مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی عام طور سے یہ مصرع میر تقی میر سے منسوب کیا جاتا ہے دراصل یہ مصرع شاد لکھنوی کا ہے شاعر نے تو اس مصرعے میںاپنی بیماری کا ذکر کیا ہے لیکن ہم اس مصرعے کو اکثراوقات اپنی ناکامی کی صورت میں لکھتے ہیں ، اس لیے ہمارا اشارہ مرض کے بجائے کرکٹ کی طرف ہے، اس لیے اس وقت آپ یہ شعر اس طرح پڑھیں گے تو حسب حال ہوگا ، آئی سی سی چیمپیئن ٹرافی کا انعقاد خیروعافیت سے ہو گیا جس کا اعتراف دشمن بھارت نے بھی کیا اور بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہ بھیجنے کا ذمہ دارانڈین حکومت کو قراردیدیابھارت جو کہتا تھا کہ چیمپیئن ٹرافی کا پاکستان میں ہونا سیکورٹی رسک ہے بہترین انتظامات نے اس پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا لیکن جہاں بہترین انتظامات میں ایونٹ کا انعقاد ہوا وہاں 29 سال بعد ہونے والے اس ایونٹ میں بدترین شکست نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے آئی سی سی چیمپیئن ٹرافی پاکستان میں ہونے کے باوجودکرکٹ ٹیم کوئی معرکہ انجام نہ دے سکی اورابتدائی میچزمیں ہی ٹورنا منٹ سے اناللہ وانا علیہ راجعون ہو گئی کپتان رضوان بجائے شرمندگی کے اکڑ اکڑکے چلتے ہیں بھارت تیسری بار چیمپیئن بن گیا ہے وہ کھیل کرجیتا ہے اور ہم کھیلنے کےلئے آئے ہی نہیں تھے ہماری ٹیم جب گراﺅنڈ میں اتری تو ان کے چہرے اترے ہوئے تھے ایسے لگ رہا تھا جیسے یہ ذلیل ہونے کےلئے میدان میں اترے ہیں غلط سلیکشن اور پرچی کلچرنے ٹیم کو بدنامی سے دوچار کیا ایسے کھیلے جیسے ابھی کل ہی کو بلا پکڑا ہو ہمارے کھلاڑی صرف اشتہاروں میں ہی کارکردگی دکھا سکتے ہیں گراﺅنڈ میں ان کی کانپیں ٹانگ رہی ہوتی ہیںکمرشل میں کارکردگی دکھانے والے میدان میں کچھ نہ کر سکے نہ ہی بیٹنگ چل سکی اور نہ باﺅلنگ؟آخری نمبر پر رہنے والی ٹیم بد ترین شکست کے بعد اگلی باری کے انتظار میں ہیں انگلینڈ کے کپتان جوز بٹلرنے اپنی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر استعفیٰ دے دیا لیکن ہم نے اخلاقی جرا¿ت کا مظاہرہ نہ کیا ہمیں تو نوٹ چاہئیں چاہے وہ ہار کرہی کیوں نہ ملیں پوری ٹیم نے مایوس کن کارکردگی سے سبزہلالی پرچم کی توہین کی جسے ایونٹ شروع ہونے سے پہلے لہرایا گیاتھااور چیئر مین محسن نقوی نے فرمایا تھا کہ تم ہارو یا ذلیل ہوہم تمھارے ساتھ ہیں کیونکہ جہاں پرچی سسٹم ہو وہاں ٹیم کیا خاک چلے گی اس سپر سیزن کے کامیاب انعقاد سے دنیا میں ایک اچھا تاثر ملا کہ جب مودی سرکاراسے سکیورٹی رسک قرار دے رہی تھی جبکہ دوسری طرف بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا بھی پاکستان کی تعریف کےے بغیر نہ رہ سکے اور انڈین ٹیم کا پاکستان نہ آنا بھارتی حکومت کو ذمہ دار قرار دےدیا محسن نقوی نے ورلڈ کپ کے بعد ٹیم کی