ریاستیں بلیک میل نہیں ہوتیں بلکہ اپنی رٹ یقینی بناتی ہیں اللہ کا شکر ہے کہ پاکستانی اِداروں نے فرائض کی بجاآوری میں کوتاہی نہیں کی لیکن ریاست آزاد جموں و کشمیرکی حساسیت کے پیشِ نظر عوامی ایکشن کمیٹی سے نرم ورحمدلانہ سلوک روارکھا گیا جس نے آزادکشمیرمیں فتناوفسادبرپا کررکھا ہے جس کی بروقت روک تھام نہ کرناسمجھ سے بالاترہے ریاستی فتنے نے ثابت کردیاہے کہ ریاستی رٹ ناگزیر ہے کیونکہ فتنہ نہ صرف بلیک میلنگ کرنے لگا ہے بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ کمزور کرنے اور بھارتی موقف مضبوط بنانے کی دانستہ کوششیں ہونے لگی ہیں جس میں ملوث عناصر کی سرکوبی ضروری ہے ریاستی اِداروں کو چاہیے کہ فرائض کی ادائیگی میں کسی سے خاص اور چہیتے کاتاثر ختم کریں۔
پاکستان دفاع پر اربوں روپیہ صرف کرتاہے تو اِس کی بڑی اور اہم وجہ ریاست جموں و کشمیر ہے جس کے بڑے حصے پر بھارت قابض ہے اِس قبضے کو واگزار کرانے کے لیے دونوں ملک جنگیں لڑچکے پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ تقسیم ہند کے طے شدہ طریقہ کارکے مطابق جموں و کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کاحق دیاجائے مگر بھارت جموں وکشمیر کے لوگوں کو اپنا غلام بناکررکھنا چاہتا ہے اِس مسئلہ کے حوالہ سے اقوامِ متحدہ نے قراردادیں بھی منظور کررکھی ہے جنوبی ایشیا میں جوہری دوڑ بھی اسی مسئلہ کی وجہ سے ہے دہائیوں سے پاکستان کی ایک لاکھ سے زیادہ فوج آزاد کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر حفاظت کررہی ہے یہ سب کچھ پاکستان احسان نہیں فرض سمجھتاہے لیکن آزادکشمیر کے فتنے نے پاکستان کو بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے دراصل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ مطالبات کی آڑ میں غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کسی کو لاڈلہ نہ سمجھے بلکہ جموں و کشمیر کو آزاد کرانے ،انھیں حق ِ خوداِرادیت دلانے اور تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا پوراکرنے میں یکسو ہواورجو بھی اِس عمل میں رکاوٹ بنے اُسے کچل دیا جائے۔
آزاد کشمیر کانیا فتنہ جموں وکشمیر اور پاکستان کے مفاد میں نہیں یہ فتنہ چاہتا ہے کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کی جائیں حالانکہ آزادکشمیر سپریم کورٹ اِس کے متعلق رائے دے چکی کہ یہ آئینی مسئلہ ہے اور اِسے اسمبلی کی آئینی ترمیم سے ہی ختم کیاجاسکتاہے مگر جموں وکشمیر کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی چاہتی ہے کہ اسمبلی سے بالاتریہ کام ہو یادرہے کہ بھارت نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے جموں و کشمیر اسمبلی میں چوبیس نشستیں مختص کررہی ہیں تاکہ اِس خطے پر اپناحق جتاسکے اسی آڑ میں وہ آزاد کشمیر پر قبضے کا خواہاں ہے آزاد کشمیر کی تمام جماعتیں اِس حوالے سے اپنا موقف دے چکیں لیکن جو لوگ اسمبلی میں موجود نہیں اور نہ ہی سیاسی عمل کا حصہ ہیں وہ چند ہزار لوگوں کو ساتھ ملا کر جلاﺅ گھیراﺅ اور ماردھاڑ سے مہاجرین کی نشستیں ختم کرانا چاہتے ہیں یہ بلیک میلنگ اور بغاوت ہے جسے کچلنا ہی حل ہے تاکہ شفاف اورپُرامن سیاسی عمل جاری رہے اور کوئی بھی آزاد کشمیر کے لوگوں کے ذہن پراگندہ نہ کر سکے اگر ایسا نہیں ہوتاتو چند ہزارلوگ ساتھ لیکر کوئی بھی بہروپیا یا اداکار اپنی اداﺅں یا اداکاری سے مستقبل میں بھی ریاست کے لیے مسائل کاموجب بن سکتا ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جو سب سے بڑا ظلم