یوں تو آج کل تبصرہ کرنے کو وفاقی بجٹ اور امریکا ایران جنگ سمیت بہت سی خبریں موجود ہیں لیکن زیر نظر تحریر اس میگا ایونٹ کے نام ہے جسے حقیقی معنوں میں اصلی ورلڈ کپ کہا جا سکتا ہے۔ آپ درست سمجھے یہ میگا ایونٹ ہے فٹ بال کا ورلڈ کپ جس کا آغاز گزشتہ روز میکسیکو میں شاندار افتتاحی تقریب اور میزبان ملک کی جنوبی افریقہ کے خلاف دو صفر سے فتح کے ساتھ ہو چکا ہے جبکہ جنوبی کوریا نے بھی جمہوریہ چیک کے خلاف پہلے دن کا دوسرا میچ دو ایک سے جیت لیا ہے۔ یہ کالم آپ کے ہاتھوں میں پہنچنے تک دو تین اور میچوں کا فیصلہ بھی ہو چکا ہو گا۔
فیفا ورلڈ کپ کو اصلی ورلڈ کپ کہنے پر ہو سکتا ہے بہت سے لوگ برا بھی مان جائیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کے رگ و پے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کرکٹ ایسی سرایت کر گئی ہے کہ ان کی نہ تو کسی اور کھیل میں دلچسپی باقی رہی ہے اور نہ ہی شاید وہ جانتے ہیں کہ دنیا میں کرکٹ کے سوا بھی کوئی کھیل کھیلا جاتا ہے۔ ایسے ایسے کرکٹ تجزیہ کار ہیں جو اپنے نام کے ساتھ لکھتے تو سپورٹس تجزیہ کار ہیں لیکن ان کے نزدیک کھیل کی دنیا کی خبر صرف وہ ہوتی ہے جو کرکٹ سے جڑی ہو چاہے وہ کسی چھوٹے موٹے کرکٹر کا چھینک مارنا ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ کسی دوسرے کھیل کا میگا ایونٹ بھی ان کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انھیں کرکٹ کے سوا نہ تو کسی اور کھیل کے کھلاڑی کا نام معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی اس کھیل کے اصولوں کی سمجھ ہوتی ہے۔ یہ لوگ فٹبال میں کک مارنے کو بھی شاٹ مارنا کہتے ہیں۔ کرکٹ ہمارے اعصاب پر ایسی چھائی ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے کے دعوے دار ایک کرکٹر کو ملک کا وزیر اعظم تک بنا دیا حالانکہ ہاکی، سکواش اور دیگر کئی کھیلوں میں ہمارے پاس جہانگیر خان، جان شیر خان، اختر رسول اور شہباز سینئر سمیت اس سے بھی بڑے مشاہیر موجود ہیں اور اب تو خیر سے جیولن تھرو کے اولمپک چیمپئن اور ریکارڈ ساز کھلاڑی ارشد ندیم بھی قومی ہیروز کے اس گلدستے میں شامل ہو چکے ہیں۔
کوئی مانے یا نہ مانے اور کوئی اس بات کا چاہے لاکھ برا مانے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اصلی ورلڈ کپ تو فیفا ورلڈ کپ ہی ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی ورلڈ کپ جعلی ہوتے ہیں بلکہ اصلی سے مراد یہ ہے کہ اس ایونٹ میں حقیقی معنوں میں پوری دنیا شریک ہوتی ہے۔ فٹبال دنیا بھر میں کھیلا جاتا ہے اور اسے دیکھا بھی پوری میں جاتا ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں کے تمام ملکوں میں یہ کھیل یکساں طور پر مقبول ہے۔ ہر براعظم کی اپنی ایک طاقتور تنظیم ہے جو ورلڈ کپ کی طرح ایک مخصوص عرصے کے بعد کانٹینینٹل کپ کا انعقاد کرتی ہے جس میں اس براعظم سے کوالیفائی کرنے والی تمام ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ فٹ بال کے کسی براعظمی کپ میں جتنی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اتنی ٹیمیں کرکٹ سمیت بہت سے دوسرے کھیلوں کے پورے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتیں۔ اس وقت دنیا میں فٹ بال کی چھے علاقائی تنظیمیں ہیں جو کرہ ارض کے چھے بڑے خطوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ براعظم یورپ کا موجودہ چیمپئن سپین ہے جبکہ افریقہ کا چیمپئن مراکش ہے۔ ارجنٹائن کی ٹیم جنوبی اور شمالی امریکہ کی مشترکہ چیمپئن جبکہ ایشیا اور اوشینیا خطوں کا مشترکہ چیمپئن قطر ہے۔ یقینا کرکٹ کی تنظیم میں بھی خطوں کی ایسی تقسیم موجود ہو گی لیکن سوائے ایشیائی چیمپئن بھارت کے کیا کسی نے کبھی کسی اور خطے کے چیمپئن کا نام سنا اور کیا براعظم جنوبی امریکہ کا کوئی ملک کرکٹ کھیلتا ہے؟۔
