دنیا ایک سرائے ہے، ایک عارضی قیام گاہ، جہاں ہر شخص صرف کچھ لمحوں کے لیے رُکتا ہے، کچھ سانسیں لیتا ہے، چند رشتے بناتا ہے، تھوڑی خوشیاں سمیٹتا ہے، کچھ غم سہتا ہے اور پھر آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ دنیا کسی کا مستقل گھر نہیں، بلکہ ایک راستہ ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم اسے اپنی منزل سمجھ بیٹھے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل، تماشا، زینت اور آپس میں فخر ہے“ (سورہ الحدید 57:20)
یہ دنیا، اپنی چمک دمک کے باوجود، ایک سراب ہے۔ ہم اس کے پیچھے بھاگتے ہیں، اس کی خاطر نیندیں قربان کرتے ہیں، رشتے کھو دیتے ہیں، یہاں تک کہ رب کو بھی بھول جاتے ہیں۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد یہی دنیا ہمیں ایسے بھلا دیتی ہے جیسے ہم کبھی یہاں تھے ہی نہیں۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ یاد رکھا جائے، اس کا نام زندہ رہے، اس کی باتیں دہرائی جائیں، اس کے کام کو سراہا جائے۔ لیکن وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے۔ کبھی وہ ہاتھ جو دعاو¿ں میں اٹھتے تھے، وہ چہرے جو ہنسی بکھیرتے تھے، وہ آوازیں جو زندگی میں گونجتی تھیں، سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جن کے بغیر دنیا ادھوری سمجھی جاتی تھی، مگر آج اُن کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ فلسفہ اقبالؒ میں خودی کا مطلب غرور نہیں بلکہ رب سے جڑنے، اپنی حقیقت پہچاننے اور فانی دنیا سے بے نیاز ہونا ہے۔ اگر ہم اپنی شناخت رب سے جوڑ دیں، تو پھر دنیا کا بھول جانا معنی نہیں رکھتا۔ جب اللہ یاد رکھے تو مخلوق کی یاد بے معنی ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: ”تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا“ (سورہ البقرہ 2:152)
یہ وعدہ دنیا کے ہر وعدے سے سچا، ہر تعلق سے مضبوط اور ہر رشتے سے وفادار ہے۔ جب دنیا کے سب دروازے بند ہو جائیں، جب دوست، رشتہ دار، عزیز سب پیٹھ پھیر لیں، تب رب کا دروازہ کھلا ہوتا ہے۔
وہ ماں جو رات کی تنہائی میں بچوں کے لیے دعا کرتی ہے، وہ بزرگ جو خاموشی سے قرآن پڑھتا ہے، وہ نوجوان جو گمنامی میں کسی کی مدد کر کے آگے بڑھ جاتا ہے .... دنیا انہیں بھول سکتی ہے، مگر رب کبھی نہیں۔ حدیث قدسی ہے: ”میں صرف وہ عمل قبول کرتا ہوں جو میرے لیے کیا گیا ہو اور جس میں میرا شریک نہ بنایا گیا ہو“۔ دنیا کے ریکارڈ مٹ سکتے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں اخلاص سے کیے گئے کام ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یہ دنیا امتحان ہے، نتیجہ آخرت میں ہے۔ دنیا میں بے قدری ملے، یا سراہا جائے، یہ سب عارضی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو رب کی بارگاہ میں ملے۔
قرآن میں ہے: ”جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا، وہ خوشحال زندگی میں ہو گا“ (سورہ القارعة 101:6-7)
یہ وہ کامیابی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ جب ہر طرف کے رشتے ٹوٹ جائیں، دل کے قریب لوگ بھی دور ہو جائیں، تب ایک رشتہ ہے جو باقی رہتا ہے .... اللہ سے محبت کا۔ حضرت رابعہ بصریؒ فرماتی ہیں: میں اللہ سے اس لیے محبت کرتی ہوں کہ وہ مجھے بے غرض محبت کرتا ہے اور کبھی مجھے بھولتا نہیں“۔ دنیا والے محبت کرتے ہیں تو امیدوں کے ساتھ، لیکن رب کی محبت بے لوث، خالص اور وفا سے بھرپور ہے۔ اکثر ہم نماز، تلاوت، ذکر تو کرتے ہیں، لیکن دل دنیا میں الجھا ہوتا ہے۔ ہم رب کا ذکر زبان سے کرتے ہیں، مگر دل محبتوں، خواہشات، حسد، نفرت اور دنیا کے جھمیلوں میں گم ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ رب ہمیں یاد رکھے، تو ہمیں بھی اُسے دل سے یاد کرنا ہو گا، ورنہ عبادت صرف ایک رسمی عمل بن کر رہ جائے گی۔
اپنے اعمال کا اعلان نہ کرو، صدقہ کرو تو چپکے سے، نماز پڑھو تو دکھاوے سے بچو، کسی کے لیے دعا کرو تو نام لیے بغیر۔ وہی عمل باقی رہے گا جو خاموشی میں، دل کے اخلاص سے، رب کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ سوشل میڈیا پر لائکس نہ تعریفی کمنٹس، دنیا کی واہ واہ نہ عزت کے دعوے کچھ بھی ساتھ نہیں جائے گا۔ جس دن آنکھ بند ہو گی، صرف عمل نامہ باقی ہو گا۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا کوئی مطلب ہو، تو وہ مطلب رب سے جڑا ہونا چاہیے۔ تب ہی ہماری زندگی کا کوئی وزن ہو گا۔ دنیا تمہیں بھلا دے گی، لوگ تمہیں فراموش کر دیں گے، تمہاری قبریں بے نشان ہو جائیں گی، لیکن اگر تم نے اپنے دل کو اللہ سے جوڑ لیا، نیت کو خالص رکھا اور زندگی کے ہر لمحے کو رب کی رضا کے لیے گزارا .... تو تمہارا ذکر لوحِ محفوظ پر ہو گا، عرش والے رب کی یاد میں محفوظ ہو گا، اور جنت میں تمہارا مقام مقرر ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصل حقیقت نہایت واضح انداز میں بیان کر دی۔ یہ دنیا اپنی تمام تر چمک دمک، رنگینیوں اور لذتوں کے باوجود ایک فریب ہے، ایک آزمائش گاہ ہے، جہاں انسان کے عمل تولے جاتے ہیں، نہ کہ اس کی حیثیت، شہرت یا مال و دولت۔مگر انسان، جب تک اسے فنا کا احساس نہ ہو، وہ خود کو مرکزِ کائنات سمجھتا ہے۔ اور جب دنیا اسے بھلا دیتی ہے، تو تب وہ پہلی بار اس تلخ حقیقت سے آشنا ہوتا ہے کہ:یہاں کوئی کسی کا نہیں، اور نہ ہی کوئی ہمیشہ کے لیے رہنے والا ہے۔
دنیا: ایک فانی سایہ
09:12 AM, 14 Jun, 2025