چوپال میں گہما گہمی تھی، آج بچے بھی چوپال میں موجود تھے ان کی عمریں دس سے پندرہ برس کے درمیان تھیں لیکن وہ خاموش بیٹھنے کی بجائے اٹکھیلیاں کررہے تھے اور ان کے ساتھ بڑے کو سمجھانے میں مصروف تھے۔چاچارفیق بھی چودہ پندرہ برس کے بچے کو ساتھ لے کر چوپال میں آئے اور با آواز بلند سلام کیا اور ایک طرف بیٹھ گئے۔لاٹھی ٹیکتے ہوئے چپ سائیں چوپال میں آئے، نتھو ،پھتو سمیت سب لوگ احتراماً کھڑے ہوئے۔ چپ سائیں نے سب کو بیٹھے کا کہا۔۔۔ توقف کے بعد چپ سائیں بولے، نتھو، پھتو آج تو چوپال میں ” چھوٹی دنیا“ بھی موجود ہے۔۔۔خیر تو ہے۔۔۔ نتھو اور پھتو کے بولنے سے قبل سب بیک آواز بولے، میرا بیٹا اول آیا، کسی نے کہادوئم، کسی نے سوئم لیکن چاچا رفیق چپ رہے۔۔۔ چپ سائیں نے سب کو خاموش کرایا اور بولے ۔۔۔ بھئی رفیق آپ کیوں خاموش ہیں۔ آپ کے ساتھ بھی تو یہ بچہ ہے۔۔۔چاچا رفیق کچھ دیر بعدبولے۔۔۔ سائیں جی۔۔۔ میرے ساتھ میرے منجھلے بیٹے کا چھوٹا بچہ ہے،یہ آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے ، ہے تو یہ بہت ذہین، باادب بھی ہے، سب اساتذہ کی اس کی بارے میں رائے انتہائی مثبت ہے۔ یہ امتحانات میں پہلی تین پوزیشنز میں سے کوئی نہ کوئی پوزیشن حاصل کرتا ہے لیکن۔۔چاچا رفیق بولتے بولتے چپ کرگئے۔۔۔۔ سب ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔پھر چاچارفیق بولے اس بار یہ امتحانات سے قبل بیمار ہوااورنویں نمبر پرآیا، بہو اور بیٹا تو بہت برہم تھے کہ اپنے تائیں ہر خواہش پوری کرتے ہیں لیکن نتیجہ یہ ہے۔ میں نے مداخلت کی اور کہا کہ جانے دو بچہ ہے اس بار بیمار بھی ہوگیا تھا۔۔۔خیر میں اس کو لے کر یہاں آگیا۔
چپ سائیں مدعا سننے کے بعد مسکرائے۔۔ توقف کے بعد بولے۔۔۔بھئی رفیق یہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ میں آج ” چھوٹی دنیا“کو ایسی باتیں بتاﺅں گا کہ انشا اللہ اپنا سفردوبارہ نئے عزم کے ساتھ شروع کریں گے اور کامیابی کی طرف گامزن ہوںگے۔
نتھو ،پھتواور سب لوگ ہمہ تن گوش ہو
گئے۔۔۔چپ سائیں گویا ہوئے۔۔۔ بچو کیا آپ لڈو اور کلاسک بورڈ گیم میں سانپ اور سیڑھی کے کھیل کے بارے میں جانتے ہیں۔۔۔ کچھ نے اثبات میں اور کچھ نے نفی میں سرہلایا۔۔۔۔چپ سائیں دوبارہ بولے۔۔۔ بچو!سانپ اور سیڑھی کا کھیل ایک کلاسک بورڈ گیم ہے ۔ اس کھیل میں کھلاڑیوں کو ایک خاص تعداد میں سیڑھیاں چڑھنی اور سانپوں سے بچنا ہوتا ہے تاکہ وہ سب سے پہلے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ ہر کھلاڑی اپنی باری کے دوران عدد کے مطابق سیڑھیاں چڑھتا یا سانپ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔جب کھلاڑی سیڑھی کے نیچے آتا ہے تو وہ سیڑھی چڑھ کر ایک یا زیادہ خانوں کی بلند سطح پر پہنچتا ہے۔ تاہم اس کھیل کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بورڈ پر کچھ خانوں پر سانپ بھی ہوتے ہیں۔ اگر کھلاڑی سانپ کے سر پر پہنچتا ہے تو وہ سانپ کے دم تک پھسلتا ہوا واپس آ جاتا ہے اور پھر دوبارہ سے شروع کرتا ہے۔
