سیاحت کے نام پر جنگلات کی بربادی

08:57 AM, 13 Jul, 2026

کسی بھی قوم کی تہذیب کا اصل حسن صرف اس کی بلند و بالا عمارات، وسیع شاہراہوں یا جدید تجارتی مراکز میں نہیں ہوتا بلکہ اس حسن کا سب سے روشن عکس اس کی قدرتی میراث میں جھلکتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، سرسبز جنگلات، شفاف جھیلیں، خاموش وادیاں، بل کھاتی ندیاں اور نیلگوں آسمان وہ اثاثے ہیں جنہیں انسان تخلیق نہیں کرتا بلکہ امانت کے طور پر حاصل کرتا ہے۔ یہی امانت جب معاشی مفادات، وقتی ترقی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کی نذر ہونے لگے تو سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی ہم ترقی کر رہے ہیں یا اپنی آنے والی نسلوں سے ان کا قدرتی ورثہ چھین رہے ہیں؟
انسان نے ہمیشہ ترقی کا خواب دیکھا ہے اور خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں۔ جرم تب شروع ہوتا ہے جب خوابوں کی تعبیر دوسروں کی بربادی پر لکھی جانے لگے۔ جب ایک شاہراہ بنانے کے لیے پہاڑ کا سینہ چیر دیا جائے، جب ایک ریزورٹ کی خاطر کئی قیمتی درخت کاٹ دئیے جائیں، تب سوال صرف تعمیر کا نہیں رہتا بلکہ تہذیب کا بن جاتا ہے۔آج پاکستان کے سیاحتی مقامات اسی سوال کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔یہ وہ سرزمین ہے جسے قدرت نے فیاضی سے نوازا۔ کہیں برف پوش چوٹیاں آسمان سے ہم کلام ہیں، کہیں دیودار کے درخت صدیوں سے ہوا کے ساتھ راز بانٹ رہے ہیں، کہیں جھیلیں آئینے کی طرح آسمان کو اپنے دامن میں سمیٹے بیٹھی ہیں، اور کہیں وادیاں موسموں کی خوشبو اوڑھے مسافروں کا استقبال کرتی ہیں۔ دنیا کے بے شمار ممالک نے ایسی نعمتوں کے لیے مصنوعی پارک بنائے، مگر پاکستان کو یہ حسن قدرت نے بغیر کسی قیمت کے عطا کیا۔بدقسمتی صرف اتنی ہے کہ جو نعمت بغیر قیمت کے مل جائے، اس کی قدر بھی اکثر دیر سے ہوتی ہے۔ کبھی سیاحتی مقام تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ راستے دشوار تھے، مگر مناظر محفوظ تھے۔ آج راستے آسان ہیں، مگر مناظر مشکل میں ہیں۔ اب پہاڑوں تک پہنچنے سے پہلے اشتہارات دکھائی دیتے ہیں، درختوں سے پہلے کنکریٹ کی دیواریں نظر آتی ہیں، خاموش وادیوں سے پہلے ٹریفک کا شور سنائی دیتا ہے، اور قدرت سے ملاقات سے پہلے کاروبار استقبال کرتا ہے۔یہ تبدیلی محض منظرنامے کی نہیں، سوچ کی بھی ہے۔ہم نے ترقی کو سیمنٹ، سریے اور اینٹوں میں قید کر دیا ہے۔شاید ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ جتنی زیادہ عمارتیں ہوں گی اتنی ہی زیادہ خوش حالی ہوگی حالانکہ خوش حالی اور ہجوم ایک دوسرے کے مترادف نہیں ہوتے۔ بعض اوقات ہجوم کسی مقام کی معیشت کو تو بڑھا دیتا ہے مگر اس کی روح چھین لیتا ہے۔
پہاڑوں کی بھی ایک برداشت ہوتی ہے وہ صدیوں تک برف کا بوجھ اٹھا لیتے ہیں مگر انسان کے لالچ کا بوجھ ہمیشہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان کی ڈھلوانوں کا ایک توازن ہوتا ہے، ان کی چٹانوں کا ایک صبر ہوتا ہے، ان کے جنگلات کا ایک نظام ہوتا ہے۔ جب یہ توازن بگڑتا ہے تو پہاڑ خاموش نہیں رہتے۔ کہیں لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے، کہیں دراڑیں پڑتی ہیں، کہیں چشمے خشک ہو جاتے ہیں، اور کہیں وہی پہاڑ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ فطرت کو مفتوح سمجھنے والا ہمیشہ غلط ثابت ہوا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ ہوٹل بن رہے ہیں، سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں یا سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان سب کے درمیان منصوبہ بندی، ماحولیاتی توازن اور آنے والی نسلوں کا حق کہیں گم ہو گیا ہے۔ ترقی کبھی درختوں کی دشمن نہیں رہی۔ اصل ترقی تو وہ ہے جو درخت بھی بچائے اور روزگار بھی دے، جنگل بھی محفوظ رکھے اور سیاحت بھی بڑھائے، پہاڑ بھی سلامت رکھے اور معیشت بھی مضبوط کرے۔ مگر جب ترقی کے ترازو میں صرف منافع رکھا جائے تو دوسری پلڑے میں قدرت ہمیشہ ہار جاتی ہے۔ یہ ہار صرف درختوں کی نہیں ہوتی، انسان کی بھی ہوتی ہے۔ پاکستان کے کئی خوب صورت علاقے آج غیر معمولی دباو¿ کا شکار ہیں۔ کہیں جنگلات سکڑ رہے ہیں، کہیں قدرتی آبی راستے تبدیل ہو رہے ہیں، کہیں پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر ایسی تعمیرات کھڑی ہو رہی ہیں جو زمین کی فطری ساخت سے ہم آہنگ نہیں۔ ہر نئی عمارت شاید ایک نئی سرمایہ کاری ہو، مگر ہر عمارت ترقی کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض عمارتیں آنے والے کسی سانحے کی خاموش بنیاد بھی ثابت ہوتی ہیں۔ تاریخ ہمیں ایک سبق بار بار سکھاتی ہے کہ تہذیبیں اپنی طاقت سے کم اور اپنے غرور سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔ انسان جب یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ قدرت سے زیادہ طاقت ور ہے، تب قدرت اسے اس کی اصل حیثیت یاد دلا دیتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی دن مری کی پہاڑیاں اپنے دیودار کھو دیں، اگر گلیات کی ٹھنڈی ہوا کنکریٹ کی دیواروں میں قید ہو جائے، اگر 
سوات کی ندیاں آلودگی کا بوجھ اٹھانے لگیں، اگر ہنزہ کی وادیاں بے ترتیب تعمیرات کے جنگل میں بدل جائیں، تو کیا ہم اب بھی انہیں سیاحتی مقامات کہیں گے؟ یا وہ صرف بلند عمارتوں کے ایسے شہر ہوں گے جن سے قدرت ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکی ہو گی؟ قدرت انسان سے کبھی زیادہ مطالبہ نہیں کرتی۔ وہ صرف اتنا چاہتی ہے کہ جس حسن سے تم فائدہ اٹھاتے ہو، اسے آئندہ نسلوں کے لیے بھی محفوظ رہنے دو۔ مگر شاید ہم نے امانت کو ملکیت سمجھ لیا ہے، اسی لیے حفاظت کی جگہ تصرف نے لے لی ہے۔ آج ضرورت صرف قوانین کی نہیں، سوچ کی اصلاح کی ہے۔ کیونکہ قوانین عمارتیں روک سکتے ہیں، مگر لالچ نہیں اور جب تک لالچ پر ذمہ داری غالب نہیں آئے گی، تب تک پہاڑوں کی خاموش فریاد سنائی دیتی رہے گی، مگر شاید سننے والا کوئی نہ ہو گا۔۔۔ قدرت کے دامن میں بسنے والی بستیاں صرف زمین کے ٹکڑے نہیں ہوتیں، وہ صدیوں کے تجربات، مقامی ثقافتوں، قدرتی نظاموں اور انسانی زندگیوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ ایک پہاڑ کے سائے میں آباد چھوٹا سا گاو¿ں بھی اپنے اندر ایک مکمل تہذیب رکھتا ہے۔ وہاں کے راستے، درخت، چشمے، موسم اور لوگ سب مل کر اس جگہ کی شناخت بناتے ہیں لیکن جب کسی مقام کو صرف کاروباری امکانات کی نظر سے دیکھا جانے لگے تو سب سے پہلے اس کی روح متاثر ہوتی ہے۔ سیاحت کسی بھی ملک کے لیے معاشی نعمت بن سکتی ہے مگر صرف اس وقت جب اسے شعور، منصوبہ بندی اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ ورنہ یہی سیاحت جو روزگار کا ذریعہ بننے کے بجائے ماحول کے لیے بوجھ بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اب یہ حقیقت تسلیم کی جا چکی ہے کہ قدرتی مقامات کی حفاظت کے بغیر سیاحت کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔پاکستان کے پہاڑی علاقے اس حقیقت کی سب سے بڑی مثال ہیں۔