کیا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کے اذہان میں کشمیریوں کے لیے موجود ہمدردی کو کم کردیاہے مزیدیہ کہ اب شاید ہی اقوامِ متحدہ کی منظورکی جانے والی قراردادوں کے مطابق مسلہ کشمیر حل ہوبلکہ عین ممکن ہے موجودہ لائن آف کنٹرول ہی مستقل سرحد بن جائے اگر ایساہوتا ہے تو اِس کی ذمہ داری مذکورہ نام نہاد عوامی کمیٹی پر ہوگی کچھ حلقے تو وثوق سے کہنے لگے ہیں کہ موجودہ شورش کی سرپرستی اور مالی مدد میں کئی طاقتیں شامل ہیں جو آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک آزاد ملک بنانا چاہتی ہیں تاکہ چین پر نہ صرف نظر رکھی جاسکے بلکہ اُس کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے بھی واشنگٹن کے شہ دماغ کام کرسکیں۔
پاکستان نے کشمیریوں کو حقِ خود اِرادیت دلانے کے لیے بھارت سے چارجنگیں لڑیں نصف حصہ تک کھو دیا مگر مسلمان کشمیری بھائیوں کی حمایت سے دستکش نہ ہواحالانکہ بھارتی مقتدرہ نے ہمیشہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علاقائیت اور لسانیت کو کشمیری مذہب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے فتنے نے اپنے کردار وعمل سے ثابت کردیا ہے کہ بھارتی مقتدرہ کاخیال درست ہے اور پاکستان نے طویل عرصہ بے فیض اور احسان فراموش لوگوں کے لیے قربانیاں دی ہیں سرحدپر موجود پاکستانی فوج جس نے دشمن کو روک رکھا ہے عوامی ایکشن کمیٹی کا فتنہ اُسے غیر ملکی فوج کہتا ہے اپنے محافظوں کی ایسی بے توقیری کا کشمیریوں نے جانے کہاں سے درس لیا ہے؟
کشمیری بھائیوں کو مطمئن کرنے کی خاطر مذاکرات میں اکثر مطالبات منظو رکر لیے گئے مگر عوامی ایکشن کمیٹی کافتنہ شرائط مزید بڑھاتاگیااب عوامی نمائندوں کے اِس حلف میں بھی ترمیم کامطالبہ کردیاہے جس میں پاکستان سے وفاداری اور کشمیرکو پاکستان کا حصہ بنانے کاصدقِ دل سے عہد کیا جاتا ہے یہ مطالبہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں کیونکہ آج کے یہ سیاسی بونے تو اُس وقت کہیں موجود ہی نہیں تھے جب پاکستان اور پاکستانی عوام نے بزور کشمیر کا تہائی حصہ آزاد کرایایہ کشمیری مہاجرین اور پاکستان کی مشترکہ کاوش تھی جو آزادکشمیر کی صورت میں موجود ہے بھارت نے تو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت ختم اور اُسے ضم کر لیا ہے لیکن پاکستان نے جتنی آزادی ،خود مختاری اور حاکمیت آزادکشمیرکو دے رکھی ہے اِس کی بہت کم نظیر دنیامیں ملتی ہے لیکن زہر آلودبیانیے سے فتنے نے کشمیریوں اور پاکستان کو مدِ مقابل لاکھڑا کیاہے جس کا حل یہی ہے کہ ریاست اپنی رَٹ یقینی بنائے اور کسی سے بلیک میل نہ ہو۔
آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کی بات کرتے ہوئے مفت بجلی دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے ارے بھئی اِس میں کون ساابہام ہے کہ زمین کی قیمت ایک بار وصول کی جاتی ہے بار بارنہیں؟ منگلا ڈیم کی لاگت پاکستان نے دی اور اِس کے عوض نہ صرف متاثرین کو پاکستان میں آباد کیا بلکہ میرپوراور قرب و جوارکے لوگوں کو برطانیہ میں آباد ہونے کے مواقع دیے تو کیا زمین کی قیمت باربار وصول کرنی ہے؟ گندم کاگھر پنجاب ہے لیکن سستاآٹا صرف لاڈلے کشمیریوںکو ملتا ہے پھر بھی فتنے کی بلیک میلنگ سے ظاہرہوتا ہے کہ انھیں کشمیریوں سے کوئی غرض نہیں جب آزادکشمیر کے بجٹ کانصف سے زائد حصہ پاکستان دیتا ہے اور تمام ترقیاتی کام پاکستانی سرمائے سے ہوئے تو پاکستان کو حق حاصل ہے کہ لوگوں کے ذہن پراگندہ کرنے کی کسی فتنے کو اجازت نہ دے۔
ایکشن کمیٹی ایک فتنہ
09:08 AM, 13 Jun, 2026