اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان بچیوں کی تعلیم، خواتین کی کاروباری صلاحیتوں، ڈیجیٹل مہارتوں اور ان کے بااختیار بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ او آئی سی کی خواتین سے متعلق نویں وزارتی کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل، سیکریٹریٹ اور کانفرنس میں شریک خواتین مندوبین کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف معاشرے کے ایک طبقے کی ترقی کا معاملہ نہیں بلکہ مضبوط اور خوشحال قوم کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے خواتین کو عزت و وقار عطا کیا اور ایسے اصول متعارف کرائے جو آج بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی زندگی کے ذریعے خواتین کے احترام اور حقوق کو فروغ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام خواتین کو تعلیم، جائیداد، وراثت، کاروبار اور سماجی زندگی میں بھرپور شرکت کا حق دیتا ہے، جبکہ پاکستان کا آئین بھی قومی زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی مساوی شمولیت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے دل غزہ، بالخصوص فلسطینی خواتین کے ساتھ دھڑکتے ہیں، جو شدید انسانی مشکلات اور مصائب کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی خاموش نہیں رہ سکتا اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔
اسحاق ڈار نے افغانستان کی عبوری حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ افغان خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار اور قومی زندگی میں فعال کردار ادا کرنے کے بنیادی حقوق بحال کرے، جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے عین مطابق ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون، انصاف و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ او آئی سی وزارتی کانفرنس خواتین کے مسائل پر بامقصد مکالمے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا اہم موقع ہے، جو اسلامی دنیا کے درمیان دیرپا دوستی، مشترکہ اقدار اور اتحاد کو مزید مضبوط بنائے گی۔