تعلیم کسی بھی معاشرے کا سب سے بنیادی اور اہم ترین جز ہے۔ تعلیم کے بغیر کسی بھی ملک،معاشرے اورقوم کی کوئی پہچان نہیں ہوتی۔جو قومیں آج دنیا میں آگے نکلی ہیں وہ صرف اور صرف تعلیم کی وجہ سے ہی آگے نکلی ہیں۔ اب تعلیم کا اگلا لیول ٹیکنالوجی ہے جس ملک نے ٹیکنالوجی کی حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کیا اس ملک نے باقی ممالک سے اتنی جلدی ہی ترقی کی۔تعلیم اتنی اہم ہے اس کے بارے میں ہمارے نبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تعلیم حاصل کرو چاہے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ اچھی اور معیاری تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کے لیے لازمی ہے چاہے وہ امیر کا بچہ ہو یا غریب کا بچہ ہو۔آئین میں واضح طور پر لکھا ہے پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ ماضی کی حکومتیں تعلیم کے شعبے میں کیا اقدامات کرتی رہی ہیں میں اس کی طرف نہیں جانا چاہتا موجودہ پنجاب حکومت جس کی قیادت مریم نواز کر رہی ہیں وہ تعلیم کے شعبے کو جتنا سنجیدگی سے لے رہی ہیں یہ ان کی تعلیم کے شعبے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بخوبی نظر آرہا ہے۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ طلبہ کو سکالرشپ مریم نواز کی حکومت نے دی ہے وسیع پیمانے پر طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے ہیں طلبہ کو الیکٹرک بائیکس بھی مریم نواز کی حکومت نے دی ہے۔پہلی مرتبہ پنجاب کے سرکاری سکولوں کی اپگریڈیشن کی گئی ہے اب سرکاری سکول بھی پرائیویٹ سکولوں کے سٹینڈرڈ کے مطابق چل رہے ہیں۔ یہاں تمام وہ سہولیات دستیاب ہیں جو کسی پرائیویٹ سکول میں میسر ہوتی ہیں۔ مریم نواز نے پنجاب میں سکولوں کی ”نوازشریف سکول آف ایمنینس“ کے نام سے ایک نئی چین متعارف کروائی ہے۔ جس کے تحت پنجاب بھر میں 300 سکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے فیز میں 128 سکول مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دوسرے فیز میں 178 سکول قائم کیے جائیں گے۔تمام 300 اسکولز میں مجموعی طور پر 3 لاکھ سے 3 لاکھ 25 ہزار طلبہ کے لیے گنجائش ہوگی۔پہلے مرحلے کے 128 اسکولز میں داخلوں کے لیے 1 لاکھ 5 ہزار 324 طلبہ رجسٹریشن کرا چکے ہیں۔لاہور میں اس وقت 9 نواز شریف اسکول آف ایمیننس قائم کیے گئے ہیں۔یہ سکول پنجاب کے مختلف اضلاع میں بنائے جا رہے ہیں۔ان سکولز کی چین لاہور، فیصل اباد، گجرانوالہ جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ بہاولپور،رحیم یار خان،ڈی جی خان،مظفرگڑھ،تونسہ، راجن پور، جھنگ، چنیوٹ، ناروال، منڈی بہاو¿الدین،اٹک،وہاڑی، وزیرآباد، سیالکوٹ، گجرات جیسے ڈسٹرکٹ میں بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان سکولوں میں تمام وہ سہولیات میسر ہوں گی جو کسی بھی مہنگے ترین پرائیویٹ سکول میں موجود ہیں۔ گزشتہ روز میں نے لاہور کے علاقہ ہربنس پورہ میں قائم ہونے والے نواز شریف سکول آف ایمینس کا خود وزٹ کیا۔ سکول میں موجود پرنسپل ڈاکٹر ماریہ امین سے میری ملاقات ہوئی،ڈاکٹر ماریہ انتہائی خوش اخلاق شخصیت ہیں۔ انہوں نے مجھے کلاس رومز کا بھی وزٹ کروایا۔سکول میں بچوں کے لیے سمارٹ کلاس رومز،مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اے آئی،سٹیم لیب،ڈیجیٹل لائبریری، الیکٹرک بورڈ،کارپٹ کلاس رومز،بائیو لیب، کمپیوٹر لیب سمیت تمام وہ جدید سہولیات موجود ہیں جو کسی بھی مہنگے اور پرائیویٹ سکول میں دستیاب ہوتی ہیں۔ سکول میں موجود سہولیات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مریم نواز غریب اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں۔ ان سکولوں میں تعلیم کا معیار بھی بہترین ہوگا۔ مریم نواز کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ جو بھی منصوبہ متعارف کرواتی ہیں اس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔وہ کسی بھی چیز کو عوام تک پہنچنے سے پہلے اس کے معیار کو خود چیک کرتی ہیں جتنی دیر کوئی چیز 100 فیصد درست نہ ہو اس وقت تک مریم نواز اس کی منظوری نہیں دیتیں، میں ذاتی طور پر نواز شریف سکول آف ایمینیس کا وزٹ کرنے کے بعد مریم نواز کے اس پروجیکٹ کا گرویدہ ہو گیا ہوں کیونکہ لاہور کے ایک پسماندہ علاقے میں ایسے اے کیٹگری کے سکول کا قیام یقینا اہل علاقہ کے لیے بہت بڑی نعمت ہے اب اعلیٰ اور معیاری تعلیم عام آدمی کے بچے بھی حاصل کر سکیں گے۔ مریم نواز ایک ماں ہے اس لیے وہ شاید عام طبقے سے تعلق رکھنے والی ماو¿ں کی خواہشات کو بھی بخوبی سمجھتی ہیں اور ان کے خوابوں کو پورا کرنے کی بھی ہر ممکنہ کوشش کرتی ہیں۔مریم نواز اپنی بیشتر تقریروں میں یہ جملہ استعمال کر چکی ہیں کہ پنجاب کے تمام وسائل اور پیسہ پنجاب کے عوام کی امانت ہے یہ پیسہ اور وسائل ان پر خرچ کر کے میں دلی سکون محسوس کرتی ہوں۔ پنجاب میں مریم نواز سے پہلے بھی یہی وسائل اور بجٹ تھا لیکن عام آدمی تک نہ وسائل پہنچتے تھے اور نہ ہی اس کے ثمرات پہنچتے تھے۔ اب حکومت خود ہر شہری کی دہلیز پر پہنچ رہی ہے یہی مریم نواز کی حکومت اور ماضی کی حکومت میں سب سے بڑا فرق ہے۔
نوازشریف سکول آف ایمینیس
09:09 AM, 13 Jun, 2026