تہران :ایران میں اسرائیلی حملوں کے بعد کئی مذہبی مقامات پر لال جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں، جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ یہ منظر عام پر آتے ہی دنیا بھر میں تجزیے شروع ہو گئے، کیونکہ ایران میں لال جھنڈے کا مطلب صرف ایک ہوتا ہے: انتقام کا وقت آ گیا ہے۔
دنیا کے اکثر ممالک میں جھنڈے قومی شناخت یا غم و خوشی کی علامت ہوتے ہیں، مگر ایران میں لال پرچم ایک خاص پیغام دیتا ہے۔ اسے "انتقام کا جھنڈا" یا "خونِ ناحق کا جواب" سمجھا جاتا ہے، اور جب یہ جھنڈا مسجد کی چھت پر بلند ہوتا ہے، تو دنیا جان لیتی ہے کہ ایران خاموش نہیں رہے گا۔
یہ روایت اسلامی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے، خاص طور پر واقعہ کربلا سے۔ لال رنگ کو اسی خونِ شہادت کی یاد کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ ایران میں جب کوئی بڑی شخصیت شہید کی جاتی ہے، یا ملک کی خودمختاری پر حملہ ہوتا ہے، تو لال پرچم بلند کر کے قوم کو متحد اور متحرک کیا جاتا ہے۔
اسی طرح کا منظر اس وقت دیکھاگیا تھا جب ایرانی جنرل قاسم سلیمانی امریکی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ اُس وقت مسجد جامع جمکران (قم) پر لال جھنڈا بلند کیا گیا تھا، اور دنیا کو ایک صاف پیغام دیا گیا تھا: "ہم بدلہ لیں گے۔"
اب ایک بار پھر وہی پرچم بلند ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کی ریاست، قیادت اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔ اس علامت کے ذریعے ایران دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر اس کی خودمختاری یا عقائد کو چیلنج کیا گیا، تو جواب صرف الفاظ میں نہیں، عمل میں دیا جائے گا۔
یہ جھنڈا صرف ایران کے لیے نہیں، بلکہ دنیا بھر کے ان لوگوں کے لیے بھی پیغام ہے جو ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔ جب تک ظلم باقی ہے، لال جھنڈا لہراتا رہے گا۔