حکومت کی رٹ کہاں ہے؟

07:21 PM, 13 Mar, 2025

شہروں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہماے ہاں انصاف کا نظام اور قانون کی حاکمیت کا تصور کہیں دور تک دکھائی نہیں دیتا جس کا جو دل کرتا ہے وہ کر گزرتا ہے کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں پولیس کو عام آدمی اور کمزور کا پشت بان ہونا چاہیے مگر ایسا نہیں ہے جو ایک المیہ ہے یہاں پولیس کے ہاتھوں نہ ایم پی اے کے بچے محفوظ ہیں نہ عام آدمی کے نہ جانے ہمارے ہاں دولت کی ہوس نے تمام اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر رکھ دیا ہے کبھی عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں پر ہاتھ اٹھانا سماجی اور اخلاقی طور پر بہت برا سمجھا جاتا تھا لیکن اب خواتین بچے بوڑھے سر عام تشدد کا شکار ہو رہے ہیں اور جب ایسے واقعات ہائی لائٹ ہوتے ہیں تو دنیا بھر میں ہمارا انتہائی منفی تاثر ابھرتا ہے ۔آج دنیا بھر میں ہمیں کوئی اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جارہا بلکہ جتنے اشاریے ہیں ہمارا نمبر انتہائی نچلے درجے پر آچکا ہے ، دنیا بھر کے ممالک سے روزانہ سیکڑوں پاکستانیوں کے ڈی پورٹ ہونے کی خبریں متواتر شائع ہورہی ہیں لیکن ہماری حکومتی سیاسی، مذہبی اشرافیہ سے لے کر محکموں اداروں اور عام افراد تک کسی کو کوئی احساس نہیں کہ ہم کس بند گلی میں دھنستے جا رہے ہیں جہاں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا اور المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کوئی ایسی تبدیلی بھی لانا نہیں چاہتے جس سے ہمیں اچھے الفاظ سے یاد کیا جاے یا ہمارا سماجی امیج بہتر ہو ۔کبھی ہمارے ہاں تحقیقاتی صحافت ہوا کرتی تھی ہر واقعے ،حادثے اور قتل کے بعد فالو اپ کئی کئی دن چلتا تھا معاشرے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ پر تجزے کالم لکھے جاتے تھے پولیس سے زیادہ تحقیق رپورٹر اور کالم نگار کیا کرتے تھے، کرائم رپورٹر شہریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی پر حقیقی خبریں فائل کرتے ان کا فالو اپ دیتے تھے یہاں تک کہ عام شہریوں کی مدد بھی کرتے تھے نیک دل اور عوامی خدمت کرنے والے افسروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی بلکہ انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتاتھا۔ لیکن اب کرائم رپورٹر کی تعداد میں تو بہت زیادہ اضافہ ہو چکی ہے مگر کارکردگی صفر ہے۔ شہر بھر میں مختلف النوع جرائم کی بھر مار ہے مگر آپ کو کسی اخبار یا چینلز پر کوئی تحقیقاتی سٹوری نظر نہیں آئے گی ،پریس ریلیز اور بیانات کو خبر قرار دے کر جگہ پر کر دی جاتی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ صحافت جس کے تقدس کی قسم کھائی جاتی تھی وہ اب نہ رہی۔ اس ملک کی صحافت مفادات اورچاپلوسی کی چادر اورڑھ کر سو گئی اور پھر سوشل میڈیائی صحافت نے اس کی جگہ لے کر انہیں دیس نکالا دے دیا اور آنے والے وقت میں اس کی مذید بری حالت ہونے والی ہے۔
پولیس واحد ایک ایسا ادارہ ہے اگر اس کی سمت درست ہو اس ادارئے میں کام کرنے والے افراد عوام کی خدمت کرنے کا حقیقی جذبہ رکھتے ہوںمظلوموں کے پاسبان ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس ملک سے جرائم میں کمی واقع ہونے کے ساتھ امن و سکون کی فراوانی کے ساتھ ترقی بھی ہو سکتی ہے تھانہ انصاف فراہم کرنے کی بنیاد ہے۔ کمزور غریب نادار اور مظلوم اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کے لئے تھانے کا ہی رخ کرتا ہے لیکن اپنے ہاتھ پر دل رکھ کر بتائیے کہ اس کی داد رسی ہوتی ہے؟۔
گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں سے ہر دور حکومت میں پولیس اصلاحات اور تھانہ کلچر میں تبدیلی کا شور و غوغا رہا ہے لیکن پولیس میں مختلف شعبوں کے مزید قیام، تھانے کو دارالامن پکارنے، یونیفارم کا رنگ بدلنے اور دیواروں پر، پولیس کا ہے فرض مدد آپکی، جیسے خوشنما نعرے لکھنے جیسے ظاہری اقدام سے آگے قدم بڑھانے کی کوئی کوشش کی ہی نہیں گئی ،ہاں ملک کے حاکم تھانوں میں چھاپے مارنا آسان کام اس لئے سمجھتے ہیں کہ اس سے شہرت ملتی ہے ۔لیکن نظام کو درست کرنا ان کی ترجیح نہیں۔موٹروے پولیس عمدہ کارکردگی کے حوالے سے ایک مثبت مثال کے طور پر جانی جاتی تھی جس کی جدید سائنسی اور نفسیاتی خطوط پر تربیت، انسانی حقوق سے آگاہی اور احترام آدمیت سے شناسائی نے اسے دنیا بھر میں معتبر بنا دیا تھا لیکن اب وہاں سے کوئی اچھی خبریں نہیں آرہیں۔ موجودہ پولیس کا ادارہ جاتی ڈھانچہ مرمت نہیں ازسرنو تعمیر کا متقاضی ہے جس میں بہت سی پرانی اینٹیں ناقابل استعمال قرار دینا پڑیں گی۔ ورنہ ناکوں، چوکیوں اور تھانوں میں بداخلاقی اور بدسلوکی تو رہی ایک طرف جب پولیس اہلکاروں کی جرائم میں بنفس نفیس ملوث ہونے کی متعدد مثالیں ملیں تو کون غریب انہیں قانون کا رکھوالا ماننے پر راضی ہوگا۔کہا جاتا ہے انگریز حکمرانوں نے برصغیرمیں سرکاری عمارتوں کی تعمیر کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا کہ مرکزی داخلی دروازے میں ایک چھوٹا کھڑکی نما دروازہ رکھا جائے اور افسران کے کمروں کے دروازے کی چوکھٹ کی اونچائی بھی کم رکھی جائے تاکہ سائل سر جھکا کر اندر آئے۔ وہ حکمران کب کے رخصت ہوئے مگر ڈیوڑھیوں کے در بھی وہی ہیں اور اندر موجود صاحبان اختیار کے سر بھی۔ تھانے جا نے والے ہر فریادی کو تھانے میں داخل ہوتے وقت سر جھکا کر گزرنا پڑتا ہے۔ مزید برآں اپنے جائز حق کے حصول کے لیے درخواست میں بخدمت جناب، حضور، جناب عالی، بندہ پرور، مودبانہ گزارش، فدوی، عرض گزار، آپ کا خادم جیسے قدیم غلامانہ دورکے یادگار الفاظ انسان کی تحقیرکے لیے کافی ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ذہنیت بدلنا ہوگی کہ عمال اور حکمران تو قوم کے خادم اور معمار ہوتے ہیں نہ کہ بزعم خود بادشاہ سلامت بن کر عوام کو مجبور و زیردست بنانے والے۔
 پولیس کے موجودہ فرسودہ نظام کی اصلاح نہ کی گئی تو تھانوں کے ایسے بے تاج بادشاہ قانون کی من پسند تشریح اور نفاذ کرتے رہیں گے۔ ریاستی سطح پر قانون کی مساوی اور حقیقی بالا دستی کا خواب کبھی پورا نہ ہو سکے گا۔دنیا بھر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے اندر تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں۔پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔یہاں محافظوں کو دیکھ کر تحفظ کے بجائے الٹا لٹنے کا خوف زیادہ بڑھ جاتا بلکہ تحقیقات کے نام پر رازوں کو بیچا اور بلیک میل کئے جانے کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں ۔اب بندہ اعتماد کرے تو کس پر کرے حالانکہ پولیس ،تحقیقاتی ایجنسیوں کے افراد ڈاکٹرز اور وکیل جو رازوں کے امین ہوتے ہیں کی تو دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ 
اب بھی عزت نفس، سماجی مقام و مرتبہ گروی رکھ کر اسے سپاہی سے لیکر تھانے دار تک ہر ایک کی بار بار منت سماجت کرنا پڑتی ہے لیکن تگڑی رشوت، کسی مقامی معزز، کونسلر، سیاسی یا سرکاری عہدیدار کی سفارش کے بغیر اس کی شنوائی نہیں ہوتی۔ پولیس کے اعلیٰ افسران کو چاہیے کہ وہ پولیس کا وقار بڑھانے اور اسے عوام دوست بنانے کے لئے اپنی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور اپنے محکموں سے ایسی کالی بھیڑوں کو باہر نکالیں جو ایک ڈسپلن فورس کے امیج کو خراب کرتے ہیں ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ نیک نامی ، عزت اور وقار انسانیت کی خدمت سے ہی ملتی ہے ۔

مزیدخبریں