مری جسے کبھی ملکہ کوہسار کہا جاتا تھا اپنی ٹھنڈی ہواو¿ں، بلند درختوں اور دلکش مناظر کی وجہ سے برسوں تک لوگوں کے دلوں کی منزل رہی۔ اس شہر کی کشش صرف اس کی عمارتیں نہیں تھیں بلکہ اس کی فضا، اس کے جنگلات اور اس کا قدرتی حسن تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی آبادی، بے ترتیب تعمیرات، ٹریفک کے دباو¿ اور محدود وسائل پر بڑھتے ہوئے بوجھ نے اس قدرتی توازن کو متاثر کیا۔ یہ مسئلہ صرف ایک شہر کا نہیں بلکہ پورے پہاڑی خطے کا مسئلہ ہے۔گلیات کی خاموش وادیاں ہوں، سوات کے سرسبز میدان ہوں، کاغان کے پہاڑی راستے ہوں یا شمالی علاقوں کے دلکش مناظر، ہر جگہ ایک ہی سوال ابھر رہا ہے کہ ہم قدرتی حسن سے فائدہ اٹھانے اور اسے ختم کرنے کے درمیان لکیر کہاں کھینچیں گے؟
(جاری ہے)
ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر خالی جگہ پر عمارت تعمیر کر دی جائے۔ کبھی کبھی کسی جگہ کو خالی چھوڑ دینا بھی دانش مندی ہوتی ہے کیونکہ قدرتی حسن کی اپنی ایک قیمت ہوتی ہے۔ ایک درخت جو سو سال میں تیار ہوتا ہے، چند گھنٹوں میں کاٹا جا سکتا ہے مگر اس کے سائے، اس کے ماحول اور اس کے وجود کی کمی پوری کرنے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری منصوبہ بندی میں اکثر کتنا بنایا جا سکتا ہے؟کا سوال تو شامل ہوتا ہے، مگر کتنا برداشت کیا جا سکتا ہے؟ کا سوال غائب ہوتا ہے۔ہر علاقے کی اپنی ایک برداشت کی حد ہوتی ہے۔ ایک پہاڑی شہر کتنی گاڑیاں برداشت کر سکتا ہے؟ ایک وادی میں کتنی عمارتیں مناسب ہیں؟ ایک جنگل کتنے انسانی دبا کو سہہ سکتا ہے؟ ایک چشمہ کتنی آبادی کو پانی فراہم کر سکتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب تلاش کیے بغیر تعمیرات جاری رہیں تو پھر مسائل کا پیدا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں۔قدرت کے ساتھ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس کی تباہی فوری طور پر ہمیشہ نظر نہیں آتی۔ ایک درخت کاٹنے سے شاید اسی لمحے کوئی بحران پیدا نہ ہو، ایک عمارت بنانے سے شاید اسی دن کوئی نقصان محسوس نہ ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے زخم بڑے مسائل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔پہاڑوں میں پانی کا نظام، جنگلات، مٹی اور موسم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب ایک عنصر متاثر ہوتا ہے تو پورا نظام متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بارہا خبردار کرتے رہے ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ سیاحتی علاقوں میں بڑھتی تعمیرات نے مقامی آبادی کے لیے بھی کئی نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ جہاں کبھی زمین مقامی لوگوں کی زندگی کا حصہ تھی، وہاں اب زمین کی بڑھتی قیمتوں نے کئی سماجی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ پانی، صفائی، ٹریفک اور روزمرہ سہولیات پر دبا بڑھا ہے۔سیاحت سے فائدہ ضرور پہنچا مگر اس فائدے کی تقسیم ہمیشہ متوازن نہیں رہی۔اصل کامیاب سیاحت وہ ہے جس میں مقامی لوگ صرف تماشائی نہ ہوں بلکہ اس ترقی کے حقیقی شریک ہوں۔