بھارتی وزیر اعظم سرنڈر مودی 10 مئی 2025ءکی ذلت آمیز شکست بھلا نہیں سکا، پاکستان پر دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی تو پراکسی وار کے ذریعے بدلہ لینے پر تل گیا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے خوفناک منصوبہ تیار کیا۔ پاکستان کے طول و عرض میں اپنے کارندوں سے رابطے کیے۔ ”پاسبان مل گئے صنم خانے کو“ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ امریکہ ایران جنگ میں 42 ہزار اسرائیلی جاسوسوں کی نشاندہی ہوئی، ان میں سے متعدد کو سر عام پھانسی کی سزا ہوئی، پاکستانی ”سہولت کاروں“ کے بعد پراکسی وار کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ اس میں را کو افغان حکومت اور اسرائیل کی کھلی حمایت حاصل رہی۔ منصوبے کے تحت 25 ہزار فتنہ الخوارج کی حوصلہ افزائی کی گئی جو پہلے ہی خیبر پختونخوا میں دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے، پاک فوج نے ان کے خاتمے کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور افغانستان میں ان کی چوکیوں کو تباہ کرنے کے لیے اسٹرائیکس کیں۔ افغان رجیم کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اور ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب جو وزیر داخلہ ہیں نے طالبان دہشتگردوں کو اپنی ڈیڑھ لاکھ فوج میں باقاعدہ شامل کر کے پاکستان پر حملوں کی کھلی چھٹی دے دی۔ پاک فوج کے ہاتھوں بڑی تباہی کے بعد ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے بلوچستان کا رخ کر لیا اور ہنہ اوڑک، زیارت، منگی ڈیم چاغی اور بیلہ کے علاقوں میں حملے کر کے 42 پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو شہید کر دیا۔ 18 پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے لے گئے، بعد ازاں انہیں بھی شہید کر کے لاشیں پہاڑوں میں پھینک دیں۔ لواحقین لاشیں لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، شہید ہونے والے بلوچ تھے۔ عوامی حقوق کے نعرے لگانے والے اختر مینگل، ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سردار مہر بلب، پولیس، ایف سی، رینجرز اور فوج 5 جولائی سے ان دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور اب تک 102دہشتگردوں کو جہنم رسید کر چکی ہے۔ بیشتر افغان بتائے جاتے ہیں۔ پاک فوج ”آپریشن شعبان“ کے نام سے پورے صوبے میں دہشتگردوں کا تعاقب کر رہی ہے۔ قوم دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کی منتظر اپنی فوج کے شانہ بشانہ دشمنوں سے مقابلہ کے لیے تیار، گزشتہ ہفتے کور کمانڈرز کانفرنس میں سخت فیصلے کیے گئے، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے دو ٹوک اعلان کیا کہ دشمن کو امن سے کھیلنے نہیں دیں گے، پراکسی عناصر کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی، پوری قوت سے کچل دیں گے۔ ”اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی“ فوج پوری تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔تاہم صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں، صوبہ بلا شبہ مسائل کا شکار ہے، آبادی کم ویران علاقہ زیادہ، برسوں سے پورا صوبہ جن کے چنگل میں ہے۔ بی ایل اے خودرو پودے کی طرح وجود میں نہیں آئی، انہیں اپنے اپنے علاقوں کے ”بادشاہوں“ کی سرپرستی حاصل رہی، سردار اختر مینگل، مبینہ طور پر ماہرنگ بلوچ (جسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے) کے سرپرست اعلیٰ گردانے گئے، بلوچستان میں ”بادشاہوں“ کی اکثریت حکومت اور ان ہی کا غلبہ ہے، رعایا کی تعداد کم ہے۔ بادشاہوں نے فیکٹریوں، کارخانوں، ملازمتوں اور صوبائی ترقی پر توجہ دینے کی بجائے کان کنی اور وفاق سے اربوں کی رائلٹی پر توجہ دی، صوبہ معدنیات سے مالامال ہے، موجودہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک منصوبے کے تحت معدنیات کی تلاش کا پروگرام بنایا تھا، کب شروع ہوگا پتہ نہیں۔ افغان دہشتگردوں کی بلوچستان ”انٹری“ سے سی پیک والے بھی پریشان ہیں، راستے کلیئر ملیں گے تو سڑکیں بنیں گی۔ انڈسٹریل زونز قائم ہوں گے، تیل گیس سونا اور دیگر دھاتوں سے ملک جلدی ہی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا لیکن کب؟ شامل کرنے والے، صرف بیانات پر گزارا کرنے والے یا لاکھوں کی تنخواہیں، کروڑوںکی مراعات، تاحیات بیوی بچوں سمیت بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے والے اور ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ، اپوزیشن ارکان جانیں کہ ملک کو کس سنگین ترین صورتحال کا سامنا ہے۔ لیکن وہ بدقسمتی سے مکمل لا تعلق۔ دہشتگردوں کی مذمت نہ انہیں کوئی الٹی میٹم، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نئی نویلی چادر کی بکل مار کر گنتی کے چار لیڈروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں آئے اور اکھڑے اکھڑے لہجے میں کہا ”فوری استعفے دے دو، نوکریوں سے برطرف کر دو، اے پی سی میں خانوں کے خان اور کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماو¿ں کی رہائی کا مطالبہ اور بس۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کوئی تجویز، نہ حکومت سے مشاورت، یوں لگا کہ خان رہا ہوتے ہی ٹینکوں میں پٹرول ڈال کر بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ رہائی خواب بن گئی، علیمہ باجی کا منگل شو بھی رنگ کھونے لگا، ایسے میں ایک خبر پر نظر پڑی، اپوزیشن اتحاد نے 5 اگست سے ملک گیر سطح پر احتجاج اور عوام رابطہ کا اعلان کیا ہے۔ قیادت کون کرے گا؟ 23 دن بعد دیکھا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں کیا ہو گا؟ کیا ہونا ہے، وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئے۔ را کے پیارے بھارت کے دلارے سردار امان نے گزشتہ ہفتہ کے آغاز میں راولا کوٹ کے دھرنے میں بھارت کو مدد کے لیے پکارا تھا، ”لائن آف کنٹرول کے اس پار بسنے والو ہم ایل او سی کو نہیں مانتے، ہم آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں، ہمیں خوراک اور دواو¿ں کی ضرورت ہے ہماری مدد کرو“ کال بھارت تک پہنچ گئی، بھارتی فوجیوں نے کپواڑہ کے مورچوں سے فائر کھول دیا، پاک فوج کے جوانوں نے منہ توڑ جواب دیا، فائرنگ رک گئی، آواز مودی تک پہنچی یا نہیں لیکن دھرنے سے سردار امان اور خواجہ مہران جیسے ملک دشمن تقاریر کرنے اور آٹے دال کی تحریک کو عسکری تنظیم میں بدلنے والے لیڈر اپنے سرغنہ شوکت نواز میر کی طرح غائب ہو گئے، دھرنے کی کمان عمر نذیر کشمیری نے سنبھال لی، گزشتہ دنوں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے برملا اعلان کیا کہ ان انتہا پسند لیڈروں کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے کوئی تعلق نہیں، ملک اور اس کے اداروں کو گالیاں دینے والے ہمارے احتجاج کا حصہ نہیں، اس تقریر سے 80 فیصد پی ٹی آئی، 10 فیصد ٹی ایل پی اور 5 فیصد سرپھرے کشمیریوں کو مایوسی ہوئی ہے، ایک با خبر ویلاگر کا کہنا ہے کہ ہزاروں کا دھرنا سیکڑوں میں تبدیل ہوگیا۔ 15 جولائی کو مظفر آباد مارچ کے لائحہ عمل کے اعلان کا مقصد 27 جولائی کے انتخابات روکنا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت نے وفاق سے اضافی نفری طلب کر لی ہے، لگتا ہے کہ لانگ مارچ نہیں انتخابات ہوں گے۔
بلوچستان میں دہشتگردی، آپریشن شعبان، دھرنا ختم؟
09:01 AM, 13 Jul, 2026