انا ، زندگی ، حکمران اور ادارے

09:08 AM, 13 Jun, 2026


پاکستان کے عام شہری کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ صرف غربت، مہنگائی یا بے روزگاری نہیں بلکہ وہ مسلسل کشمکش ہے جس میں اسے اپنی عزتِ نفس اور اپنی بقا کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کی مہذب ریاستیں اپنے شہریوں کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ اگر وہ قانون کا احترام کریں، محنت کریں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو انہیں باوقار زندگی میسر آئے گی۔ لیکن پاکستان میں ایک عام آدمی، سفید پوش خاندان، متوسط طبقے کا فرد اور تعلیم یافتہ نوجوان اکثر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لیے اسے اپنی انا، خودداری اور عزتِ نفس کے کسی نہ کسی حصے کو قربان کرنا ہوگا۔یہ ایک ایسا معاشرتی المیہ ہے جو محض معاشی نہیں بلکہ اخلاقی، سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کی علامت بھی ہے۔ جب ایک باپ بیٹی کی شادی کے لیے قرض، سفارش اور احسان کا محتاج ہو جائے، جب ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دفاتر کے چکر لگاتا پھرے، جب ایک بیمار شہری علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو اور جب ایک سرکاری ملازم برسوں خدمات انجام دینے کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو تو سوال صرف انفرادی مشکلات کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ریاست کا بنیادی فرض شہری کے جان، مال، عزت اور مستقبل کا تحفظ ہے۔ آئین، قانون اور ادارے اسی مقصد کے لیے وجود میں آتے ہیں۔ لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہے، جب انصاف تاخیر کا شکار ہو جائے اور جب میرٹ کے بجائے سفارش کو اہمیت ملنے لگے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پاکستان کی تاریخ ایسے متعدد واقعات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے عوام کے ذہنوں میں انصاف اور احتساب کے حوالے سے سوالات پیدا کیے۔ سانحات صرف جانوں کے ضیاع کا نام نہیں ہوتے بلکہ ان کے بعد ہونے والا ریاستی اور ادارہ جاتی ردعمل بھی تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ جب متاثرین کو انصاف نہ ملے، جب مقدمات برسوں تک زیر التوا رہیں، جب طاقتور عناصر احتساب سے بچ نکلیں اور جب کمزور طبقہ محض وعدوں اور تسلیوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہو جائے تو قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔2003 میں سمبڑیال ڈرائی پورٹ پر ہونے والا المناک دھماکہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ تھا۔ اطلاعات کے مطابق بسنت کے موقع پر آتش بازی کے لیے رکھے گئے مواد میں دھماکے کے 
نتیجے میں متعدد افراد جان کی بازی ہار گئے اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔ وقت گزر گیا، حکومتیں بدل گئیں، ادارے بدل گئے، مگر متاثرہ خاندانوں کے دلوں میں موجود سوالات آج بھی زندہ ہیں۔ ان کے نزدیک اصل دکھ صرف اپنے پیاروں کا کھو جانا نہیں بلکہ انصاف کے حصول میں درپیش رکاوٹیں اور طویل انتظار بھی ہے۔ ایسے واقعات عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہمارے معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے انصاف کے پیمانے واقعی یکساں ہیں؟یہ احساس صرف سانحات کے متاثرین تک محدود نہیں بلکہ روزگار کے شعبے میں بھی اسی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گوجرانوالہ میڈیکل کالج اور اس کے الائیڈ ہسپتالوں میں گزشتہ تقریبا ایک دہائی سے خدمات انجام دینے والے چودہ ملازمین اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ان میں کوالٹی مینجمنٹ یونٹ جیسے حساس اور تکنیکی شعبے کے افسران بھی شامل ہیں جو برسوں سے ادارے کی بہتری اور مریضوں کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ ان ملازمین کے خلاف نہ کرپشن کا کوئی الزام ہے، نہ کسی قسم کی تادیبی کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے سروس ریکارڈ پر کوئی منفی ریمارکس موجود ہیں۔ اس کے باوجود نئے بورڈ آف مینجمنٹ کی ایچ آر کمیٹی نے ان کی ملازمتوں کے خاتمے کا فیصلہ کر لیا جبکہ گزشتہ کئی ماہ سے ان کی تنخواہیں بھی بند ہیں۔ اس فیصلے کے اثرات صرف ان چودہ افراد تک محدود نہیں بلکہ ان کے خاندانوں، بچوں کی تعلیم، گھریلو اخراجات اور مستقبل کی امیدوں تک پھیل چکے ہیں۔یہ مسئلہ دراصل پاکستان کے ہزاروں ملازمین اور نوجوانوں کی اجتماعی کہانی ہے۔ ایسے بے شمار افراد موجود ہیں جنہوں نے اشتہارات، امتحانات اور میرٹ کے تمام مراحل طے کرکے ملازمتیں حاصل کیں، برسوں خدمات انجام دیں، لیکن آج بھی عدالتوں اور دفاتر کے درمیان معلق ہیں۔ ان کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، ان کی امیدیں فیصلوں سے وابستہ ہیں اور ان کی زندگیاں انتظار کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف کی فراہمی میں تاخیر ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ دنیا بھر کے قانونی ماہرین اس اصول پر متفق ہیں کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف اکثر انصاف نہیں رہتا۔ کیونکہ ہر زیر التوا مقدمے کے پیچھے ایک خاندان، ایک مستقبل اور کئی خواب وابستہ ہوتے ہیں۔ جب فیصلے برسوں تک نہ آئیں تو متاثرہ افراد معاشی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔عدل کسی بھی ریاست کی اخلاقی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر قانون پر عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو ریاستی ڈھانچہ بظاہر قائم رہنے کے باوجود اندر سے کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ مضبوط ادارے بھی تعمیر کیے۔ وہاں قانون افراد کا محتاج نہیں بلکہ افراد قانون کے تابع ہوتے ہیں۔ وہاں ادارے شخصیات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں اور انصاف کو سیاسی یا انتظامی مصلحتوں کا شکار نہیں ہونے دیا جاتا۔پاکستان میں بھی اصل ضرورت اسی ادارہ جاتی اصلاح کی ہے۔ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں نوجوان کو سفارش کے بجائے میرٹ پر یقین ہو، جہاں ملازم کو غیر یقینی کے بجائے تحفظ حاصل ہو، جہاں مزدور کو خیرات نہیں بلکہ اس کا حق ملے، جہاں متاثرہ خاندان کو تسلیوں کے بجائے انصاف ملے اور جہاں ریاستی ادارے شہری کی عزتِ نفس کو اپنی اولین ترجیح سمجھیں۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف جی ڈی پی، میگا پراجیکٹس یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا عام شہری خود کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرتا ہے؟ کیا اسے یقین ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ ہوگا؟ کیا اسے امید ہے کہ اس کی محنت کا صلہ ملے گا؟ اور کیا اسے اعتماد ہے کہ اگر اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہو تو ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے کہ یہاں لاکھوں لوگ اپنی انا اور اپنی زندگی کے درمیان معلق ہیں۔ وہ زندہ تو ہیں لیکن باوقار زندگی کی جدوجہد میں مسلسل زخمی ہو رہے ہیں۔ ایک حقیقی فلاحی ریاست کا مقصد یہی ہونا چاہیے کہ کسی شہری کو اپنی عزتِ نفس اور اپنے وجود کے درمیان انتخاب نہ کرنا پڑے۔حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ادارے اور ان کے فیصلے نسلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر حکمران اور ریاستی ادارے عوام کی عزتِ نفس، انصاف اور حقوق کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنا لیں تو نہ صرف افراد بلکہ پورا معاشرہ مضبوط ہوگا۔ لیکن اگر عوام کی امیدیں، حقوق اور اعتماد مجروح ہوتے رہے تو نقصان صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پوری ریاست کا ہوگا۔کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جب قوموں کی انا زخمی ہو جائے تو ریاستیں کمزور ہو جاتی ہیں، اور جب حکمران عوام کی عزتِ نفس کی حفاظت کریں تو قومیں صرف زندہ نہیں رہتیں بلکہ ترقی بھی کر رہی ہیں۔
وہاں خاک عہد وفا نبھے وہاں خاک دل کا کنول کھلے
جہاں زندگی کی ضرورتوں کا بھی حسرتوں میں شمار ہے

مزیدخبریں