دنیا کے کئی ممالک نے یہی اصول اپنایا ہے کہ سیاحتی ترقی میں مقامی ثقافت، مقامی ہنر اور مقامی آبادی کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ وہاں بڑے بڑے منصوبے بنانے سے پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ کیا یہ منصوبہ اس علاقے کی روح کے مطابق ہے؟ کیا یہ آنے والے پچاس برس تک فائدہ دے گا؟ کیا اس کے بعد بھی یہ جگہ اپنی خوبصورتی برقرار رکھ سکے گی؟ہمیں بھی یہی سوال اپنے ہر سیاحتی منصوبے کے سامنے رکھنا ہوگا۔کیونکہ ایک خوبصورت پہاڑ کو تباہ کر کے بنایا گیا شاندار ہوٹل شاید چند سال منافع دے دے لیکن اگر اس کے بعد وہ مقام اپنی کشش کھو دے تو نقصان صرف ماحول کا نہیں بلکہ معیشت کا بھی ہوگا۔ سیاح آخرکار وہاں واپس آتے ہیں جہاں انہیں فطرت اپنی اصل شکل میں ملے نہ کہ وہ جگہیں جہاں صرف عمارتیں رہ جائیں اور منظر کہیں کھو جائے۔یہ وقت ہے کہ ہم سیاحت کو صرف کاروبار نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری سمجھیں۔ ہمارے پہاڑ، جنگلات اور دریا ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہماری امانت ہیں۔ اور امانت کا حسن یہی ہے کہ اسے استعمال بھی کیا جائے اور محفوظ بھی رکھا جائے۔
لیکن سوال پھر وہی ہے...کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو وہی پاکستان دکھا سکیں گے جو ہمیں قدرت نے دیا تھا؟یا ہم انہیں صرف پرانی تصویروں میں وہ وادیاں دکھائیں گے جہاں کبھی درخت ہوا سے باتیں کرتے تھے، ندیاں گیت گاتی تھیں اور پہاڑ خاموشی میں بھی زندہ محسوس ہوتے تھے؟قوموں کی پہچان صرف ان کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور جدید منصوبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی قدرتی امانتوں کے ساتھ کتنا انصاف کرتی ہیں۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے یہ راز بہت پہلے سمجھ لیا تھا کہ قدرت کو شکست دے کر کوئی قوم حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ جو معاشرہ اپنے جنگلات، دریاں اور پہاڑوں کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ آنے والے وقت کے چیلنجز کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ہمیں بھی اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے سیاحتی مقامات کو صرف کاروباری سرگرمیوں کا مرکز بنانا چاہتے ہے یا انہیں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ قدرتی ورثہ رکھنا چاہتے ہیں ۔سیاحت کا اصل حسن عمارتوں کی کثرت میں نہیں بلکہ تجربے کی خوبصورتی میں ہوتا ہے۔ ایک سیاح پہاڑوں پر صرف کمرہ حاصل کرنے نہیں جاتا، وہ سکون تلاش کرنے جاتا ہے۔ وہ درختوں کی خوشبو، ٹھنڈی ہوا کی سرگوشی، دریاں کی روانی اور قدرت کے اس حسن کو محسوس کرنے جاتا ہے جو بڑے شہروں کے شور میں کہیں کھو جاتا ہے۔ اگر ہم نے ان مقامات کو بھی شور، آلودگی اور بے ترتیبی کا شکار بنا دیا تو پھر ہم سیاحت کو فروغ دینے کے بجائے اس کی بنیاد ہی کمزور کر دیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کی پالیسی کو نئے زاویے سے دیکھا جائے۔ ایسی منصوبہ بندی کی جائے جس میں تعمیرات ہوں، مگر فطرت کی قیمت پر نہ ہوں۔ ہوٹل بنیں، مگر جنگلات کی قربانی دے کر نہیں۔ سڑکیں تعمیر ہوں، مگر پہاڑوں کے قدرتی توازن کو نقصان پہنچائے بغیر۔