اکنامک سروے 2025-26 اور ہماری معیشت

09:08 AM, 13 Jun, 2026

حکومت پاکستان نے گزرے مالی سال یکم جولائی 2025 تا 30 مئی 2026 یعنی گیارہ مہینے کی معاشی کارکردگی کے بارے میں اعددوشمار اکنامک سروے آف پاکستان کی صورت میں جاری کر دیئے ہیں۔ ہماری قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کیسی رہی، معیشت کے مختلف شعبوں نے کس طرح پرفارم کیا۔ حکومت نے گزشتہ سال انہی دنوں میں یعنی جون کے مہینے میں ایک بجٹ پیش کیا تھا یعنی آئندہ بارہ مہینوں یکم جولائی 2025 تا 30 جون 2026 کے دوران معیشت کے مختلف شعبے کیا کارکردگی دکھائیں گے۔ حکومت نے آنے والے بارہ مہینوں کے تخمینہ جات طے کئے تھے یعنی ٹیکس کتنا اکٹھا کیا جائے گا، درآمدات کتنی ہوں گی، برآمدات کا حکم کیا ہو گا، صنعتی شعبہ کس طرح کی کارکردگی دکھائے گا، زرعی شعبہ کی کارکردگی کس قسم کی ہو گی، خدمات کے شعبے کی صورت حال کیا ہو گی وغیرہ وغیرہ۔ حکومت نے بجٹ میں بتایا کہ یہ شعبے کس طرح کام کریں گے ان کی کارکردگی ایسی ہو گی، معیشت ویسی ہو گی۔ اب اکنامک سروے ان گزرے بارہ نہیں گیارہ مہینوں کی کارکردگی بارے حقیقت بیان کر رہا ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان 2025-26 اسی کارکردگی کا جائزہ ہے۔ آیئے دیکھتے ہیں یہ کیا کہتا ہے۔
زیربحث مالی سال کے دوران حقیقی معاشی نمو کی شرح 3.7 فیصد رہی جو گزشتہ سال کی شرح نمو 3.18 فیصد سے زیادہ ہے لیکن 4.2 فیصد کی طے کردہ شرح نمو سے کم ہے گویا معیشت نے تھوڑی بہت بہتری دکھائی لیکن طے شدہ ہدف تک نہیں پہنچ سکی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیرف کی شرح میں غیریقینی کی صورت حال نے معاشی نمو کو متاثر کیا 2025 کے اگست ستمبر کے مہینوں میں سیلاب آیا، تباہی مچی رہی اس نے ہماری معاشی کارکردگی کو متاثر کیا۔ مارچ 2026 میں ایران امریکہ و اسرائیل جنگی صورتحال نے معاملات میں خاصی ابتری پیدا کی۔ ویسے گزرے تین سال کے دوران حکومت نے معاشی نمو کا طے کردہ ہدف کبھی بھی حاصل نہیں کیا ہے۔ 2022-23 میں تو صورتحال یہ تھی کہ طے کردہ 5 فیصد شرح کے مقابلے میں حقیقی نمو 0.2 فیصد رہی اگلے سال یعنی شہباز شریف حکومت کے پہلے سال کے دوران طے کردہ شرح 3.5 فیصد کے مقابلے میں 2.6 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ اگلے سال یعنی 2024-25 کے دوران 3.6 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.2 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ بجٹ 2025-26 میں طے کردہ ہدف 4.2 کے مقابلے میں 3.7 فیصد نتیجہ حاصل کیا گیا۔ بادی النظر میں گزرے تین سال میں ہدف حاصل نہ کئے جانے کے باوجود شرح نمو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی نمو بڑھ رہی ہے لیکن سست روی کے ساتھ۔ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کام کر رہا ہے اس کی ہدایات کے مطابق اہداف حاصل بھی کر رہا ہے۔ معیشت کو بڑے پیمانے پر بہتر انداز میں منظم کیا جا رہا ہے۔ بڑی صنعتوں کے شعبے میں سبک خرامی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مالیاتی اکاﺅنٹ میں ابتری بھی حکومتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ 2025 کے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود ہمارا زرعی شعبہ کھڑا ہے تباہ نہیں ہوا تو یہ بہتر حکومتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ویسے عالمی معاشی گروتھ 37 فیصد سے گھٹ کر 3.1 فیصد کی شرح پر آن پہنچی ہے۔ ایسے میں ہماری قومی معیشت کا 37 فیصد شرح نمو ظاہر کرنا فی الحقیقت ایک حوصلہ افزا اشاریہ ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس سال معاشی نمو 4 فیصد سے ضرور بڑھ جائے گی لیکن ایران، امریکہ و اسرائیل جنگ کے منفی اثرات کے باعث ایسا نہیں ہو سکا ہے۔ فی کس آمدنی میں بھی گزرے تین سال کے دوران مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2022-23 میں یہ رقم 1547 ڈالر فی کس تھی جو 2023-24 میں 1607 ڈالر ہو گئی، 2024-25 میں یہ رقم بڑھ کر 1751 ڈالر ہو گی جبکہ 2025-26 میں 1901 ڈالر فی کس بیان کی جا رہی ہے۔ تین سال سے فی کس آمدنی میں ہونے والا اضافہ حکومت کی معاشی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبے کی گروتھ گزشتہ سال کے 1.5 فیصد کے مقابلے میں اس سال 2.9 فیصد رہی ہے گویا دگنی ترقی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن یہی شرح 2023-24 میں 6.4 فیصد تھی اس حوالے سے دو سال سے یہ شعبہ زوال پذیر نظر آتا ہے۔ صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.3 فیصد تھا جبکہ حقیقی نمو 3.51 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال یہ شرح 5.56 فیصد تھی گویا صنعتی شعبے میں ترقی نہیں ہو سکی ویسے 2023-24 میں صنعتی شعبے کی کارکردگی 0.97 فیصد تھی۔ یہی شرح 2022-23 میں نمو کی شرح 3.88 فیصد تھی۔ گویا دو سال سے نمو کی شرح بہتری کی طرف جاتی نظر آ رہی ہے۔ مالیاتی خسارہ 2021-22 میں 7.9 فیصد کی بلند شرح پر تھا جو 2022-23 میں گھٹ کر 7.8 فیصد، 2023-24 میں 6.8 فیصد اور 2024-25 میں 5.4 فیصد رہ گیا تھا۔ اس سال یہ 0.7 فیصد کی شرح تک گھٹ چکا ہے، معیشت سست اور سبک رفتاری کے ساتھ نمو پا رہی ہے۔
دوسری طرف جزوی معیشت ہے عوامی معیشت ہے اس کا حال ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت نے کاروبار کو بڑھوتی دینے اور براہ راست سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے SIFC قائم کی تھی یہ ایک بہت اچھا فیصلہ تھا کہ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل مشکلات کو ختم کر کے معاملات تیزی سے آگے بڑھائے جائیں۔ فوج نے بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالنے کا کہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کونسل کے اجلاس کی صدارت وزیراعظم اور فیلڈ مارشل مل کر کرتے نظر آتے رہے ہیں اس پلیٹ فارم سے فیصلہ سازی کے فوری نتائج نکلنے کی امید قائم ہو چکی تھی لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔ حکومت نے اپنی کامیابی کے جن 25 نکات کو نشر کیا ہے ان میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے گویا یہ قدم آگے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکا ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں کامیاب نظر نہیں آئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، بجلی و گیس کے شعبے میں پائی جانے والی متضاد باتیں اور ایسے ہی دیگر معاملات کے باعث مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ حکومت اس حوالے سے کچھ کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا اضافی بوجھ عوام پر منتقل کر کے وصولیوں کے اہداف پورے کرنے میں مصروف نظر آتی رہی ہے۔ سردست معاملات، عوام سے متعلق معاملات میں بہتری نظر نہیں آ رہی ہے ویسے حکومت کے پاس عوامی بہتری کی سردست گنجائش بھی نہیں ہے۔

مزیدخبریں