واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق نئی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں سے اس اہم بحری گزرگاہ کے استعمال کے بدلے 20 فیصد فیس وصول کی جائے گی۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب "آبنائے ہرمز کا محافظ" ہوگا۔ ان کے مطابق نئی پالیسی کے تحت صرف ایرانی بحری جہازوں اور ان سے وابستہ تجارتی اداروں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انہیں مقررہ ٹرانزٹ فیس ادا کرنا ہوگی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو جہازوں پر 20 فیصد چارجز لاگو کیے جائیں گے اور اس نئے نظام پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز پر امریکی کردار بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ امریکا اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی کرے گا اور اس خدمت کے بدلے معاوضہ وصول کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کا انتظام بھی امریکا اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر امریکی مؤقف مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظامی امور میں کسی بھی غیرملکی، خصوصاً امریکی، مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے کہا کہ ایرانی حکام کی منظوری اور رابطے کے بغیر آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی کارروائی یا انتظامی اقدام کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