سرجری کا اعلان کیا تھا جو صرف اعلان ہی رہا ایسے لگا کہ سرجری ایسے ہوئی کہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی آپریشن کے بعد مرض ختم ہوجاتا ہے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے یہاں سرجری کے نام پر قوم اور ملک سے کھلواڑکیا گیا،117 دن میں قذافی سٹیڈیم کی تعمیر کرانے والے چیئر مین پی سی بی نے ٹیم کےلئے کچھ نہ کیا سلیکشن بورڈ کے پاس شائد کسی مکینک کا ڈپلومہ ہے جو اس طرح کی ٹیم بنا کر میدان میں اتارتے ہیں ہماری ٹیم کا مورال ہی جیت کا نہیں کیونکہ انہیں تو اشتہار بازی سے بھی کروڑوں حاصل ہو جاتے ہیں سیاست کی طرح کرکٹ میں بھی صرف چہرے ہی بدلے جاتے ہیں سسٹم نہیں؟نیوزی لینڈ کی کل آبادی 52 لاکھ ہے اور وہ ہر کھیل میں ہر جگہ جیت کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں ہمارے ہاں کچے زہن کے کھلاڑی میدان میں اتارے جاتے اور اتارے گئے ہیں جو کارکردگی نہ دکھاسکے سینئر کھلاڑیوں نے چیمپئنز ٹرافی کےلئے پاکستانی سکواڈ میں چند کھلاڑیوں کی شمولیت پر اعتراض بھی کیا تھا لیکن کسی نے کان ہی نہ دھرا، کھٹارہ ٹیم کیوں تیار کی جس نے ملکی عزت کو خاک میں ملا دیا قوم ایک اچھی ٹیم دیکھنا چاہتی ہے جو اشتہاروں میں پرفارمنس نہ دکھائے میدان میں جان لڑائے اور ملک کا نام روشن کرے اس کےلئے ضروری ہے کہ ایک تو سینئر کھلاڑیوں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے اور کرکٹ کو اضلاع میں پروان چڑھایا جائے اوراس میں جو اچھے کھلاڑی ہوں انہیں انٹرنیشنل سطح پر کھیلنے کا موقع دیا جائے سنٹرل کنٹریکٹ اسی کھلاڑی کو دیا جائے جو اپنے لئے نہیں ملک کےلئے کھیلے ؟ہر چھ ماہ بعد چہرے نہ بدلیں پرچی سسٹم کا خاتمہ کیے بغیر قومی کرکٹ ٹیم میں بہتری نہیں آ سکتی خواہش تھی پاکستان فائنل میں آئے لیکن پاکستان ٹیم فیلڈنگ، بیٹنگ اور بولنگ میں بہتر کارکردگی نہ دکھا سکی پاکستان کرکٹ بورڈ نے 31 جنوری کی شام جب 15 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کیا توکرکٹ مبصر اور سابق ٹیسٹ کرکٹروں نے ٹیم کے انتخاب پر شدید تنقید کی ٹیم میں واحد سپنر ابرار احمد کے ساتھ کسی مستند سپنر کی جگہ خوشدل شاہ کے انتخاب کے ساتھ آل راونڈر فہیم اشرف کے انتخاب کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا،آف سپنر ساجد خان کی سلیکشن پر اس لیے اتفاق نہ ہو سکا کہ ان کی پرفارمنس ٹیسٹ کرکٹ میں ہے اور چیمپئنز ٹرافی ون ڈے فارمیٹ ہے اور دو نئی گیندوں کے ساتھ سلیکشن کمیٹی اس بات پر قائل نہ ہوسکی کہ ساجد گیند کو ٹیسٹ میچ کی طرح بریک اور سپن کروا سکیں گے ساری ٹیمیں تیاری سے آئیں سوائے پاکستان کے؟ پاکستان کرکٹ بورڈ کوبد ترین کارکردگی پر بہت بہت مبارکباد ہو۔
مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی....؟
07:23 PM, 13 Mar, 2025