اس وقت تک م مکن ہی نہیں جب تک اسے تحقیق کے عمل سے نہ گزارا جائے۔اس طرح یہ کہا جاسکتاہے کہ تدوین کا تحقیق سے گہراتعلق ہے۔اس لیے کہ تدوین کے لیے تحقیق کے مراحل سے کسی نہ کسی طورگزرناہی پڑتا ہے۔کسی کے کلام کو پڑھنا اور پھر اس کی ادبی حیثیت کاتعین کرنا،یہ ایک نقاد کی ذمہ داری ہے، اس طرح مدون کوتنقیدی مراحل سے بھی گزرنے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ایک معیار کے کلام کویکجاکرناآسان نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے شب و روز محنت کی ضرورت پیش آتی ہے۔سید محمد قاسم نے محنت کوشعار بناتے ہوئے یہ بڑاکارنامہ انجام دیاہے۔سید محمدقاسم کانعت سے متعلقہ کام پہلے بھی کسی تعارف کامحتاج نہیں ہے۔اپنے اسی ذوق اورمعیار کاتسلسل انہوں نے اپنی اس کاوش میںبھی جاری رکھاہے۔شاعری دل کوچھولینے والااحساس ہے، شاعری جذبات کے اظہارکاارفع واعلیٰ ذریعہ ہے۔محبت کے نرم احساسات کو ترتیب کی لڑی میں پروناشاعری ہے۔ شعرکہنابڑے معرکہ کی بات ہے لیکن شعر کاذوق رکھنامیرے خیال میںشعرکہنے والے معرکہ کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔ کسی بھی مصنف یاشاعر کے فن پاروںکوتحفظ اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ان کا کلام یا تونقادومحقق کی نظرمیں آجائے یا کسی علم دوست مدون کی سوچ میں اترجائے۔ایسا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کوئی اس کلام کو پڑھ نہ لے،اس کے ذائقے سے آشنانہ ہوجائے اورسب سے بڑھ کر اس کی سوچ میں شعروادب کی آبیاری کاجذبہ موجود ہو۔شعر کہنابڑاکام ہے لیکن اس شعر کو تقویت اسی وقت میسرآتی ہے جب اسکی گہرائی کواس طرح عام کیاجائے کہ وہ شخص بھی شاعر کی سوچ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرے جوشاعری کو عمیق انداز میں نہیں جانتا۔مدون کا کام تحقیق کے بعد کلام کوقاری تک اس طرح پہنچاناہوتا ہے کہ کلام کی اصل صورت وہیئت قاری پہ واضح ہوجائے۔اس طرح تدوین ایک ذمہ داری بن جاتی ہے۔تدوین شدہ کلام مدون کے ذوق کااظہاربھی کرتاہے۔سید محمد قاسم نے ادب کی خدمت کابیڑہ عملی طورپہ اٹھایا ہوا ہے۔ اس سلسلے میںمحسن اعظم ملیح آبادی رقمطراز ہیں: 
”سیدمحمدقاسم بھی محسنین ِ ادب میںسے ہیں جنہوں نے اپنے تذکروں میں سیکڑوں شعرا کو گمنامی سے بچا لیا ہے۔ میرے علم میںہے کہ کراچی میں بہت سے ایسے شاعر تھے جوشہرت یافتہ نہیں تھے، مگراپنی عظمتِ شاعرانہ ،بلندیِ کلام اورقادرالکلامی میںاپنامثیل نہیںرکھتے تھے۔ان کے نام سے بھی کوئی واقف نہیںرہاتھامگرسید محمدقاسم صاحب کے تذکروں میں”پاکستان کے نعت گو شعرا“ اور ”خاک میں پنہاں صورتیں“ میں وہ لوگ بھی نظر آئے جوگمنام ہوچکے تھے، ان کی وفات کوعرصہ بیت چکاتھا۔انہیںاردوشعروادب کی تاریخ میں زندہ کردیا ہے۔“
سید محمد قاسم نے نعت وغزل کواپنے اس شاہکار میں شامل کیا ہے۔شاعری کی دونوں اصناف نعت وغزل کواس طرح شعراکے کلام میں شامل کرکے اور کتاب میں جمع کر کے سید محمد قاسم نے شعروادب کی بلاشبہ باکمال خدمت کی ہے۔ شاعری میں نعت کی عظمت وتوقیر سے کسی باشعورکوانکار نہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ صنف کے اعتبار سے غزل کابھی ایک مقام ہے۔غزل ارفع جذبات کے اظہار کااعلیٰ ترین ذریعہ ہے۔حروفِ تہجی کے لحاظ سے سیدمحمد قاسم نے 155شعراکے کلام کوجمع کیاہے۔سب سے بہترین بات جوان کی اس کاوش میں نمایاں نظرآرہی ہے ،وہ ہے ان کامحققانہ انداز انہوں نے ہرشاعر کاتعارف تحقیق کے ساتھ دینے کی کوشش کی ہے۔یہ کوشش کامیابی سے بھرپور ہے،اس لیے کہ اس کوشش میں ان کی محبت اور خلوص شامل ہیں۔سید محمدقاسم نے جن شعراکے کلاموںکواپنی اس مرتبہ کتاب میں شامل کیاہے،ان کاانتخاب بہت باکمال ہے۔مدون کے لیے لازم ہے کہ وہ کلام کاانتخاب کرتے ہوئے شاعرکے ان کلاموںکواپنی تدوین میں شامل کرے جوقاری کے مزاج اور زمانے کے رحجان کے موافق ہو۔مثلاََابواللیث قریشی کے کلام کاانتخاب کیا خوب ہے۔ان کے نعتیہ اشعارملاحظہ کیجیے:
دربارِرسالت میںرسائی کی تمنا
یوںلگتاہے جیسے ہوخدائی کی تمنا
دیکھاہی نہیںخواب کبھی تختِ شہی کا
دل میںہے ترے درپہ گدائی کی تمنا
اسی طرح ابواللیث قریشی کی غزل کاانتخاب بھی خوب ہے۔کسی بھی شاعر کے کلام کاانتخاب سہل نہیں ہوتابالخصوص جب شاعر بھی اس معیار کاہوکہ اس کاکام شعروادب میں ایک خاص اہمیت کاحامل ہو۔مدون کاکام ایسے کلام کاانتخاب کرناہوتاہے کہ ایک نمونہ دیکھنے کے بعد قاری کادل اسے اکسائے کہ اس شاعر کے کلام کامطالعہ کرناچاہیے۔

مزیدخبریں