ترقی اور تحفظ کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنا ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔ اگر ماحول محفوظ ہوگا تو سیاحت محفوظ ہوگی اور اگر سیاحت محفوظ ہوگی تو معیشت بھی مضبوط ہوگی۔پہاڑی علاقوں کے لیے سب سے پہلے واضح حدود کا تعین ضروری ہے۔ ہر علاقے کی برداشت کے مطابق تعمیرات کی اجازت ہونی چاہیے۔ جہاں قدرتی نظام حساس ہو وہاں تعمیرات محدود کی جائیں اور جہاں تعمیر کی اجازت ہو وہاں ماحول دوست اصولوں کو لازمی قرار دیا جائے۔ ہمیں اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہر خالی زمین ترقی کا موقع نہیں ہوتی۔ بعض زمینیں قدرت کی طرف سے محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ہر درخت کے نیچے صرف لکڑی نہیں ہوتی، ایک پورا ماحولیاتی نظام موجود ہوتا ہے۔ ہر چشمے میں صرف پانی نہیں ہوتا بلکہ کئی نسلوں کی زندگی کا سلسلہ جاری ہوتا ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قوانین موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنائے۔ غیر قانونی تعمیرات، جنگلات کے نقصان اور ماحولیاتی خلاف ورزیوں کے خلاف یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔ قانون کی طاقت صرف کتابوں میں نہیں بلکہ زمین پر نظر آنی چاہیے۔اسی طرح سیاحتی منصوبوں میں ماہرین ماحولیات، مقامی افراد اور شہری منصوبہ سازوں کی رائے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ فیصلے صرف دفاتر میں بیٹھ کر نہیں بلکہ زمین کی حقیقت کو سمجھ کر کیے جانے چاہئیں کیونکہ پہاڑوں کے مسائل فائلوں میں نہیں، پہاڑوں کے درمیان کھڑے ہو کر سمجھے جا سکتے ہیں۔ سرمایہ کاری یقینا ضروری ہے مگر ایسی سرمایہ کاری جو قدرت کو نقصان پہنچائے، طویل مدت میں خود کاروبار کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ آج دنیا کے سیاح ماحول دوست مقامات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ ایسی جگہیں تلاش کرتے ہیں جہاں قدرت اپنی اصل حالت میں موجود ہو۔
پاکستان کے پاس قدرتی حسن کی کمی نہیں، کمی صرف اس شعور کی ہے کہ اس حسن کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو ایسا پاکستان دینا ہے جہاں وہ پہاڑوں کی تصاویر کتابوں میں نہیں بلکہ حقیقت میں دیکھ سکیں۔ جہاں جنگلات صرف ماضی کی کہانیاں نہ ہوں بلکہ زندہ حقیقت ہوں۔ جہاں ندیاں صرف نقشوں پر نہ ہوں بلکہ اپنی روانی کے ساتھ بہتی نظر آئیں کیونکہ قدرت ہمیں بار بار ایک موقع دیتی ہے مگر ہمیشہ نہیں دیتی۔آج اگر ہم نے پہاڑوں کی خاموشی کو نظر انداز کیا تو کل شاید یہی خاموشی ایک بڑے نقصان کی گواہی بن جائے۔ آج اگر ہم نے درختوں کی آہٹ نہ سنی تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہمیں سوال کریں گی کہ جب وقت تھا تو تم نے حفاظت کیوں نہیں کی۔ترقی ضرور کریں مگر ایسی ترقی جو انسان کو فطرت سے دور نہ کرے۔ تعمیرات ضرور کریں مگر ایسی تعمیر جو حسن کو دفن نہ کرے۔ راستے ضرور بنائیں مگر ایسے راستے جو منزل تک پہنچائیں منزل کو ختم نہ کریں کیونکہ قومیں صرف اپنے شہروں سے نہیں پہچانی جاتیں بلکہ ان پہاڑوں سے بھی پہچانی جاتی ہیں جنہیں وہ محفوظ رکھتی ہیں اور اگر کبھی تاریخ نے پاکستان کے اس دور کا فیصلہ لکھا تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنی عمارتیں بنائیں۔؟ بلکہ سوال یہ ہوگا کہ جو جنت ہمیں امانت میں ملی تھی ہم نے اسے آنے والی نسلوں کے لیے کتنا محفوظ چھوڑا؟

مزیدخبریں