فٹبال کے کھیل کی انتہاو¿ں کو چھوتی مقبولیت کے پیش نظر اس بار فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی ٹیموں کی تعداد 32سے بڑھا کر پہلی بار48 کر دی گئی ہے جن میں براعظم ایشیا، یورپ، افریقہ، جنوبی امریکہ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا سمیت دنیا کے تمام خطوں کی ٹیمیں شامل ہیں جبکہ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو جیسے تین بڑے ملک اس ایونٹ کی میزبانی کر رہے ہیں۔ ایونٹ میں مجموعی طور پر104میچز کھیلے جائیں گے اور یہ ایونٹ تقریبا ڈیڑھ مہینہ جاری رہے گا۔ بعض دنوں میں پانچ پانچ میچز بھی ہوں گے اور ہر میچ میں سٹیڈیم تماشائیوں سے بھرے بلکہ اٹے ہوئے دکھائی دیں گے، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ چھلکتے ہوئے نظر آئیں گے تو غلط نہ ہو گا۔ دوسری طرف کرکٹ کے اہم ترین میچوں کے سوا عام میچوں میں بالعموم سٹیڈیم خالی نظر آتے ہیں۔ فٹبال کھیلنے والے ملک تو ایک طرف، اس کھیل کے تو کلبوں کے بہت بڑے بڑے ٹورنامنٹ ہوتے ہیں جن میں یوئیفا چیمپئنز لیگ، یورپا لیگ، کلب ورلڈ کپ نمایاں ہیں جبکہ امیر ملکوں کی تو اپنی بہت بڑی بڑی لیگیں ہیں جنھیں دنیا بھر کے فٹبال شائقین سارا سال شوق سے دیکھتے ہیں۔ فٹبال کی صرف ایک انگلش پریمیئر لیگ ہی کے کلبوں کی تعداد سو کے قریب ہے۔ اس کے مقابلے میں کرکٹ کے کھیل میں لیگوں کا آغاز ابھی چند سال قبل ہی بھارت کی آئی پی ایل سے ہوا ہے جس کے بعد پاکستان میں پی ایس ایل بھی وجود میں آئی ہے۔ ان لیگوں میں سے کسی میں بھی درجن بھر سے زیادہ ٹیمیں کھیلتی نظر نہیں آتیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قدر مقبول ہونے کے باوجود فٹبال کا کھیل انتہائی سادہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سادہ ہونے کی وجہ سے ہی یہ کھیل اس قدر مقبول ہے۔ بالکل سیدھا سیدھا سا کھیل ہے جس کا ایک مقابلہ ڈیڑھ گھنٹے کے محدود سے وقت میں ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے میدان کا معیاری رقبہ مقرر ہے۔ بڑے چھوٹے گراو¿نڈز کا کوئی فرق نہیں۔ قواعد و ضوابط محدود ہیں۔ آو¿ٹ ہونے کے کلین بولڈ، کیچ، سٹمپ یا ایل بی ڈبلیو جیسے کئی کئی طریقے نہیں ہیں، سنچریاں بنانے اور چھکے چوکے مارنے جیسی بھی کوئی دوڑ نہیں۔ ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوینٹی اور ڈبل وکٹ جیسے طرح طرح کے فارمیٹ بھی نہیں۔ ریڈ بال اور وائٹ بال کا ٹنٹا بھی نہیں۔ موسم کی خرابی پر میچ منسوخ ہونے کا خطرہ بھی نہیں۔ بارش ہو، برفباری ہو، بجلی چمک رہی ہو، تیز ہوا چل رہی ہو یا کڑکتی دھوپ ہو، میچ ہو کر ہی رہنا ہے۔ ٹاس جیتنے کی خواہش اور ہارنے کا ڈر بھی نہیں۔
کھیل کو فٹ بال کی طرح سادہ ہی ہونا چاہیے، جس کھیل میں کرکٹ کی طرح لمبے چوڑے حساب کتاب آ جائیں وہ کھیل نہیں رہتا، دکان داری بن جاتا ہے۔ آئیے اگلے ڈیڑھ ماہ کے لیے دکان داری سے بچیں اور اصلی ورلڈ کپ سے لطف اندوز ہوں۔
اصلی ورلڈ کپ
09:05 AM, 13 Jun, 2026