پی آئی اے .... تابناک ماضی! 

09:07 AM, 13 Jun, 2026

11 مارچ 1955 ءکو پی آئی اے جس کا پورا نام پی آئی اے سی (پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کارپوریشن )ہے کے قیام سے قبل ملک میں اورئینٹ ائیر لاینز کے نام سے ایک ائیر لاین موجود تھی جسے قومی پرچم بردار ائیر لائن ہونے کا درجہ حاصل تھا۔ اورئینٹ ائیر لائنز کا قیام اکتوبر 1946 ءمیں پاکستان کے قیامِ سے قبل عمل میں آیا تھا۔ اصل میں قائد اعظم چاہتے تھے کہ برصغیر جنوبی ایشیاءمیں مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کا مطالبہ پورا ہو رہا ہے تو اس نوزائیدہ مملکت پاکستان کی مسلمان سرمایہ کاروں کی مکیت اپنی ائیر لائن ہونی چاہیے۔ چنانچہ اُن کی خواہش کے مطابق اُن کے قریبی ساتھی اور معروف کاروباری شخصیات مرزا احمد اسفہانی اور آدم جی حاجی داﺅد نے اورئینٹ ائیر ویز کی بنیاد رکھی اور اس کے لئے تین ڈوگلس DC-3 (ڈکوٹا) طیارے خریدے اور جون 1947 ءمیں اس ائیر لائن نے کلکتہ اور رنگون کے درمیان اپنی تجرباتی پروازوں کا آغاز کیا۔ پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو کراچی سے براستہ دہلی ، کلکتہ ڈھاکہ تک اس کی پروازیں شروع ہوئیں۔ کچھ عرصہ بعد لاک ہیڈ 1049 سپر کانسٹی لیشن طیارے اس کے بیڑے میں شامل ہوئے تو 7 جون 1954 ءسے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان نان سٹاپ پروازیں شروع کر دی گئیں۔ تاہم اورئینٹ ائیر ویز کے خسارے اور ریاست پاکستان کی فضائی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکافی ہونے کی بنا پر 11 مارچ 1955 ءکو پی آئی اے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ایک آرڈیننس کے تحت اورئینٹ ائیر ویز کے اثاثے جن میں تین لاک ہیڈ 1049 سپر کانسٹی لیشن ، دو سی وی 240 کنوئیر اور 11 ڈوگلس DC-3 طیارے شامل تھے پی آئی اے کو منتقل کر دئیے گئے اور اس کے ساتھ ہی پی آئی اے کے فضائی آپریشنز کا آغاز ہوا جس میں دن بدن وسعت پیدا ہوتی گئی۔
مئی 1956 ءمیں پی آئی اے نے پانچ وائی ویسکاﺅنٹ طیارے خریدے اور مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان کراچی تا ڈھاکہ اور لاہور تا ڈھاکہ پروازوں کو وسعت دینے کے ساتھ بیرون ملک کراچی تا لندن براستہ قاہرہ روٹ کا بھی آغاز کیا۔ 1959 ءمیں ائیر مارشل نور خان جو اُس وقت ائیر کموڈور کے عہدے پر فائز تھے کو پی آئی اے کا ایم ڈی مقرر کیا گیا۔ وہ جولائی 1965 ءتک اس عہدے پر فائز رہے اسے صحیح معنوں میں پی آئی اے کی ترقی کا سنہرا دور سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دوران جہاں بوئنگ 707اور بوئنگ 720 جیسے تیز رفتار جیٹ طیارے پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل ہوئے وہاں اندرونِ ملک اس کے فضائی روٹس میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ہی نہ ہوا بلکہ اس کی اعلیٰ کارکردگی کو بھی تسلیم کیا جانے لگا۔ اسی عرصے میں 2 جنوری 1962 ءکو پی آئی اے کے پائلٹ کیپٹن عبداللہ بیگ نے ہوابازی کی تاریخ کا ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو آج تک نہیں توڑا جا سکا۔ یہ پی آئی اے کے بوئنگ 720 جیٹ طیارے کو لندن سے کراچی تک 938.78 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑانے کا ریکارڈ ہے۔ اس دوران پی آئی اے کا چین کے دارالحکومت پیکنگ (موجودہ بیجنگ) تک پروازوں کا آغاز ہوا تو روس کے دارالحکومت ماسکو کے راستے لندن تک پروازیں بھی شروع ہوئیں۔ جولائی 1965 ءمیں ائیر مارشل نور خان کو پی آئی اے کے سربراہ کے عہدے سے سبکدوش کر کے پاک فضائیہ کا سربراہ بنا دیا گیا تو ائیر مارشل اصغر خان پی آئی اے کے مینجنگ ڈائریکٹر بنائے گئے اور 1968 ءتک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس عرصے میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں اضافہ ہی نہ ہوا بلکہ پیرس اور نیویارک میں پی آئی اے کے لئے اثاثے بھی خریدے گئے۔ اس طرح نوے کی دہائی تک اگلے دس پندرہ برسوں کوبھی پی آئی اے کے عروج کا زمانہ سمجھا جا سکتا ہے۔ اس دوران پی آئی اے کے بیڑے میں بوئنگ 707 اور بوئنگ 720 طیاروں کے بعد سُپر ہاکر سڈلی ٹرائیڈینٹ ، فوکر فرینڈ شپ، میگڈونل DC-10 ڈوگلس، بوئنگ 747 جمبو جیٹ، بوئنگ 737 اور ائیر بس 310 اور 320 جیسے طیاروں کا اضافہ بھی ہوا۔ 
اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی پی آئی اے کا زوال بھی شروع ہو گیا جس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ پی آئی اے نے خسارے میں چلنے والے ایک قومی ادارے کی حیثیت سے قومی خزانے پر ناقابلِ برداشت بوجھ کی شکل اختیار کر لی۔ اس پر اس کی نجکاری کا فیصلہ ہوا اور بڑی مشکل سے اس کی نجکاری کا عمل مکمل ہوا ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قومی ادارے کو اس حال تک پہنچانے میں ہماری حکومتیں ، ہمارے مقتدر ادارے ، پی آئی اے کے ملازمین اور پوری قوم کسی نہ کسی شکل میں شامل رہی ہے۔ 

مزیدخبریں