چپ سائیں بولتے ہوئے ۔۔۔بچو کھیل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر کھلاڑی سب سے پہلے 100 نمبر والے خانے تک پہنچے تاکہ کھیل جیت جائے۔ تاہم، اگر کسی کھلاڑی نے کھیل کے دوران سانپ کا سامنا کیا ہو تو وہ نیچے گر کر دوبارہ سے سفر شروع کرتا ہے ۔یہ ایک سادہ مگر تفریح سے بھرپور کھیل ہے مگر اس میں قسمت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس کھیل میں ایک اور سبق بھی ہے۔ چپ سائیں بولتے بولتے خاموش ہوئے۔۔۔ نتھو اور پھتو نے پانی کا گلاس دیا۔۔۔۔ چپ سائیں نے بوند بوند پانی پیا اور گلاس واپس کرتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔ پےارے بچو، سکول کے امتحان کی طرح زندگی کا ہر امتحان تقریبا ایک جیسے ہی ہیں۔۔۔یا تو کوئی جیت جاتا ہے یا پھر سیکھ جاتا ہے۔
جیتنے سے مراد کامیابی اور سیکھنے سے مراد غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کامیابی کے لیے ناکامی کا سامنا کرنا اور رکاوٹوں کو عبور کرنا ایک نہایت اہم اور حقیقت پسندانہ نظریہ ہے۔صاحبو! زندگی میں رکاوٹیں اکثر آتی ہیں، چاہے وہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا مالی مشکلات ہوں۔ ان رکاوٹوں کو عبور کرنا کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔چپ سائیں توقف کے بعد بولے جب آپ رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں، تو آپ کو اپنے منصوبوں یا طریقہ کار میں تبدیلی لانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کامیابی کے راستے پر چلتے ہوئے کبھی کبھار آپ کو دوسروں کی رہنمائی یا مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور یہ ایک اچھی بات ہے۔ کسی کی مدد سے آپ اپنی مشکلات کو بہتر طور پر حل کر سکتے ہیں۔کامیابی کبھی بھی ایک سیدھی لائن میں نہیں آتی۔ آپ کو کبھی نہ کبھی مشکل حالات کا سامنا ضرور ہوگا۔
دوستو!یاد رکھیں کہ کامیابی کا راستہ ناکامی، جدوجہد اور رکاوٹوں سے ہوتا ہوا گزرتا ہے ۔چپ سائیں نے کہا بچوکیا تم نے مکڑی کو دیکھا ہے جو بڑی لگن سے جالا بنتی ہے اور کبھی کبھار توجالا ٹوٹ جاتا ہے لیکن مکڑی ہمت نہیں ہارتی اور دوبارہ جالا بننے پر لگ جاتی ہے۔ یہ جالا اس کی محنت، لگن اور تندہی کی مثال ہے کیونکہ وہ جالا ٹوٹنے کے بعد بھی بننا نہیں چھوڑتی۔ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ کبھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں اور ناکامی کے باوجود آگے بڑھتے رہیں۔
چپ سائیں نے کہا جو کشتیاں جلاتے ہیں، وہ ساحل تک پہنچتے ہیں،لہذا سیڑھی چڑھتے جائیں ، مشکل آسان ہوگی اور کامیابی انشا اللہ ضرور ملے گی۔
چپ سائیں نے دوبارہ کہا بقول شاعر
سیڑھیوں پر قدم رکھ، ہر قدم میں طاقت پا¶
مشکلوں کی دھوپ میں، ایک دن تم سایہ پا¶
جب تک جدو جہد میں ہو، رکاوٹیں بھی آسان ہوں گی
کامیابی تمہاری ہو گی، بس یہ راہیں صاف ہوں گی
صاحبو یہ اشعار ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر ہم مسلسل محنت کرتے جائیں تو ہر مشکل اور رکاوٹ آسان ہو جاتی ہے اور آخرکار کامیابی ہمارے قدموں میں ہوتی ہے۔مشکلات پر مسکرائیں اور کامیابی کے لیے آگے بڑھتے جائیں۔
مشکل راہوں پہ مسکراہٹ کا رنگ جچتا ہے
جب تک ہم ہنستے ہیں، ہر دکھ کم ہوتا ہے
جو رکے نہیں، جو لڑے جا رہے ہیں
آخرکار وہی کامیاب ہو کر جیتتے ہیں
صاحبو!ہر مسئلہ کے باوجود اگر ہم ہمت نہ ہاریں تو کامیابی ہمارے قدموں میں ہوگی۔۔۔اللہ کریم دوسروں کے لیے کام کو آسان کرنے اور آسانیاں باٹنے کی توفیق دے۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!
سانپ سیڑھی کا کھیل اور کامیابی
07:22 PM, 13 Mar, 2025